پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحت

ایم ایس میو ہسپتال اغوایا محکمہ اینٹی کرپشن کی زیرتحویل؟معاملہ مزیدگھمبیر

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب نے میو ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر مدبر ریحان کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق میو ہسپتال کے ایم ایس کے خلاف کارروائی ڈاکٹر احمد کمال کی جانب سے دائر درخواست کی بنیاد پر کی گئی۔

 

ترجمان کا کہنا ہے کہ میو ہسپتال میں مبینہ کرپشن سے متعلق ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کی گئیں۔

اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ڈاکٹر مدبر ریحان کو انکوائری کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم وہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے جس پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ مبینہ کرپشن سے متعلق سامنے آنے والی ویڈیو کے حوالے سے تفتیش جاری ہے جب کہ مزید شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔

دریں اثنا میو ہسپتال کے حاضر سروس میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالمدبر رحمان کے مبینہ اغواء کےخلاف تھانہ گوالمنڈی لاہور میں مقدمہ کی درخواست جمع کرادی گئی۔

درخواست میو ہسپتال کے سکیورٹی سپروائزر کی جانب سے جمع کرائی گئی جس کےمطابق نامعلوم افراد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو ہسپتال کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے،درخواست کے مطابق دوپہر تقریباً 3 بجے دفتر کے باہر دو نجی گاڑیاں آکر رکیں ایک گاڑی پر نمبر پلیٹ موجود نہیں تھی، دوسری گاڑی پر نمبر پلیٹ نصب تھی، گاڑیوں سے 6 افراد اترے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع یا اجازت کے ایم ایس دفتر میں داخل ہوئے۔

​ گریڈ 19 کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالمدبر رحمان کو زبردستی دفتر سے باہر نکال کر گاڑی میں بٹھایا گیا، نامعلوم افراد نے اپنی شناخت یا کسی قانونی حکم نامے کے متعلق ہسپتال انتظامیہ کو کچھ نہیں بتایا، کارروائی سے قبل یا بعد میں چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، وائس چانسلر یا ایڈمن کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جا رہی ہے، پولیس کے حوالے کی جائے گی، غیر قانونی اقدام پر فوری مقدمہ درج کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج، داخلی و خارجی ریکارڈ اور بیانات تفتیش کا حصہ بنائے جائیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button