پاکستانتازہ ترین

 پنجاب اسمبلی : حکومتی رکن کی عمران سے متعلق نازیبا زبان، پی ٹی آئی  کا احتجاج،استعفوں کی دھمکی

اپوزیشن کا  کارروائی کا بائیکاٹ ،حکومت اپنے بلائے ہوئے اجلاس کیلئے کورم پورا نہ کر سکی

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے علاج کا معاملہ پنجاب اسمبلی میں بھی پہنچ گیا ،ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن اراکین نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج اور بعد ازاں ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔
 حکومت اپنے بلائے ہوئے اجلاس کے لئے کورم پورا نہ کر سکی اور اجلاس کی مزید کارروائی پیر کے روز تک ملتوی کر دی گئی۔
 پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت کی بجائے 2گھنٹے 5منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا ۔سپیکر کی ہدایت پر رواں اجلاس کی کارروائی چلانے کے لئے سمیع اﷲ خان، ملک احمد سعید ، شوکت راجہ، افتخار احمد چھچھر، ذوالفقار علی شاہ اور ارشد ملک پر مشتمل چھ رکنی پینل آف چیئر پرسنز کے ناموں کا اعلان کیا گیا ۔
اجلاس کے آغاز پر ایوان میں ڈپٹی ظہیر اقبال چنڑ کے والد ، بیرسٹر گوہر علی خان کی والدہ سمیت دیگر کی ارواح کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔پارلیمانی سیکرٹری ملک وحید احمد نے محکمہ اوقاف و مذہبی امور سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔
اجلاس کے دوران حکومتی رکن کی جانب سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق نازیبا زبان کااستعمال کیا گیا جس پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے سخت ایکشن لیتے ہوئے تنبیہ کی کہ اگر کسی بھی سیاسی قیادت کے خلاف دوبارہ جملے بازی ہوئی تو اسے برداشت نہیں کروں گا ،میں ایوان میں کسی کی تضحیک کی اجازت نہیں دوں گا اور ایسا کرنے والے رکن کو ایوان سے باہر نکال دیا جائے گا۔
اجلاس میں قائد حزب اختلاف معین ریاض قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج ہماری ریڈ لائن ہے، بانی پی ٹی آئی تین سال سے قید اوردس ماہ سے علیل ہیں،ایک شخص کی صحت کا مسئلہ ہے، حکومت کو سمجھ کیوں نہیں آ رہی ،بانی پی ٹی آئی کے علاج میں غفلت ناقابل قبول ہے،حکومت نے توہین عدالت کی ہے اسے اس کی سزا ملنی چاہیے،بانی پی ٹی آئی کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو سخت سزا دی جائے،ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
 انہوں نے کہا کہ کفر کا نظام تو چل سکتا لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، ساری دنیا نے گواہی دی کہ جمعرات کی رات بدترین سیاہ رات تھی، سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کو فارم سینتالیس کی حکومت نے ہوا میں اڑا دیا، پی ٹی آئی عمران خان کے علاج کے لئے 25مرتبہ ہائیکورٹ اور17بار سپریم کورٹ گئی تو پھر اس کے بعد آرڈرز جاری ہوئے کہ شفا ء انٹر نیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے، فارم سینتالیس کی حکومت نے جس طرح سپریم کورٹ کے احکامات کا مذاق بنایا اس کی مثال نہیں ملتی۔
 عمران خان کے علاج کے معاملے پرحکومتی رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے شفا ء انٹر نیشنل ہسپتال لے جاکر علاج کرنے کی ہدایت کی تو پتہ نہیں کیوں غیر یقینی صورتحال بنی، حکومتی رویہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا پہیہ کب بدل جائے اﷲ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،ججز کو اپنے فیصلوں پر کھڑے ہوجانا چاہیے ،اگر فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہو تو پھر عدالتوں کا کیا فائدہ ہے، ملک کا سسٹم تباہی کی طرف جا رہا ہے ،ملک ایسے نہیں چلتے ،امن و امان کی صورتحال ابتر ہے ،کوئی ادارہ اچھے طریقے سے کام نہیں کررہا۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو دھکا دیا جا رہا ہے تاکہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں، ایک جماعت اور لیڈر شپ کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے ہمیں مجبور نہ کریں کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں۔ انہوں نے کہا کہ یاسمین راشد کینسر کی مریضہ ہیں،اعجاز چوہدری گردوں کے مرض میں مبتلا ہیں،عالیہ حمزہ ،میاں محمود الرشید ، عمر سرفراز چیمہ ، شاہ محمود قریشی جیل میں ناحق قید ہیں،ہم جمہوریت کا فراڈ بے نقاب کرکے اسمبلیوں سے استعفیٰ دیدیں گے۔
آپ اراکین کو عمران خان کی صحت پر بات کرنے کی اجازت دیں وگرنہ ہم اجلاس کا بائیکاٹ کردیں گے، اس دوران اپوزیشن نے مزید بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج شروع کر دیا اور اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے ، اس دوران اپوزیشن اراکین رہا کرو ،رہا کرو خان کو رہا کرو ، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی کے نعرے لگاتے رہے۔
 احتجاج کے دوران ہی اپوزیشن اراکین ایوان سے باہر چلے گئے اور اپوزیشن رکن کرنل (ر)شعیب امیر نے کورم کی نشاندہی کر دی۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا ، کورم پورا ہونے پر دوبارہ اجلاس کا آغازکیا گیا تاہم اپوزیشن کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کورم کی نشاندہی کی گئی اور تعداد پور ی نہ ہونے پرپینل آف چیئر پرسن ملک احمد سعید نے اجلاس سوموار کی دوپہر 2بجے تک ملتوی کردیا۔
Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button