انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاسائنس و ٹیکنالوجیکاروبارکالم

”دجال کی عالمگیر شیطانی حکومت “ کا قیام(حصہ دوم)

تحریر:محمد قیصر چوہان

نیو ورلڈ آرڈر کے تحت امریکہ، اقوام متحدہ، آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک، ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن اورنیٹو فورسزجیسی کٹھ پتلیوںکے ذریعے دنیا پر ”دجال کے شیطانی نظام “کو نافذ کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے،جسمانی تفریح کی اقسام کو محدود کریں جو ڈیجیٹل نہیں ہیں ، اس طرح آمنے سامنے رابطے میں کمی ، کمیونٹی کو تباہ کرنا اور تفریح کی فعال شکلوں کو محدود کرنا۔لوگوں کو گھر سے کام کرنے دیں تاکہ وہ براہ راست سماجی تعامل کو محدود کریں اور لوگوں کو دفتر کی غلامی میں واپس آنے پر شکر گزار محسوس کریں۔تنہائی کے جذبات میں اضافہ کریں تاکہ لوگ اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ کم جڑے ہوئے اور کم متحد محسوس کریں۔بڑے پیمانے پر اجتماعات ،سخت اقدامات کے خلاف بغاوت کو محدود کریں۔

مذہبی عبادت اور اجتماع کو محدود کریں ، روحانیت کو تباہ کرنے اور سائنس کو بطور نئے مذہب کے آگے بڑھانے کا کام۔ ٹی وی اور ویڈیو گیمز کے سامنے لوگوں کو مصروف رکھیں ، اس طرح لوگ زیادہ غیر فعال ، سست اور گونگی آبادی پیدا کریں۔ ریاستی سپانسر شدہ پروپیگنڈے کو نشر کرنے کے لیے اس موقع کا استعمال کریں ، تاکہ مرکزی دھارے کی داستان کو برقرار رکھا جاسکے اور لوگوں کو اندیشہ زدہ،خوفزدہ رکھا جائے اور اس طرح زیادہ آسانی سے کنٹرول کیا جا سکے۔

لوگوں کو نیٹ فلکس،ایمیزون پرائماورڈزنی پلس جیسے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا عادی بنائیں تاکہ عوام کو ذہنی پیغام رسانی اور پیش گوئی کرنے والے پروگرامنگ سے کنٹرول کیا جا سکے۔انسان کے بجائے کمپیوٹر اور روبوٹس کا استعمال تاکہ لوگ روبوٹک ویب چیٹ خدمات کی طرف بڑھتے ہوئے کسٹمر سروسز کو تیزی سے ڈیجیٹالائز کریں۔

آمنے سامنے مواصلات کو محدود کریں اور ہمیں تیزی سے ڈیجیٹل مواصلات کی طرف لے جائیں (زوم ، سوشل میڈیا وغیرہ)۔ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی لت لگایں اور اس کے انحصار میں اضافہ کریں۔ ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو فروغ دینے کے لیے مین اسٹریم میڈیا اور مشہور شخصیات کی توثیق کا استعمال کریں ، لوگوں کو پریشان رکھیں اور گھر میں نظربندی کو مزید خوشگوار بنائیں۔

زیادہ بیہودہ طرز زندگی کو فروغ دیں ، جہاں لوگ غیر فعال ، سست اور کمزور ہو جائیں اور اپنے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوں۔ سورج کی روشنی لینا ، تازہ ہوا لینا اور ورزش کو محدود کریں ، اس طرح میڈیکل اسٹیبلشمنٹ پر زیادہ بیمار آبادی پیدا ہوتی ہے اور دواسازی کی صنعت کی جیب کو مزید بڑا کرتا ہے ۔ان بزرگوں کو نشانہ بنائیں جنہیں معیشت پر بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ ان کواولڈ ہومز میں قید میں رکھیں تاکہ خراب صحت ان کو موت کی طرف لے جائے اور انہیں معاشرے اور ان کے خاندان کے افراد سے دور رکھیں تاکہ وہ مزید جلدی موت کا شکار ہوں۔

1990 کے بعد سے بڑی تیزی کے ساتھ زندگی کی ہر شعبے میں تبدیلی آئی ہے۔دجالی نظام دنیا کی اقتصادی صورتحال سے تعلق رکھتا ہے۔ لیکن اس نظام کو ایک ضابطہ حیات کے طور پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ اخلاقیات اور دینی اعتبار سے اس کے راستے میں واحد رکاوٹ چونکہ اسلام ہے چنانچہ اسلام کی ان تعلیمات کو یکسر ختم کرنے پر زور دیا گیا جو دجال نظام کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ لوگوں کی طرز زندگی کو مکمل طور پردجالی نظام کے سانچے میں ڈھالنا عالمی اداروں کا ہدف ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ معاشرے کے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ہر شعبے میں محنت کی گئی ہے جو اب تک جاری ہے۔ لوگوں کا پہناوا کھانے پینے کے اوقات، سونا جاگنا، طرزِ رہائش انسان کی ذاتی زندگی ، شادی کب ہونی چاہیے، بچے کتنے ہونے چائیے، خواہشات میں اضافہ یہ تعلقات کی بنیاد، کاروبار کے طور طریقے، ان تمام باتوں میں لوگوں کو کھینچ کر دجالی نظام میںشامل کیا گیا۔صرف یہی نہیںبلکہ عالمی اداروں کے ذریعے اس نظام کو بدمعاشی سے دنیا میں نافذ کرایا جا رہا ہے۔ بلکہ اس کے علاوہ کسی اور مذہب کو بحیثیت طرزِ زندگی یا ضابطہ حیات کے اختیار کرنے پر باقاعدہ جنگوں کا اعلان کیا گیا اور ان قوموں کا کھانا پانی بند کرنے سے لے کر ادویات تک اور پھر ان ممالک پر قبضہ کر کے وہاں دجالی نظام طاقت کے زور پر نافذ کیا گیا۔ اس کے بعد اس کی حفاظت کے لیے تمام دنیا کی فوج کو وہاں تعینات کر دیا گیا۔

سودکانظام دجالی نظام کی جان ہے۔ لہٰذا دنیا بھر میں اس سودی نظام کے علاوہ غیر سودی نظام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ البتہ نام کے ساتھ اپنے مروجہ مذہب کا نام لگانے کی اجازت ہے۔ مثلاً ہندو بینک ، خالص رومن کیتھولک بینک ، اسلامی بینک وغیرہ۔ لیکن نظام سودی ہی رہنا چاہیے البتہ اصطلاحات تبدیل کرنے کی اجازت ہے۔عورت کو عزت کی چوٹیوں سے گرا کر فٹ پاتھوں، سڑکوں اور لمبی لمبی قطاروں میں خوار کرنا اور بغیر روک ٹوک کے مرد کی خواہشات کی تکمیل دجالی نظام کاحصہ ہے۔ دنیا بھر میں دجالی نظام کے تحت ایک عالمی حکومت کا قیام اورپھر ایسا نظام جس کو ایک عالمی حکومت کنٹرول کر رہی ہو، مستقل غیر منتخب موروثی چند افراد کی حکومت کے تحت ہو گا۔ جس کے امکان قرونِ وسطی کے سرداری نظام کی شکل میں اپنی محدود تعداد میں خود کو منتخب کرینگے۔ اس ایک عالمی وجود میں آبادی محدود ہو گی اور فی خاندان بچوں کی تعداد پر پابندی ہوگی۔

وہاں جنگوں اور قحط کے ذریعے آبادی کنٹرول کی جائے گی۔ یہاں تک کہ صرف ایک ارب نفوس رہ جائیں جو حکمران طبقے کے لیے کارآمد ہوں۔ اور ان علاقوں میں ہوں گے جن کا سختی اور وضاحت سے تعین کیا جائے گا۔ اور جہاں وہ دنیا کی مجموعی آبادی کی حیثیت سے رہیں گے۔ کوئی متوسط طبقہ نہیں ہوگا۔ صرف حاکم اور محکوم ہوں گے۔ تمام قوانین دنیا کی سچی عدالتوں میں ایک جیسے ہوں گے ان پر عملدرآمد ایک عالمی حکومت کی پولیس اور متحدہ عالمی جوج کے ذریعے تمام سابقہ ممالک میں ہو گا۔ لیکن اب کسی طرح کی قومی سرحدیں نہیں ہونگی۔ نظام ایک فلاحی ریاست کی بنیادوں پر استوار ہوگا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button