انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

صیہونیوں کا وکیل اللہ کی عدالت میں پیش

شاہد جاوید ڈسکوی/دستک

صیہونی درندگی، استعماری منافقت اور عالمی سفاکیت کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، امریکی مقتدرہ کے ایوانوں میں بیٹھے ان سیاہ کار چہروں کا ذکر سب سے اوپر ہوگا جنہوں نے اپنے قلم، زبان، سیاسی رسوخ اور اقتدار کی طاقت سے معصوموں کے قتلِ عام کو جائز قرار دیا۔

صیہونی ریاست کا سب سے بڑا وکیل، انسانیت کا مجرم اور مظلوموں کی نسل کشی کا سب سے بڑا سفارتی سرپرست، امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم بالآخر موت کے ہولناک منہ میں چلا گیا ہے۔ اس کی موت محض ایک بائیولوجیکل وجود کا دنیا سے اٹھ جانا نہیں ہے بلکہ یہ ظلم، فرعونیت، کبر اور تکبر کے ایک عبرت ناک اور شرمناک باب کا مستقل بند ہونا ہے۔

بیشک، بیشک، بیشک، اس کائنات کا یہ اٹل، غیر متبدل اور ابدی قانون ہے کہ دنیا کی مہلت چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، مہلت کی رسی چاہے کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو، ہر جابر کو ایک نہ ایک دن مٹی کا رزق بننا ہی ہوتا ہے اور زمین کا کوئی بھی فرعونِ وقت موت کے پنجے اور خدائی پکڑ سے فرار حاصل نہیں کر سکتا۔

لنڈسے گراہم نے اپنی پوری سیاسی زندگی واشنگٹن کے پرآسائش ایوانوں میں بیٹھ کر اس ناجائز، غاصب اور دہشت گرد صیہونی ریاست کی چوکیداری، وکالت اور دلالت میں گزار دی جس کے ہاتھ لاکھوں معصوم فلسطینیوں، بے گناہ بوڑھوں، ممتا سے محروم کی جانے والی ماؤں اور مٹی میں رولے جانے والے شیر خوار بچوں کے پاکیزہ اور معصوم خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

یہ وہ سنگدل، شقی القلب اور سفاک شخص تھا جس نے کبھی اسرائیل کو دی جانے والی اربوں ڈالر کی سالانہ امداد، مہلک ترین بارود اور نسل کشی کے لیے استعمال ہونے والے جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی میں ایک سیکنڈ کی رکاوٹ بھی برداشت نہیں کی۔ یہ اسی اور اس جیسے سفاکوں کے دستخط تھے جن کی بدولت غزہ کی ہنستی کھیلتی بستیوں کو ملبے کے ڈھیر، ہسپتالوں کو مقتل گاہوں اور سکولوں کو اجتماعی قبرستانوں میں تبدیل کیا گیا۔

جب بھی مظلوموں پر فاسفورس بم برسائے گئے، جب بھی پناہ گزین کیمپوں پر رات کے اندھیرے میں قیامت ڈھائی گئی اور جب بھی انسانیت سسک اٹھی، ہم نےدیکھا کہ لنڈسے گراہم امریکی سینیٹ کے مائیک پر پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ کھڑا ہو کر جلادوں، قاتلوں اور غاصبوں کے دفاع میں زہر اگل رہا ہوتا تھا۔

اس نے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے شعلوں میں جھونکنے کے لیے ایران کے خلاف جارحیت کی ہر حد پار کی، القدس کی حرمت کو پامال کرنے کے لیے امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے جال بنے اور نام نہاد "ابراہیمی معاہدوں” کے پردے میں امتِ مسلمہ کی پیٹھ میں وہ خنجر گھونپا جس کا زہر آج بھی مسلم امہ کے وجود میں سرائیت کر رہا ہے۔ یہ وہ اندھی صیہونی غلامی تھی جس نے اس کی عقل پر تالے ڈال دیے تھے اور اسے انسانیت کے بنیادی ترین اصولوں سے بھی اندھا، بہرا اور گونگا کر دیا تھا۔

دنیا بھر کی نام نہاد عدالتیں، بین الاقوامی قوانین کے کھوکھلے ضابطے، اقوامِ متحدہ کی منافقانہ اور بے اثر قراردادیں اور عالمی برادری کا دوہرا اور شرمناک معیار اس جابر کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔ وہ دنیا کے ہر قانون کو اپنے بوٹوں تلے روندتا رہا، انسانی حقوق کے چارٹر کا مذاق اڑاتا رہا اور ہر سفارتی عدالت سے عالمی غنڈہ گردی کے بل بوتے پر صاف بچ نکلتا رہا لیکن مظلوموں کا خون اتنا سستا نہیں ہوتا کہ اسے بہا کر کوئی چین کی نیند سو سکے۔

آج جب اس کی آنکھیں بند ہو چکی ہیں، اقتدار کا سحر ٹوٹ چکا ہے، سینیٹ کی کرسی چھوٹ چکی ہے اور سانسوں کی ڈوری ہمیشہ کے لیے کٹ چکی ہے تو وہ قادرِ مطلق کی عدالت میں پیش ہے جہاں کا نظامِ عدل کسی دنیاوی لابی، کسی امریکہ اسرائیل پبلک ریلیشنز کمیٹی( AIPAC ) یا کسی ویٹو پاور کا محتاج نہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص فلسطین کے مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم میں لنڈسے گراہم ہو یا اس کے تمام ہمنوا اور اتحادی، یہ سبھی دنیا کی عدالت سے تو بچ جائیں شاید لیکن احکم الحاکمین کی اس عدالت سے کیسے بچیں گے جہاں نہ کوئی ویٹو پاور کام آئے گی اور نہ ہی دنیاوی اثر و رسوخ۔

وہاں نہ واشنگٹن کا سفارتی تحفظ کام آئے گا نہ پینٹاگون کے ہتھیار کام آئیں گے، نہ وائٹ ہاؤس کی آشیرباد کام آئے گی اور نہ ہی اسرائیل نوازی کا وہ فرعونی غرور کام آئے گا جو وہ دنیا میں دکھایا کرتا تھا۔ وہاں صرف مظلوموں کی آہیں ہوں گی، یتیموں کے آنسو ہوں گے، بیواؤں کی پکار ہوگی اور غزہ کے ملبے سے نکلنے والا معصوم شہداء کا وہ بہتا ہوا پاکیزہ خون ہوگا جو اس کے گلے کا ایسا طوق بنے گا جس سے چھٹکارا اب ابد تک ممکن نہیں۔

ہمارا یہ پختہ اور غیر متزلزل ایمان ہے کہ اللہ رب العزت کی لاٹھی بے آواز ہے اور اس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ تاریخ کا یہ سبق روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے اور جب مظلوم کی آہ عرشِ الٰہی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے تو پھر بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے اقتدار کے نشے میں چور رہنے والے صیہونی فرعون یہ بھول جاتے ہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ کہاں ہے اور کائنات کا حقیقی اور واحد حکمران کون ہے۔

آج ایک اور ظالم اپنے بھیانک اور عبرت ناک انجام کو پہنچ کر تاریخ کے تاریک ترین کوڑے دان کا حصہ بن چکا ہے لیکن دوسری طرف دیکھو کہ فلسطین کے غیرت مند، غیور اور سرفروش عوام آج بھی تمام تر مظالم، بھوک، پیاس اور بمباری کے باوجود اپنی مقدس زمین پر چٹان کی طرح ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ صیہونی طاقتیں اور ان کے تمام مغربی سرپرست چاہے جتنا زور لگا لیں، جتنا بارود اکٹھا کر لیں، فلسطین کے شہداء کا پاکیزہ اور مقدس لہو رنگ لائے گا، ظلم کی یہ کالی اور طویل رات ختم ہوگی، باطل پسپا ہوگا اور فتحِ مبین بالآخر حق اور اسلام ہی کی ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button