گلگت بلتستان میں شفاف الیکشن چاہتے، فارم 47 کا بندوبست خود کروں گا: بلاول
فیلڈ مارشل کی کامیابی کیلئے دعا گو، جی بی میں امید ہے اس بار پیپلز پارٹی کی سیٹ چوری نہیں ہوگی ، ملک بھر کے فیصلے وفاق میں بیٹھے بابو کو کرنیکا کوئی حق نہیں:شگر میں خطاب

شگر:(ویب ڈیسک) چیئر مین پیپلز پار ٹی بلاول بھٹو نے گلگت ،بلتستان اور آزادکشمیر کا الیکشن عام انتخابات کے ساتھ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ وفاق میں بیٹھے بابو کو ان علاقوں کے تمام فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔
وزارتیں بنائی ہیں تو انھیں بااختیار بھی ہونا چاہیے ۔ امید ہے جی بی میں پیپلز پارٹی کی سیٹ چوری نہیں ہوگی ۔پاکستان نے معرکہ حق میں شاندار فتح حاصل کی ۔ فیلڈ مارشل کی تما م محاذوں پر کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ۔
ایران پر حملہ اور اعلی سول و عسکری قیادت کو شہید کرنا انتہائی قابل مذمت ہے ۔ خطے میں امن کےلئے کی جانے والی پاکستانی کوششوں کے بھرپور حامی ہیں ۔ حلقہ جی بی اے 12 شگر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کی فلاح کے لئے کام کر تی ہے ۔
شہید بینظیر بھٹو نے گلگت بلتستان کے حقوق کے لئے ہمیشہ آواز اٹھائی ۔ انہوں نے کہا جئے بھٹو کے نعرے کی طاقت سے پاکستان ایٹمی قوت بنا ۔ انہوں نے کہا گلگت بلتستان کی تین نسلوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا ۔ گزشتہ عام انتخابات دھاندلی کی نذر ہونے کی وجہ سے یہاں پیپلزپار ٹی کی نشستوں کو ناکام کیا گیا ۔ تاہم آنے والے الیکشن میں عوام پیپلز پار ٹی کے نمائندوں کو کامیابی دلوا کر اپنے لئے ترقی اور بہتری کی رائیں ہموار کریں ۔
انہوں نے کہا ہے کہ آج بھی ہمار امطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں، آپ کو فارم 45 ہاتھ میں لے کر واپس جانا ہے، آپ نے میرا ساتھ دینا ہے، فارم 47 کا بندوبست میں خود کروں گا۔یقین ہے ان الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں ہوگی ۔ اور ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہو گی انہوں نے کہا کچھ سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں شگر کے جو و سائل پر انکا حق ہے ۔ ایسی سیاسی جماعتیں وفاق سے شگر کے امور بھی چلانا چاہتی ہیں ۔ حا لا نکہ وفاق میں بیٹھے بابو کو پورے ملک کے تمام فیصلے کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ۔
اگر ایسا کرنا ہے گلگت ، آزاد کشمیر کی وزارتیں ختم کر دی جائیں ۔ وفاق ہمیشہ کہتا ہے کہ اس کے پاس وسائل نہیں ۔ اگر وفاق کنگال ہے تو بے اختیار وزارتیں بنانے کا کیا فائدہ ہے ۔ وزارتوں کو باختیار بنایا جانا چاہیے ۔وہ ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہتے ہیں، گوادر اور کراچی کو بھی اسلام آباد سے چلوانا چاہتے ہیں، اسلام آباد والے جو فیصلے کرتے ہیں آپ نے اس کا نقصان بھگتا ہے، میں چاہتا ہوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا فیصلہ اسلام آباد میں بیٹھا بابو نہیں،آپ کریں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور ہے کہ گلت بلتستان کے عوام کو ان کا حق دلوانا ہے، ہمیں گلگت بلتستان کے عوام کو حق حاکمیت دلانا ہے، جب گلگت بلتستان اور پاکستان کا الیکشن ساتھ ہوگا تو پھر صحیح معنوں میں حقِ حاکمیت یقینی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے الیکشن اسی وقت ہوں جب پاکستان میں جنرل الیکشن ہوں، آج شگر کے عوام کے پاس واپس آیا ہوں۔ انہوں نے کہ جو ہمیں مٹانا چاہتے تھے یہاں کے عوام کی وجہ سے ان کی تمام سازشیں ناکام ہوئیں، شہید ذوالفقار بھٹو نے سب سے پہلے عوام کے لیے جدوجہد کی اور حقوق دلائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پہلا متفقہ آئین دلوایا تھا، بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے پسماندہ طبقوں کی نمائندگی کی، پاکستان ایٹمی قوت بن کر آج دنیا کے سامنے مضبوط ہو کر کھڑا ہے، قائدِ عوام نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پر عمل بھی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر یہاں آپ کا ساتھ مانگنے آیا ہوں، آپ نے پیپلز پارٹی کو کبھی مایوس نہیں کیا، پچھلی بار ہمارا پْرجوش استقبال کیا گیا، میں تو پوری پی ڈی ایم کو ناراض کر کے آپ کے پاس آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کہ اگر شگر کے عوام کو اختیار دیا جائے گا تو یہاں کے عوام معاشی طور پر ترقی کریں گے، اسلام آباد والے سمجھتے ہیں کہ ہر چیز ان کی ہے، جو کام 90ء کی دہائی میں کرنا تھا وہ کام 2015ء میں شروع کیا، تھرکول واحد ہے جہاں اختیار صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کے پاس ہے، جس سے پہلے تھر پارکر کے عوام، پھر سندھ اور پورے پاکستان کا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لائے۔
شگر سے لے کر بلوچستان کے ساحلوں تک خواتین کو سایہ ملتا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا تحفظ صرف پیپلزپارٹی کرسکتی ہے، دیگر جماعتیں کسی نہ کسی طرح بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتی ہیں، اب ان کی نئی سوچ ہے کہ یہ پروگرام صوبوں کے حوالے کریں، دنیا بھر میں وفاقی حکومت یہ ذمہ داریاں اٹھاتی ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو صوبوں کے حوالے کرنے کا مطلب پروگرام بند کرنا ہے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا میں بطور وزیر خارجہ افغانستان کو کہتا تھا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ماڈل بنائیں اور غریبوں کی مدد کریں، یہاں ایسی سیاسی جماعتیں جو اپنے ہی کامیاب منصوبے کو بند کرنےکی سازش کررہی ہیں، لیکن ہم ان کی تمام سازشیں ناکام بنائیں گے۔
بلاول نے معرکہ حق میں پاکستان کی شاندار فتح کو سرہاتے ہوے کہا کہ اس معرکے میں بھی پیپلز پارٹی اپنی عسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ۔ ہم ہر محاذ پر فیلڈ مارشل کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ۔ بلاول نے ایران پر امریکی حملے اور جنگ میں ایرانی سول و عسکری قیادت کو شہید کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا اس طرح کے حملہ ناقابل جواز ہے ۔ ہماری دعائیں ایرانی سوگواران کے ساتھ ہیں ۔ انہوں نے خطے میں امن کے لئے پاکستان کی کو ششوں کو سر ہاتے ہوے کہا کہ اس معملے پر پوری قوم یکجا ہے ۔ امید ہے جلد امریکہ ایران معا ئدہ کر لیں گے ۔



