
جنگیں ہمیشہ تباہی لے کر آتی ہیں جو ملک یا قومیں فتح یاب ہو جاتی ہیں ان کا مورال اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ ان کی کمیاں کوتاہیاں دب کر رہ جاتی ہیں آگے بڑھنے کے لیے ان کا جوش وجذبہ جوان ہوجاتا ہے شکست خوردہ قوموں میں مایوسی لازمی عنصر ہوتا ہے لیکن ان میں کچھ لوگ مایوسی کی گہری کھائی میں جا گرتے ہیں لیکن کچھ قومیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو شکست سے نئی زندگی پاتی ہیں وہ اپنی غلطیوں کوتاہیوں کا ازالہ کرتی ہیں اور پہلے سےزیادہ محنت کرکے جلد ہی اپنے پائوں پر کھڑی ہو جاتی ہیں ۔
جاپان اس کی بڑی مثال ہے جنگ میں شکست کے بعد انھوں نے ٹیکنالوجی اور مہارت کے ذریعے اس قدر صنعتی ترقی کی کہ دنیا میں اس کا طوطی بولنے لگا جنگوں کا خمیازہ ان ملکوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے جو براہ راست اس میں ملوث ہوں لیکن امریکہ اسرائیل ایران جنگ نے تو ہمسایوں کو دیکھنے والوں کو اور آنکھوں سے اوجھل سب کو متاثر کر رکھا ہے اس جنگ نے سب سے زیادہ توانائی کے بحران کے ذریعے بڑے بڑوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔
چین جاپان بھارت پاکستان سمیت سب بری طرح متاثر ہو رہے ہیں مڈل ایسٹ کے ممالک کا تو سب کچھ سٹیک پر لگا ہوا ہے آبنائے ہرمز کے چھوٹے سے راستے نے دنیا کی تجارت کا کچومر نکال دیا ہے سیاحت تجارت صنعت آمدورفت سب کچھ بند پڑا ہے اور کچھ پتہ نہیں یہ کب تک بند رہے اور کسی کو کچھ پتا نہیں کہ کیا ہونے جا رہا ہے کروڑوں لوگ روز نئی آس امید لے کر اٹھتے ہیں اور سارا دن خبروں کے ساتھ جڑے رہتے ہیں لیکن رات کو پھر مایوسی کی چادر اوڑھ کر سو جاتے ہیں درجنوں بار جنگ بند ہونے اور حالات نارملائز ہونے کی امید باندھتے ہیں لیکن لیڈروں کی ہٹ دھرمی اور بیان بازی سے سب غارت ہو جاتا ہے۔
غیر یقینی کی صورتحال اب پاگل پن کی طرف بڑھ رہی ہے لوگ جنگ بندی کے انتظار میں سولی پر لٹکے ہوئے ہیں ایسے لگتا ہے کہ مذاکرات کا تھیٹر وقت گزارنے کے لیے سجایا گیا ہے دونوں فریقین داو میں بیٹھے ہیں اور اس تاک میں ہیں کہ مخالف کو اونگھ آئے اور وہ اس پر جھڑپ پڑے اس جنگ سے دنیا الٹ پلٹ ہو رہی ہے نئی صف بندیاں جنم لے رہی ہیں ایران امریکہ ایک دوسرے کو چکمے دے کر زیر کرنے کے چکروں میں ہیں کچھ طاقتیں اب سمجھ رہی ہیں امریکہ پھنس چکا ہے اسے مزید پھنسا کر کمزور کیا جائے اور امریکہ یہ چاہ رہا ہے کہ ایران سرنڈر کر جائے اس کشمکش نے خطے کے آڑھائی ارب انسانوں کو ڈسٹرب کر رکھا ہے دنیا پہلے ہی کرونا کے اثرات سے باہر نہیں نکل پا رہی تھی معیشتیں ابھی تک سنبھل نہیں پا رہی تھیں کہ جنگ نے مہنگائی کے جن کو بے قابو کر دیا ہے ۔
بلاشبہ بہت سارے ملکوں میں مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن خلیجی تیل کی بندش نے پاکستانیوں کا تیل نکال دیا ہے 415 روپے لیٹر پٹرول نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رکھا ہے اوپر سے یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ حکومت جنگ کا بہانہ بنا کر آئی ایم ایف کی شرائط پوری کر رہی ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اتنی نہیں بڑھیں جتنی حکومت نے بڑھا دی ہیں حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کے تناسب سے ریٹ مقرر کرنے کی بجائے لیوی میں اضافہ کر دیا ہے اوپر سے وفاقی حکومت کے وزیر کے سچ نے سب کچھ آشکار کر دیا ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے مجبوری میں حکومت کو فیول اور بجلی کی قیمتوں کے ذریعے ٹیکس اکھٹا کرنا پڑتا ہے یہ ایف بی آر اور ٹیکس کولیکشن کی ناکامی ہے جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔
ایک طرف اداروں کی نااہلی ہے بجائے ان کی سرزنش کرنے کے الٹا ان کو ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے نئی گاڑیاں دی جا رہی ہیں کیا پرانی گاڑیوں پر ٹیکس اکھٹا نہیں ہوتا کیا ایف بی آر نے موٹروے پر ریسیں لگا کر ٹیکس اکھٹا کرنا ہے حکمرانوں کو چاہیے ذرا گلی محلوں میں جا کر لوگوں کی چیخیں سنیں مہنگائی لوگوں کا سانس بند کر رہی ہے حکومت کو ملنے والی سب اچھا کی رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں ہم نےبھارت سے جیتی جنگ کے ماحول سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے ہم پاکستان کی اہمیت اور وقار میں اضافہ سے صرف سرشار ہو رہے ہیں اور اسی زعم میں دھمالیں ڈالے جا رہے ہیں کہ ہم بڑے بڑوں کی ثالثی کروا رہے ہیں خدارا مہنگائی اور عوام کے درمیان ثالثی پر بھی توجہ دیں اللہ آپ کا بھلا کرے۔



