
جنوبی ایشیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ عسکری تیاری، سیاسی استحکام، سفارتی بصیرت اور قومی وحدت کے امتزاج سے برقرار رہا ہے۔ جب بھی کسی ریاست نے محض عددی برتری، معاشی حجم یا جارحانہ بیانیے کے سہارے اپنے ہمسایوں کو زیر ِ نگیں لانے کی کوشش کی، خطے میں بے یقینی، بداعتمادی اور تصادم نے جنم لیا،بھارت گزشتہ کئی برسوں سے ایک منظم بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کرتا رہا کہ پاکستان اندرونی انتشار، معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور دہشت گردی کے باعث ایک غیر مستحکم ریاست بن چکا ہے۔
عالمی سطح پر بھارتی سفارت کاری کی کوشش رہی کہ پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کیا جائے، اسے ایک غیر ذمے دار ایٹمی ریاست کے طور پر پیش کیا جائے اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ جنوبی ایشیا میں امن کی راہ میں اصل رکاوٹ پاکستان ہے، لیکن معرکہ حق نے اس پورے بیانیے کو شدید دھچکا پہنچایا۔ دنیا نے پہلی مرتبہ یہ دیکھا کہ جس پاکستان کو کمزور اور تقسیم شدہ ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، وہ قومی سلامتی کے معاملے پر غیر معمولی اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے۔یہ حقیقت بھی کم اہم نہیں کہ بھارت نے پاکستان کے داخلی اختلافات کو اپنی اسٹرٹیجک برتری سمجھ رکھا تھا۔ اسے یقین تھا کہ سیاسی تقسیم اور معاشی دبائو نے پاکستان کو موثر ردعمل دینے سے روک دے گا، مگر جب دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں پوری قوم یکجا ہوگئی تو یہ منظر خود بھارت کے لیے حیران کن تھا۔
پاکستان کی تاریخ میں شاید کم ہی ایسے مواقع آئے ہوں جب سیاسی تقسیم اس قدر پس منظر میں چلی گئی ہو۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پورے ملک میں یہ احساس نمایاں تھا کہ قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے معرکہ حق کو محض ایک عسکری کامیابی سے بڑھا کر قومی بیداری کی علامت بنا دیا۔آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی نے دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ جدید جنگیں صرف فوجیوں کی تعداد یا ہتھیاروں کے انبار سے نہیں جیتی جاتیں۔
بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑی فوج، وسیع معیشت اور جدید دفاعی سازوسامان موجود ہے، مگر اس کے باوجود پاکستان نے محدود وسائل کے ساتھ جو حکمت عملی اختیار کی، اس نے عسکری ماہرین کو حیران کردیا۔ یہ کامیابی تربیت، نظم، بروقت فیصلہ سازی، انٹیلی جنس ہم آہنگی اور جدید جنگی حکمت عملی کا نتیجہ تھی۔خاص طور پر فضائی اور سائبر محاذ پر پاکستان کی برتری نے ثابت کیا کہ مستقبل کی جنگوں میں ٹیکنالوجی، معلومات اور رفتار فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔ اس دوران پاکستان کی سائبر صلاحیتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جدید دور میں سائبر جنگ روایتی جنگ جتنی ہی اہم ہوچکی ہے، کیونکہ اب صرف سرحدیں ہی نہیں بلکہ معلومات، مواصلات اور ڈیجیٹل نظام بھی حملوں کا ہدف بنتے ہیں۔ پاکستان نے اس میدان میں اپنی تیاری کا جو مظاہرہ کیا، اس نے عالمی مبصرین کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن یکطرفہ نہیں رہا۔
بھارت کے لیے سب سے بڑا دھچکا یہ تھا کہ پاکستان نہ صرف عسکری میدان میں ثابت قدم رہا بلکہ سفارتی سطح پر بھی تنہا نہیں ہوا۔ ماضی میں بھارت کو یہ اعتماد حاصل تھا کہ اس کی معاشی قوت اور عالمی منڈی میں اہمیت کے باعث دنیا اس کے موقف کو زیادہ وزن دیتی تھی، لیکن حالیہ صورتحال میں عالمی طاقتوں نے زیادہ محتاط رویہ اختیار کیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ دنیا اب جنوبی ایشیا میں کسی بڑی جنگ کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے پاکستان کے دفاعی موقف کو سنجیدگی سے لیا۔معرکہ حق نے پاکستانی قوم کو اپنی اجتماعی طاقت کا احساس دلایا ہے۔ ایک طویل عرصے سے ملک سیاسی کشیدگی، معاشی بحران اور سماجی بے چینی کا شکار تھا۔ نوجوان نسل میں مایوسی بڑھ رہی تھی، اداروں پر سوالات اٹھ رہے تھے اور قومی بیانیہ کمزور دکھائی دیتا تھا۔ مگر اس معرکے نے قوم کو یہ یاد دلایا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ اور اجتماعی شناخت کا نام ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دشمن کی جارحیت نے قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے مزید متحد کردیا۔معرکہ حق نے ایک اور حقیقت بھی واضح کردی کہ قومی بیانیہ کسی بھی جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بھارت نے عالمی میڈیا اور لابنگ کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن پاکستان نے نسبتاً بہتر سفارتی اور ابلاغی حکمت عملی اختیار کی۔ مستقبل میں اس شعبے پر مزید توجہ دینا ہوگی، کیونکہ جدید دنیا میں اطلاعات کی جنگ اکثر میدان جنگ سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اگر پاکستان عالمی سطح پر اپنا موقف موثر انداز میں پیش کرے تو وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا بہتر دفاع کرسکتا ہے بلکہ عالمی رائے عامہ کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔معرکہ حق کی پہلی سالگرہ صرف ایک عسکری کامیابی کی یاد نہیں تھی بلکہ ایک قومی عہد کی تجدید بھی ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، نظریاتی شناخت اور علاقائی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ اس معرکے نے قوم کو اعتماد دیا، دشمن کے غرور کو توڑا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔اب اصل ضرورت یہ ہے کہ اس قومی جذبے کو تعمیر و ترقی کی قوت بنایا جائے۔ پاکستان داخلی استحکام، سیاسی مفاہمت، معاشی اصلاحات اور ادارہ جاتی توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو آنے والے برسوں میں وہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالم اسلام میں بھی ایک موثر اور باوقار قیادت کا کردار ادا کرسکتا ہے۔



