انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

لفظوں کی جنگ اور تہذیب کی ہار

بازغہ چشتی

خلیج کی جنگ کے زخم ابھی پوری طرح بھرے بھی نہیں تھے کہ پاکستان ایک اور جنگ میں الجھ گیا۔ یہ جنگ بارود، میزائل اور بندوقوں کی نہیں بلکہ لفظوں، پوسٹوں اور نفرتوں کی جنگ ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں اختلافِ رائے اب دلیل سے نہیں بلکہ تضحیک، تمسخر اور کردار کشی سے جیتا جاتا ہے۔ ہر روز ایک نئی بحث، ایک نیا تنازع اور ایک نئی نفرت جنم لیتی ہے۔ کبھی مرد عورت کے خلاف زہر اگلتے ہیں تو کبھی عورتیں مردوں کے خلاف محاذ کھول دیتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دونوں طرف موجود لوگ اپنی اپنی بدزبانی کو آزادیٔ اظہار کا نام دے کر خود کو درست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کی معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی کو تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا تو سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے اس فیصلے کو سراہا کیونکہ حدیقہ کیانی نے صرف موسیقی کے میدان میں ہی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ سیلاب متاثرین ہوں، زلزلہ زدگان ہوں یا بے گھر خاندان، وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑی رہیں جنہیں اکثر معاشرہ صرف تصویروں میں یاد رکھتا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے لیے گھروں کی تعمیر میں حصہ لیا، امدادی سامان تقسیم کیا اور مشکل وقت میں انسانیت کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ تھی کہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس اعزاز کو ان کی خدمات کا اعتراف قرار دیا۔

مگر ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کسی عورت کی کامیابی کبھی صرف کامیابی نہیں رہتی۔ اس کی صلاحیتوں، خدمات اور فن پر بات کم ہوتی ہے جبکہ اس کی عمر، چہرے، جسم اور ذاتی زندگی کو زیادہ موضوع بنایا جاتا ہے۔ حدیقہ کیانی کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ رعایت اللہ فاروقی کی سوشل میڈیا پوسٹ نے نہ صرف ایک عورت کی تضحیک کی بلکہ عورت کے وجود کو ایک ایسی سطح پر لا کھڑا کیا جہاں احترام، شائستگی اور اخلاقیات دم توڑتی نظر آئیں۔

اس نے اپنی پوسٹ میں ایک باوقار اور کامیاب عورت کو “بوڑھی خاتون” کہہ کر اس کی تذلیل کی۔ اس پست ذہنیت کے مالک نے بدتہذیبی کی انتہا کرتے ہوئے ایک عورت کے چہرے، عمر، آواز اور جذبات کا مذاق اڑایا۔ اس کی تحریر میں عورت کے لیے جو زبان استعمال کی گئی، وہ صرف ایک فرد کی سوچ نہیں بلکہ اس بیمار ذہنیت کی عکاسی تھی جو عورت کو انسان نہیں بلکہ محض ایک جسم سمجھتی ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ رعایت اللہ فاروقی کی یہ پہلی تحریر نہیں تھی۔ وہ اکثر عورتوں کے بارے میں تضحیک آمیز انداز اختیار کرتے رہتے ہیں اور اپنی تحریروں میں طنز، تحقیر اور نفسیاتی برتری کا احساس نمایاں رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حدیقہ کیانی سے متعلق ان کی پوسٹ کو بھی ایک عام رائے نہیں بلکہ عورت دشمن ذہنیت کا تسلسل سمجھا گیا۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے ردعمل میں جو کچھ سامنے آیا، اس نے صورتحال کو مزید خراب کردیا۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی جانب سے لکھی گئی پوسٹ میں مردوں کے بارے میں ایسے اشارے، جملے اور انداز اختیار کیے گئے جو کسی مہذب معاشرے میں مناسب نہیں سمجھے جاسکتے۔ اگرچہ بہت سے لوگ اسے “جوابی وار” قرار دے کر سراہتے رہے اور یہ کہتے دکھائی دیے کہ عورت کی تضحیک کا بدلہ لے لیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کیچڑ کا جواب کیچڑ سے دینے سے معاشرہ صاف نہیں ہوتا بلکہ مزید آلودہ ہوجاتا ہے۔

یہاں مسئلہ صرف ایک مرد یا ایک عورت کی پوسٹ نہیں بلکہ وہ مجموعی زوال ہے جس نے سوشل میڈیا کو تہذیب سے خالی میدان میں تبدیل کردیا ہے۔ ایک طرف عورت کی تذلیل ہورہی ہے تو دوسری طرف جواب میں ایسے جملے لکھے جارہے ہیں جو خود عورت کے وقار کے خلاف محسوس ہوتے ہیں۔ عورت اگر احترام کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے اپنے لہجے اور الفاظ میں بھی وہی وقار قائم رکھنا ہوگا۔ کیونکہ جب جواب بھی اسی سطح پر اتر آئے تو پھر فرق صرف ناموں کا رہ جاتا ہے، رویے ایک جیسے ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کا جس طرح غلط استعمال ہورہا ہے شاید دنیا کے بہت کم ممالک میں ہوتا ہوگا۔ یہاں لوگ اختلاف کو مکالمہ بنانے کے بجائے جنگ بنا دیتے ہیں۔ ہر شخص دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ کبھی یوٹیوبرز کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی اداکاروں کو، کبھی سیاستدانوں کو اور کبھی عام لوگوں کو۔ کسی کی عزت محفوظ نہیں رہی۔ لوگ چند لائکس، ویوز اور شیئرز کے لیے اخلاقیات کی ہر حد پار کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

حدیقہ کیانی کی ذاتی زندگی کو بھی اسی بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے برسوں پہلے ایک بچے کو گود لیا، اسے اپنی اولاد کی طرح پالا، محبت دی، تعلیم دی اور زندگی دی۔ آج وہ نوجوان اکیس برس کا ہے مگر سوشل میڈیا پر لوگ اس رشتے تک کو متنازع بنانے میں مصروف ہیں۔ کوئی “نامحرم” کی بحث چھیڑ رہا ہے، کوئی طنز کررہا ہے اور کوئی ایک ماں کی ممتا تک کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں ایک عورت اگر کسی بچے کو سہارا دے تب بھی اسے سکون نہیں ملتا۔

شہرت بظاہر بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت میں یہ اکثر ایک بہت گہری اذیت بھی بن جاتی ہے۔ لوگ مشہور شخصیات کی کامیابیاں تو دیکھتے ہیں مگر ان کے زخم نہیں دیکھتے۔ ہر مشہور انسان سوشل میڈیا کی عدالت میں کھڑا ہوتا ہے جہاں ہر شخص خود کو جج سمجھتا ہے۔ یہاں کسی کے فن، خدمات یا انسانیت کی قدر کم اور اس کی کردار کشی میں دلچسپی زیادہ لی جاتی ہے۔

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پوری جنگ میں پاکستان کا تاثر بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ یہاں عورت اور مرد ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ کوئی تہذیب کی بات نہیں کررہا، کوئی برداشت کی بات نہیں کررہا۔ ہر طرف صرف طنز، تضحیک اور نفرت کا شور ہے۔ اس ماحول میں نہ عورت جیت رہی ہے نہ مرد، بلکہ صرف اخلاقیات ہار رہی ہیں۔

اصل مسئلہ صرف ایک پوسٹ یا ایک ردعمل نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو اختلاف کو گالی میں بدل دیتی ہے۔ ایک ایسی سوچ جو عورت کی کامیابی برداشت نہیں کرسکتی، اور ایک ایسا ردعمل جو غصے میں تہذیب کی حدیں بھول جاتا ہے۔ حدیقہ کیانی کو تمغۂ امتیاز ملنا ان کی فنی اور انسانی خدمات کا اعتراف تھا، مگر ہمارے معاشرے نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ یہاں کامیابی سے زیادہ کردار کشی کو اہمیت دی جاتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button