انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

خواتین کی تعلیم اور خودمختاری، قومی ضرورت

عمران حیدر

آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے دور میں خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری محض ایک سماجی نعرہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ ہمارے روایتی معاشرے میں آج بھی کئی خواتین فرسودہ قبائلی اور خاندانی روایات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں، جو نہ صرف ان کی ذاتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ پورے معاشرے کی رفتار کو بھی سست کر دیتی ہیں۔ یہ سوچ کہ مرد ہی عورت کا واحد کفیل ہے، موجودہ دور کے غیر یقینی معاشی حالات میں حقیقت پسندانہ نہیں رہی۔ زندگی میں کسی بھی ناگہانی صورت ِحال، جیسے کفیل کی بیماری یا وفات کی صورت میں، ایک غیر تعلیم یافتہ عورت خود کو مکمل طور پر بے بس اور معاشی و سماجی ناانصافیوں کے حصار میں پاتی ہے، اس لیے خواتین کی خود کفالت ان کی بقا اور وقار کی بنیادی ضمانت ہے۔
اسلامی تعلیمات اور تاریخ اس حوالے سے ہماری واضح رہنمائی کرتی ہیں، جہاں علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر یکساں فرض قرار دیا گیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ کی کامیاب تجارت اور حضرت عائشہؓ کی علمی بصیرت اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اسلام نے خواتین کو کبھی بھی صرف گھر کی چار دیواری تک محدود رہنے کا حکم نہیں دیا بلکہ انہیں معاشرے کا ایک فعال اور باوقار حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔ خواتین کا معاشی طور پر مستحکم ہونا کسی کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ ایک متوازن اور مضبوط خاندان کی تشکیل کا پیش خیمہ ہے، جس سے ان کی عزتِ نفس اور خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے قابل بنتی ہیں۔

قیادت اور حوصلے کی داستانیں ہمیں بتاتی ہیں کہ جب خواتین کو موقع ملے تو وہ ہمالیہ جیسی رکاوٹوں کو بھی عبور کر سکتی ہیں۔ بینظیر بھٹو کا مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بننا، مریم نواز شریف کی سیاسی جدوجہد،ثمینہ بیگ کا بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنا اور منیبہ مزاری کا جسمانی معذوری کے باوجود امید کا نشان بننا اس بات کی علامت ہے کہ خواتین صرف شریکِ سفر نہیں بلکہ قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ یہ مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اصل طاقت جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور ارادی ہوتی ہے، جو تعلیم اور شعور کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنے فیصلے خود کرنے کی ہمت رکھتی ہے بلکہ وہ اپنی پوری نسل کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

آخر میں، اگر ہم واقعی ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی سوچ کے زاویوں کو بدلنا ہوگا۔ لڑکیوں کی تعلیم کو ترجیح دینا، انہیں ہنر سکھانا، کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی کرنا اور کفالت کے تصور کو شراکت داری میں بدلنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ مہنگائی اور معاشی عدم استحکام کے اس دور میں ایک فرد کی آمدنی پر انحصار کرنا عملی طور پر مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا، خواتین کو مضبوط بنانا دراصل پورے معاشرے کو مضبوط بنانا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو محدود کرنے کے بجائے انہیں وہ وسعت دیں جہاں وہ عزت، اعتماد اور وقار کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button