انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیکالم

یوم تکبیر ، قومی وقار کا ناقابل تسخیر استعارہ

کالم نگار: طاہر امبر

28 مئی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے عزم، غیرت، خودمختاری اور دفاعی وقار کا وہ روشن باب ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ یہی وہ دن ہے جب پاکستان نے دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ یہ قوم اپنے دفاع، آزادی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ یومِ تکبیر دراصل قومی حمیت، سائنسی صلاحیت اور قیادت کے جرات مندانہ فیصلے کی علامت ہے۔

جب مئی 1998ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے تو پورے خطے میں طاقت کا توازن بگڑنے لگا۔ عالمی قوتیں پاکستان پر دباؤ ڈال رہی تھیں کہ وہ خاموش رہے، صبر کرے اور ایٹمی تجربات نہ کرے۔ امداد، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کی دھمکیاں دی گئیں، مگر اس نازک گھڑی میں پاکستان نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کے بجائے وقار کا راستہ اختیار کیا۔ قوم نے اپنے سر کو جھکنے نہیں دیا بلکہ چاغی کے پہاڑوں میں اللہ اکبر کی صدا بلند کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔

چاغی کے سنگلاخ پہاڑ آج بھی اس دن کے گواہ ہیں جب پاکستانی سائنسدانوں، انجینئروں اور افواجِ پاکستان نے اپنی شبانہ روز محنت سے ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاع عطا کیا۔ یہ کامیابی کسی ایک فرد یا حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ تھی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور اُن کے رفقاء نے اپنی صلاحیتوں سے ثابت کیا کہ اگر قوم میں جذبہ موجود ہو تو وسائل کی کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔

یومِ تکبیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ آزادی صرف نعروں سے محفوظ نہیں رہتی بلکہ اس کے لیے مضبوط معیشت، جدید سائنس، قومی اتحاد اور دفاعی طاقت درکار ہوتی ہے۔ ایٹمی قوت بن جانا بلاشبہ ایک عظیم کامیابی تھی، مگر اصل امتحان اس طاقت کو ذمہ داری، تدبر اور قومی مفاد کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے اپنے قومی ہیروز کو فراموش کرنا شروع کر دیا ہے۔ قومیں صرف جنگی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ کردار، تعلیم، دیانت اور اتحاد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ہم داخلی انتشار، سیاسی نفرت، کرپشن اور ذاتی مفادات میں الجھے رہے تو ایٹمی طاقت بھی ہمیں اندرونی کمزوری سے نہیں بچا سکے گی۔ یومِ تکبیر کا اصل پیغام یہی ہے کہ قومیں صرف طاقت حاصل نہیں کرتیں بلکہ اُس طاقت کے شایانِ شان کردار بھی اپناتی ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یومِ تکبیر کو محض رسمی تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے قومی بیداری کا دن بنائیں۔ نوجوان نسل کو بتایا جائے کہ پاکستان بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا اور اس کی بقا کے لیے مسلسل جدوجہد ضروری ہے۔ ہمیں اپنے سائنسدانوں، محققین اور نوجوان ذہنوں کو وہ ماحول دینا ہوگا جہاں وہ ملک کو مزید ترقی دے سکیں۔

28 مئی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر قیادت مخلص ہو، قوم متحد ہو اور مقصد بلند ہو تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو جھکا نہیں سکتی۔ چاغی کے پہاڑ آج بھی اعلان کر رہے ہیں کہ یہ ملک صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک عزم اور ایک ناقابلِ شکست حقیقت ہے۔

یومِ تکبیر دراصل اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور وقار پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ یہی وہ دن ہے جب سبز ہلالی پرچم پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے سامنے سربلند ہوا اور قیامت تک سربلند رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button