غزہ: اسرائیلی حملے جاری، مزید 64فلسطینی شہید : مغربی کنارے میں 22نئی یہودی بستیاں تعمیر کرنیکی منظوری
ہزاروں بھوکے فلسطینی اقوام متحدہ کے گودام پر جمع، امداد خود اٹھاکر لے جانے کی کوشش، بھگدڑ سے درجنوں زخمی
غزہ ( ویب ڈیسک ) غزہ میں اسرائیلی فورسز کے تازہ حملوں میں 64فلسطینی شہید ہو گئے۔ قطری نشریاتی ادارے کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا کہ شہدا میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ کے کنڈر گارٹن میں پناہ لیے ہوئے 7افراد بھی شامل ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ کم از کم19 افراد وسطی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ میں رہائشی عمارتوں پر اسرائیلی حملوں کے ایک سلسلے میں شہید ہوئے۔
غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2روز کے دوران اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ میں امداد لینے والے فلسطینیوں پر فائرنگ کی، جس سے کم از کم 10فلسطینی شہید ہوگئے۔ دوسری جانب ہزاروں بھوکے فلسطینی اقوام متحدہ کے خوراک کے گودام پر جمع ہوگئے، اور امداد خود اٹھاکر لے جانے کی کوشش کی، اس دوران وہاں بھگدڑ مچ گئی، جس سے درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے ۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا کہ ان نئی بستیوں کو اسرائیلی قانون کے تحت قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ادھر سینیگال کی ایک یونیورسٹی کے سیمینار میں شرکت کرنا اسرائیلی سفیر کو مہنگا پڑ گیا۔ سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں واقع شیخ انتا دیوپ یونیورسٹی میں جیسے ہی اسرائیلی سفیر یووال واکس پہنچے۔ طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا۔
طلبا نے فلسطین کو آزاد کرو کے نعرے لگائے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ معاملہ اتنا شدت اختیار کر گیا تھا کہ اسرائیلی سفیر کو یونیورسٹی سے بے دخل ہونا پڑا۔ اسرائیلی سفیر شدید نعرے بازی کے باعث اپنی تقریر بھی نہیں کر سکے اور سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں حصار میں لیکر یونیورسٹی سے باہر نکالا۔
اسرائیلی سفیر تیز تیز قدم اُٹھا کر جلد از جلد یونیورسٹی سے باہر نکل جانے کی کوشش کی تاہم طلبا نے مرکزی دروازے تک تعاقب کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔دوسری جانب وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ بندی کی تازہ ترین تجویز پر دستخط کر دئیے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہائوس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے لیے امریکہ کی تازہ ترین ( نئی ) جنگ بندی کی تجویز پر دستخط کر دئیے ہیں، جس کے بعد نئی تجویز فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس گروپ کو بھیجی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے اسرائیل کی منظوری کے بعد ہی یہ تجویز حماس کو پیش کی تھی۔
ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک بریفنگ میں کہا کہ میں اس بات کی بھی تصدیق کر سکتی ہوں کہ یہ بات چیت جاری ہے، اور ہمیں امید ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہو گی تاکہ ہم تمام یرغمالیوں کو گھر واپس لا سکیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حماس نے تجویز قبول کر لی ہے، تو ان کا جواب تھا کہ میری معلومات کے مطابق نہیں۔



