پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

پنجاب لینڈ ریوینو اور غیر منقولہ جائیداد تحفظ ترمیمی آرڈیننس جاری

گورنر سردار سلیم کا باجوڑ حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین ،پی یو جے عہدیداروں کو مبارکباد

لاہور:(بیوروچیف)گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے آئین کے آرٹیکل 128 کی شق (1) کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے پنجاب لینڈ ریوینو (ترمیمی) آرڈیننس اور غیر منقولہ Immovableجائیداد کی ملکیت کا تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 جاری کر دیئے۔

ترمیمی آرڈیننس سے پنجاب لینڈ ریونیو میں ڈیجیٹل نظام اور جدت کی ترویج ہو گی۔ترمیمی آرڈیننس کا مقصد زمین کے مالکان کو سہولت فراہم کرنے کے لئے اراضی کے معاملات میں شفافیت، کارکردگی اور جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ پنجاب لینڈ ریوینو (ترمیمی) آرڈیننس میں درج ذیل ترامیم کی گئی ہیں۔

پنجاب لینڈ ریوینو (ترمیمی) آرڈیننس میں قبضے کی منتقلی اور زر واصلات منافع کے ساتھ زمین کی تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اپیلوں، نظرثانی کے عمل میں اصلاحات کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ الیکٹرانک ڈیجیٹل ذرائع سے سمن، نوٹسز اور اعلان کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

زمینوں کی حد بندی اور غیر قانونی قابضین کی بے دخلی کے لیے قانونی طریقہ کار مرتب کیا گیا ہے۔ اراضی انتقال کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم متعارف کیا گیا ہے۔نئے قانون کے تحت زمین کے تمام تر انتقال ڈیجیٹل کیے جائیں گے۔ پٹواری کو صرف وراثتی انتقال کا اختیار ہوگا۔ نئے قانون کے تحت کسی کیس میں صرف بورڈ آف ریونیو کو لوئر کورٹ میں ریمانڈ کرنے کا اختیار ہو گا۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے غیر منقولہ Immovableجائیداد کی ملکیت کا تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026 بھی جاری کردیا۔ اس آرًیننس کے اجراء کے بعد تنازعات کے حل کی کمیٹی کی جگہ سکروٹنی کمیٹی قائم کی جائے گی۔ سکروٹنی کمیٹی میں ڈی سی، ڈی پی او، اے ڈی سی آر، اے سی، ایس ڈی پی او کے علاوہ سرکل ریوینو افسر اور پولیس سٹیشن کے انچارج افسر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ غیر قانونی قبضے کے جرم میں 5سے 10سال سزا کے علاوہ 10ملین تک جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا نفاذ ہو گا۔

جھوٹی شکایت کی صورت میں 5 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ 5 سال تک کی سزا کا اضافہ کیا گیا ہے۔گزشتہ قانون میں شکایت تنازعات کے حل کو کمیٹی کے سامنے کی جاتی تھیں تاہم اب شکایت حاضر سروس ججز پر مبنی ٹربیونل کے سامنے فائل کی جائے گی۔ ٹربیونل 3دن کے اندر شکایت سکروٹنی کمیٹی کو رپورٹ کرنے کے لئے بھیجنے کا پابند ہوگا۔ سکروٹنی کمیٹی 30دن کے اندر رپورٹ جمع کرائے گی جبکہ پہلے قانون میں یہ مدت کمشنر کی اجازت سے مذید 90 دن آگے کی جاسکتی تھی۔

ٹریبونل 30دن میں فیصلہ کرے گا جبکہ پہلے یہ معیاد 90دن تھی۔اس کے علاوہ مذکورہ آرڈیننس کے تحت ٹریبونل کو ایک ہی مقدمے میں منسلک جرائم کی سماعت کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ پہلے ٹریبونل کا دائرہ اختیار صرف ایکٹ کے تحت کی گئی کاروائیوں تک محدود تھا۔۔ڈپٹی کمشنر کے بجائے ٹریبونل کو حفاظتی اقدامات اٹھانے کا اختیار دیا گیا۔ آرڈیننس کے اجراء کے بعد حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز ٹریبونل کے ممبر ہوں گے جبکہ پہلے ہائی کورٹ اور سیشن کورٹ کے ریٹائرڈ ججز ممبر تھے۔

علاوہ ازیں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے باجوڑ چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا بزدلانہ حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔گورنر پنجاب نے کہا کہ دہشتگردی کی کارروائی میں 12 بھارتی پراکسی خوارجیوں کا جہنم واصل کرنے والے بہادر سپوت ہمارا فخر ہیں۔ گورنر پنجاب نے شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بعد ازاں،گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے نو منتخب صدر، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیداران کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نو منتخب صدرنعیم حنیف، قمرالزمان بھٹی جنرل سیکرٹری، خرم پاشا سینئر نائب صدر، شیر علی خالطی نائب صدر۔طلال اشتیاق جوائنٹ سیکرٹری،خالد رشید سمیت دیگر عہدیدسران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔گورنر پنجاب نے کہا کہ پی یو جے نے ہمیشہ صحافی برادری کے مسائل کے حل کے لیے صفِ اول کا کردار ادا کیا۔اُنہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پی یو جے کی نومنتخب باڈی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ میں موثر کردار ادا کرے گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button