پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

یونان کشتی حادثہ : 31ایف آئی اے اہلکار ملوث،سانحہ لیبیا کا اشتہاری راشدگرفتار

فیصل آباد 19، سیالکوٹ3، لاہور2، اسلام آباد 2 جبکہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے5 افسربھی ملوث

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی سے)ملک بھر میں انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، لیبیا کشتی سانحہ کے اشتہاری ملزم راشد محمود کو گرفتار کر لیا گیا۔

20 دسمبر کو ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ریڈ بک کے بدنام زمانہ اشتہاری ملزم محمد سلیمان کو گجرات سے گرفتار کیا تھا۔

دریں اثنا یونان کشتی حادثہ میں انسانی سمگلنگ کے معاملے میں ملک بھر سے ایف آئی اے کے 31 اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایف آئی اے نے انسانی سمگلنگ کے معاملے میں مبینہ طور پر ملک بھر سے 31 افسران و اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہےیہ سب حادثے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ایف ائی اے کے ان 31 افسران کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ان اہلکاروں میں فیصل آباد ایئرپورٹ کے 19، سیالکوٹ ایئرپورٹ کے تین اور لاہور ایئرپورٹ کے دو افسران شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ان اہلکاروں میں اسلام آباد ایئرپورٹ کے دو جبکہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے پانچ افسران کے نام شامل ہیں اور ان میں انسپکٹر سب انسپکٹر کانسٹیبل شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان سے غیرقانونی تارکین وطن کشتیوں پر سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران یونان میں پیش آنے والے حادثے کا شکار ہو گئے تھے جس میں پانچ پاکستانی شہری ہلاک ہوئے۔

یونان میں موجود سفارتخانے کے حکام کے مطابق فی الحال پانچ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 47 پاکستانی شہریوں کو ریسکیو کر لیا گیا جنہیں یونان کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگرچہ اس حادثے کے دوران لاپتہ ہونے والی پاکستانی شہریوں کی اصل تعداد کا تو علم نہیں تاہم یہ درجنوں میں ہو سکتے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے کے گذشتہ ہفتے یونان کشتی حادثے میں ملوث تین انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ایف آئی اے کے دو افسران کو گرفتار کیا تھا۔

سنہ 2023 میں یونان کے اسی علاقے میں غیرقانونی تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 262 پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں ایسے ایجنٹس کے خلاف بھرپور کارروائی کا وعدہ کیا گیا تھا جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button