ہم صدیوں سے زنجیروں میں بندھے ہوئے لوگ ہیں۔ یہ زنجیریں لوہے کی نہیں عقیدت کی ہیں۔ یہ بیڑیاں ہاتھ پاؤں میں نہیں ذہنوں میں ہیں۔ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم دلیل سے زیادہ دم، عقل سے زیادہ وظیفہ اور اصول سے زیادہ شخصیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب بھی کسی تحریک کی بات ہوتی ہے ہم نظریات نہیں لیڈروں کے چہرے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ جب بھی کسی انقلاب کی آرزو کرتے ہیں ہم اصولوں کا نہیں کسی نجات دہندہ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ فکری زوال ہے جو ہر اٹھنے والی تحریک کو جلد یا بدیر ایک شخص کی غلامی میں دے دیتا ہےاور پھر وہ تحریک تحریک نہیں رہتی خانقاہ بن جاتی ہے اور کارکن مرید اور لیڈر پیر۔یہ پیری مریدی کا کلچر صرف مذہب تک محدود نہیں رہا۔ اس نے سیاست، سماج اور حتیٰ کہ فلاحی شعبوں تک کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہر طرف ایک شخصیت کا طلسم ہے۔ ایک رہنما ہے جو سب کچھ جانتا ہے، جو غلطی کر ہی نہیں سکتا ،جوقوم کا آخری سہارا ہے،جو صادق اور امین ہے۔ اور اس کے گرد عقیدت کے مارے لوگ ہیں جو ہر تنقید کو گستاخی سمجھتے ہیں ہر سوال کو بغاوت اور ہر اختلاف کو سازش۔ ایسے ماحول میں نہ تحریک زندہ رہتی ہے نہ مقصد۔ باقی بچتا ہے تو صرف ہجوم جو تالیاں بجاتا ہے، نعرے لگاتا ہے اور خواب دیکھتا ہے بغیر یہ سوچے کہ منزل کہاں ہے اور راستہ کون سا ہے۔یہ المیہ صرف کسی ایک جماعت یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نفسیات کا عکس ہے۔ ہم نے بچپن سے یہ سیکھا ہے کہ بڑوں سے سوال نہیں کرتے۔ استاد کی بات آخری ہوتی ہے، پیر کی ہر بات حکمت ہوتی ہے اور لیڈر کی ہر چال’’سیاسی بصیرت‘‘۔ چنانچہ جب ہم بالغ ہو کر کسی تحریک کا حصہ بنتے ہیں تو ہم پہلے دن سے ذہنی غلام بننے کو تیار ہوتے ہیں۔ ہم اپنی عقل دروازے پر رکھ کر اندر داخل ہوتے ہیں اور پھر ساری زندگی اسی در کے فقیر بنے رہتے ہیں۔تاریخ کا دامن ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے جہاں قومیں ایک فرد کے گرد سمٹ گئیں اور ان کی سوچ جمود کا شکار ہو گئی۔ نپولین بوناپارٹ، ہٹلر، مسولینی اور دنیا کے بےشمارلیڈر اس وجہ سے ابھرے کہ عوام نے شعور سے زیادہ سحر کو ترجیح دی۔ وہ لیڈر کے ہر وعدے، ہر دعوے اور ہر جھوٹ پر آنکھ بند کر کے ایمان لے آئے۔ لیکن انجام کیا ہوا؟ بربادی، تنہائی اور ندامت۔پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے وہی عوام جو کبھی لیڈر کے حق میں جان دیتے تھے چند سال بعد اس کے مجسمے گرا رہے ہوتے ہیں ۔دوسری طرف اگر ہم ان تحریکوں کو دیکھیں جنہوں نے واقعی معاشرتی تبدیلی کی تو ان کی بنیاد ہمیشہ اصول، ادارے اور اجتماعی شعور تھے۔
فرانس کا انقلاب، برطانیہ کی جمہوریت، امریکہ کا آئینی سفر یا حتیٰ کہ ترکی میں مصطفیٰ کمال کی اصلاحات یہ سب صرف کسی ایک شخصیت کی پیروی نہیں تھے بلکہ ایک سوچ، ایک فکری تحریک اور ایک اجتماعی جدوجہد کا نتیجہ تھے۔ایک سادہ سا اصول ہے جہاں سوال کی اجازت نہ ہو وہاں ترقی ممکن نہیں۔ جہاں اختلاف رائے کو دبایا جائے وہاں ذہن نہیں کھلتے اور جہاں ہر تحریک کسی پیر کی درگاہ بن جائے وہاں افراد تو ہجوم بن سکتے ہیں قوم نہیں۔ آج ہمیں سوال کرنا ہوگا ہم ہر بار ایک ہی چہرے سے کیوں امید باندھتے ہیں؟ ہر بار ایک نیا’’مسیحا‘‘ کیوں ہمارے دلوں میں اترا آتا ہے؟ ہم کب تک خواب بیچنے والوں کے ہاتھوں بیوقوف بنتے رہیں گے؟ کب ہم یہ مانیں گے کہ تبدیلی کسی فرد کے دم سے نہیں اجتماعی شعور سے آتی ہے؟اصول اور ادارے کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ اگر ہم شخصی عقیدت کے خول سے باہر آ کر اداروں کو مضبوط کریں شفافیت اور احتساب کو اپنا شعار بنائیں اور ہر فرد کو سوال کرنے، سوچنے اور فیصلے کرنے کا حق دیں تو تبھی ہم ایک زندہ اور ترقی پذیر قوم بن سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ہم صدیوں تک ایک لیڈر کے جانے کے بعد نئےلیڈر کی تلاش میں بھٹکتے رہیں گے اور یہ تلاش کبھی ختم نہیں ہو گی کیونکہ ہماری اصل بیماری شخصیت پرستی ہے اور اس کا علاج صرف فکری خودمختاری ہے۔سیاسی تحریک جب ایک فرد کے گرد قید ہو جائے تو وہ شعور کو سلب کرلیتی ہے۔
شخصیت کی برتری تنظیم کو نگل لیتی ہے۔ سوچنے والے ختم کر دیے جاتے ہیں اور بچتے ہیں صرف تالیاں بجانے والے۔ یوں تحریک ایک شور میں بدل جاتی ہے جو بہت دیر تک گونجتا تو ہے مگر کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔ قومیں شور سے نہیں شعور سے اٹھتی ہیں۔ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ عوام کا حافظہ کمزور اور امیدیں غیر حقیقی ہیں۔ ہم بارہا دھوکہ کھا کر بھی ہر بار نئے وعدوں کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ لیڈر جب اقتدار میں آتا ہے تو وہ ادارے تباہ کرتا ہے، اختیارات مرکزیت میں سمیٹتا ہے اور اپنے گرد عقیدت مند جمع کرتا ہے۔ جب وہ ناکام ہو جاتا ہے تو قوم صرف افسوس کرتی ہے سبق نہیں سیکھتی۔ یہی چکر دہائیوں سے چل رہا ہے۔اصل تبدیلی صرف اس وقت آ سکتی ہے جب ہم اپنے اندر سوال کرنے کی جرأت پیدا کریں۔ جب ہم لیڈر سے اس کے وعدوں کا حساب مانگیں۔ جب ہم مرید نہیں شریکِ تحریک بنیں۔ جب ہم اصولوں کو شخصیت سے بالا سمجھیں۔ اور جب ہم یہ مان لیں کہ لیڈر بھی انسان ہوتا ہےغلطی کا پتلا، سیکھنے کا محتاج اور عوامی خدمت کا پابند۔یہ قوم اس وقت تک پیچھے رہتی رہے گی جب تک ہر نئی تحریک ایک نئی خانقاہ اور ہر نیا لیڈر ایک نیا پیر بنتا رہے گا۔ ہمیں یہ دائرہ توڑنا ہوگا۔ ہمیں تحریک کو ادارہ بنانا ہوگا کارکن کو مفکر بنانا ہوگا اور رہنما کو خادم بنانا ہوگا۔ تبدیلی نعرے سے نہیں آتی طرزِ فکر کی تبدیلی سے آتی ہے۔ہم جب تک شخصیت پرستی کے خول میں بند رہےگےنہ سیاسی اور نہ معاشرتی تبدیلی لا سکتے ہیں ۔ تبدیلی تب آتی ہے جب اصولوں، اداروں اور شعور پر مبنی تحریکیں اٹھتی ہیں۔ قومیں تب بدلتی ہیں جب وہ پیری مریدی سے آزاد ہو کر سوال کرتی ہیں اختلاف کو گوارا کرتی ہیں اور ہر رہنما کو خادم سمجھتی ہیں، مسیحا نہیں۔



