انسان پر سب سے زیادہ مصیبتیں اسکی زبان کی وجہ سے آتی ہیں۔الفاظ بمثل مسیحا ایسی ڈھال ہیں جو بہت سی ناگہانی آفات سے بچا سکتے ہیں جبکہ لفظ ہی بمثل تلوار ایسا قاتل ہے جو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں جو شخص موقع کی مناسبت کیمطابق گفتگو کرنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو یا وقت کے تقاضے کے مطابق اپنی پالیسی اور رویہ تبدیل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو،اسے سیاست سے کنارہ کش رہنا چاہئے۔دنیا کے تمام ممالک میں سیاستدانوں کا صعوبتیں برداشت کرنا اور جیلیں کاٹنا،یہ روایتی عمل ہے۔آپ پاکستانی سیاست میں ماضی قریب کی تاریخ اٹھا لیجئے۔تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف جلا وطنی کاٹ کر دوبارہ وزیراعظم بنے۔ایک بار پھر طاقتور ریلا آیا اور انکی وزارتِ اعظمیٰ بہا کر لے گیا۔انھیں خاموشی سے گھر بیٹھنے کا کہا گیا مگر انھوں نے مقتدرہ کیساتھ جارحانہ اننگز کھیلنے کی کوشش کی،بدلے میں جیل جانا پڑا۔نواز شریف کے سیاسی ساتھی زیر عتاب رہے،چھوٹے بھائی شہباز شریف جنکے بارے رائے عامہ ہے کہ وہ وقت کی نزاکت کے مطابق سیاسی فیصلے لیتے ہیں۔نواز شریف کے جیل جانے کیبعد شہباز شریف جو مفاہمتی پالیسی پر کامل یقین رکھتے ہیں وہ وقت کی نزاکت بھانپنے کے بعد دو قدم پیچھے ہٹے اور مزاحمت سے مفاہمت کا سفر طے کرتے ہوئے بالآخر وزارتِ اعظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوئے۔نتیجتاً ایک بار پھر مسلم لیگ ن حکمران جماعت بن کر ابھری۔سیاسی میدان میں وقت کی نزاکت سمجھتے ہوئے آگے بڑھنے کیلئے دو چار قدم پیچھے ہٹنا بزدلی نہیں سیاسی حکمتِ عملی ہے۔میرے مطابق ہر سیاسی جماعت میں ایک شہباز شریف ضرور ہونا چاہیے جو مقتدرہ اور پارٹی سربراہ کے درمیان پل کا کام کر سکے،یقیناً میرا سوچنا آمریت کی زنجیروں میں جکڑی جمہوریت کی عکاسی کرتا ہے مگر ہمیں اس تلخ حقیقت کو تہہ دل سے تسلیم کرنا پڑے گا۔آج کل مذاکرات کی باتیں زد عام ہیں۔یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک میں موجود درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے سیاسی اتحاد بہت ضروری ہے۔بات چیت سے مسائل کا حل نکل سکتا ہے اور نکلتا آیا ہے مگر مذاکرات اور مزاحمت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ کے ممبران مذاکرات کر رہے ہوں اور ادھر آپ کے ہاتھوں تیار ہوئے باشعور نوجوان حکومت اور افواج پاکستان پر تبرے کس رہے ہوں وہ بھی ایسے حالات میں کہ آپ اپنا مقام کھو چکے ہوں اور آنے والے وقتوں میں آپ کی قبولیت کا دور دور تک کوئی نام و نشان بھی موجود نہ ہو کیونکہ مقتدرہ کے پیشِ نظر جب ایسی شخصیت موجود ہو جو کارکردگی اور تابعداری کا ہنر جانتی ہو،ایسے میں کوئی دوسری شخصیت قبولیت کیسے پائے گی.حادثاتی طور پر باشعور ہوئے نوجوان شاید یہ سوچ کر جارحانہ انداز اپنائے ہوئے ہیں کہ وہ امریکہ جس نے بقول عمران خان بذریعہ سازش انھیں اقتدار سے ہٹایا اسی کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ تقریب حلف برداری کے فوراً بعد حکومت پاکستان سے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرے گا اور عمران خان رہائی کے بعد حقیقی آزادی کی جنگ لڑے گا۔مگر سوال یہ ہے کہ ٹرمپ ایسا کیوں کرے گا؟حکمران خواہ وہ کسی بھی ملک کا ہو،اسے شخصیات سے زیادہ اپنے ملکی مفادات عزیز ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ اس سمت قدم اٹھاتا ہے جہاں اسے اپنے مفادات نظر آئیں۔ایسے کون سے مفادات ہیں جو صرف عمران خان کے ذریعے پورے ہو سکتے ہیں کسی دوسرے کے ذریعے نہیں؟جبکہ ٹرمپ کے سامنے شہباز شریف کی صورت میں ایک تابعدار اور فرینڈلی حکمران موجود ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ جب ایسی شخصیت موجود ہو جو کارکردگی اور تابعداری کا ہنر جانتی ہو،ایسے میں کوئی دوسری شخصیت قبولیت کیسے پائے گی۔ویسے تو جمہوریت پر یقین رکھتے ہوۓ میں بھی یہی چاہتا تھا کہ عمران خان کو سیاسی جنگ کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے مگر سانحہ نو مئی کے بعد عمران خان کی رہائی ایک خواب سا لگتا ہے کیونکہ مقتدرہ اگر ایسا ہونے دیتے ہیں تو نو مئی طرز جیسے سانحات کی رسم چل پڑے گی اور آنے والے وقتوں میں کوئی بھی سیاسی جماعت ہمراہ کارکنان فوجی املاک پر دھاوا بول سکتی ہے اور ملک خانہ جنگی کی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔لہٰذا بشمول عمران خان ملٹری کورٹس سے سزا پانے والوں کی رہائی کے علاؤہ ملکی مفادات کے پیشِ نظر ہر قسم کے مطالبات قبول کئے جانے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ہاں یہ بات ممکنات میں سے ہے اگر الفاظ کا درست استعمال کیا جائے تو بہت سی مصیبتوں سے نجات حاصل ہو سکتی ہے کیونکہ الفاظ قاتل بھی ہیں اور مسیحا بھی۔
سی این این اردوڈاٹ کام کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔



