پاکستانتازہ ترینکالم

نیا ڈی جی ایف آئی اے اور پنجاب کا ایماندار ڈی پی او کون؟

اسد مرزا

ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کیلئے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو تین ناموں کی سمری بھجوا دی گئی ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی سلطان چوہدری، سی ٹی ڈی کراچی کے سربراہ عمران یعقوب اور سابق آئی جی خیبر پختوانخوا اختر حیات گنڈاپور کے نام شامل ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کسی ایک افسر کا نام کو فائنل کر یں گے ، اِس کے بعد نئے ڈی جی ایف آئی اے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائیگا ۔ لیکن امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اختر حیات گنڈا پور کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا جائیگا،ایڈیشنل آئی جی سلطان چودھری اور ایڈیشنل آئی جی عمران یعقوب انتہائی شریف النفس اور پروفیشنل افسر ہیں۔ گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کیلئے مارچ میں بورڈ ہو گا، یوں اگر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور مارچ میں گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں چلے گئے تو انکی کوشش ہوگی کہ وہ سیکرٹری داخلہ تعینات ہو جائیں۔
سٹیج اداکارہ ماہ نور ، ڈی پی او سرگودھا کو لے ڈوبی ہیں، سٹیج آرٹسٹ ماہ نور نے ڈی پی او سرگودھا پر سنگین الزامات لگائے، یہی نہیں دبائو کے باوجود ماہ نور نے اپنے الزامات واپس لینے سے صاف انکار کردیا، جس کے بعد ڈی پی او سرگودھا کو تبدیل کردیاگیا اور اب افواہ گردش کررہی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے حکم پرہونیوالی تحقیقات کے بعد ہی ڈی پی او کو ہٹایاگیا ہے، حالانکہ الزام علیہ سٹیج اداکارہ ماہ نور نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ الزامات غلط فہمی کی بنیاد پر لگائے گئے تھے اور اِن میں کوئی صداقت نہیں تھی ، لہٰذا اِس کے بعد ڈی پی او سرگودھا کا تبادلہ بنتا نہیں تھا مگر تبادلہ ہوگیا۔

پنجاب پولیس میں ایک واحد اور انوکھا پولیس افسر بھی ہے ، جو کسی جگہ اپنی تعیناتی پر نہ تو بااثر لوگوں کی دعوت کرتا ہے اور نہ ہی کسی بااثر کی دعوت پر اُس کے گھر یا ڈیرے پر جاتا ہے۔ وہ انوکھا افسر کسی سے تحفے لیتا ہے اور نہ ہی کسی کو تحائف دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اِس کا طرز عمل سبھی کو عجیب سا لگتا ہے مگر وہ اپنی اِس عادت سے مطمئن ہے، یہی نہیں کام کے معاملے میں وہ امیر ہو یا غریب سبھی کو برابر اہمیت دیتا ہے اور کسی کی امارت یا غربت کا اثر قبول نہیں کرتا۔ کیونکہ عام تاثر یہی ہے کہ نوسرباز ذہنیت کے لوگ اعلیٰ پولیس افسران کو تحائف دیتے وقت اپنی تصاویر بناتے ہیں پھر وہی تصاویر عام لوگوں کو دکھاکر نہ صرف اِن سے جائز و ناجائز لین دین کرتے ہیں بلکہ چھوٹے ملازمین پر بھی اپنا رعب جماتے ہیں کہ ان کے اعلیٰ پولیس افسران سے گہرے مراسم ہیں، بالکل اسی طرح عمرہ کی ادائیگی کے بعد آئے افراد پولیس افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے انہیں تسبیح، جائے نماز، آب زم زم، کھجوروں کے ساتھ ساتھ نئے جدید آئی فون کا سیٹ بھی دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ متذکرہ ڈی پی او اپنی پوسٹنگ کے بعد کسی سے گفٹ لینے اور کسی کے گھر نہ جانے کا پیغام دیکر ثابت کرتا ہے کہ اسکا کسی سے کوئی تعلق نہیں۔

بعض پولیس افسران کہتے ہیں کہ افسر ِ موصوف اپنے اعمال سیدھے کررہا ہے ، کیونکہ اِس افسر کاجس شہر میں تبادلہ ہوتا ہے وہ اپنے رویے اور کام کی وجہ سے لوگوں کو گرویدہ بنالیتا ہے مگر مجرمانہ ذہنیت کے لوگ اور کرپٹ پولیس ملازمین اِس سے چالو رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ افسر موصوف اپنے رویے کی وجہ سے اچھے لوگوں کو پل بھر میں اپنا گرویدا بنالیتا ہے کیونکہ اِس کا طرز عمل ہر کسی کو اِس کی جانب متوجہ کرتا ہے۔ ایک اہم ضلع میں ڈی پی او کی پوسٹنگ کیلئے افسران کے انٹرویوز ہوئے، لیکن بالآخر اِس افسر کو ایک ضلع میں دو سال سروس کرنے کے بعد تبدیل کر کے ڈی پی او تعیناتی کے احکامات جاری کردیئے گئے، یوں انٹرویو لینے اور دینے والے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے۔ جس کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ اِس افسر کی ایمانداری اور رویے کی خبریں حکومتی ایوانوں میں بھی پہنچتی ہیں، یہ ساری تمہید ڈی پی او سیالکوٹ فیصل شہزاد کیلئے تھی۔ جن کے کام کی تعریف سابق آئی جی ناصر خان درانی مرحوم ماتحت افسران کے سامنے کرتے نہیں تھکتے تھے۔

ایک بار ڈی پی او سیالکوٹ نے سٹی ٹریفک افسر کو طلب کیا اور پوچھا کہ آپکو علم ہے کہ آپ جو چالان کرتے ہیں اس ریونیو سے کچھ رقم آپکو بھی ملتی ہے جو جمع ہے جس پر ٹریفک پولیس کا افسر حیران رہ گیا کہ انہیں تو اس بارے علم نہیں جب ڈی پی او فیصل شہزاد نے بتایا کہ یہ رقم ایک کروڑکی ہے تو ٹریفک افسر پریشان ہو گیا کہ اتنی بڑی رقم اکائونٹینٹ کے پاس جمع ہے اور اسکا انہیں علم ہی نہیں۔ تب ڈی پی او نے ٹریفک دفاتر کے لئے فرنیچر عمارت کی تزئین و آرائش اور دیگر ناگزیر کاموں پر خرچ کرنے کیلئے پلان بنا کر ڈسکس کرنے کی ہدایت کی ،بلاشبہ ان کی جگہ اگر کوئی اور ڈی پی او ہوتا تو اس رقم کو کاغذی کارروائی کر کے خرچ کردیتا لیکن فیصل شہزاد نے ایسا نہیں کیا، شاید یہی وجہ ہے کہ فیصل شہزاد اور اِن جیسے افسران کی پوسٹنگ حکومت یا سنیئر افسران خود کرتے ہیں۔ حالانکہ جن افسران کا پینل بنتا ہے،پوسٹنگ کے منتظر افسران اِن کے وارے نیارے کردیتے ہیں تاکہ اِنہیں اچھی پوسٹنگ مل سکے۔
ریس کورس پارک لاہور کی مسجد سے ایک پولیس افسر کا دو لاکھ روپے کابیش قیمتی جوتاچوری ہوگیا، پولیس افسر ریس کورس پارک میں واک کے بعد نماز مغرب کی ادائیگی کیلئے گیا ، اور احتیاط کے پیش نظر افسر موصوف نے اپنا قیمتی جوتا اپنے قریب ہی رکھا ہوا تھا لیکن چور زیادہ چوک نکلا اور دو لاکھ روپے کے جوتے لے اُڑا۔ واضح رہے کہ بیشتر نمازیوں کے جوتے مسجد کے داخلی راستے پر ہی پڑے تھے، لہٰذا جوتا چور کو جوتے کی قیمت کا تعین کرنے میں زیادہ مشکل نہ ہوئی ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button