غزہ امن بورڈ: پاکستان سمیت 19ممالک کے چارٹر پر دستخط
روس، یوکرین لڑائی بھی ختم ہونی چاہئے، حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے، غیر مسلح نہ ہوئی تو خاتمہ کر دیا جائے گا، امریکی صدر کا تقریب سے خطاب: وزیراعظم شہباز شریف سے خوشگوار جملوں کا تبادلہ، دونوں رہنما کچھ دیر تک محو گفتگو رہے
ڈیووس، واشنگٹن (ویب ڈیسک ) پاکستان، امریکہ، ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا سمیت 19ممالک نے غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر دیئے۔ عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں غزہ امن بورڈ میں شامل ممالک کے اجلاس میں غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کئے گئے۔ دستخط کرنے والے ممالک میں پاکستان، امریکہ، آرمینیا، ارجنٹائن، آذربائیجان، بلغاریہ، انڈونیشیا، ہنگری، قازقستان، اردن، کوسوو، پیراگوئے، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور منگولیا شامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کیلئے آئے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر امریکی صدر اور وزیراعظم کے مابین خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا اور دونوں رہنما کچھ دیر تک محو گفتگو رہے۔ قبل ازیں غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کا انتہائی اہم کردار ہے، مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لئے کوشاں اور امن کوششوں کی کامیابی کے لئے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ امن بورڈ میں بہت سے ممالک شامل ہونا چاہتے ہیں، امن بورڈ میں شمولیت اختیار کرنے والے ممالک کا شکر گزار ہوں ، غزہ کو بہترین سیاحتی مرکز بنائیں گے۔ انہوں نے قیام امن کیلئے اپنے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 10ماہ میں آٹھ جنگیں بند کرائیں، دو ایٹمی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی، وزیراعظم پاکستان نے مجھے کہا کہ میں نے 10ملین جانیں بچائی ہیں، جنگیں رکوانے کے بعد بہت سے ممالک کے سربراہ میرے دوست بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ تھائی لینڈ اور فلپائن، اسرائیل اور ایران، مصر اور ایتھوپیا، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہم نے جنگ بند کرائی، گزشتہ سال کی نسبت آج دنیا امیر، محفوظ اور پر امن ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ٹرمپ نے کہا کہ بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا، غزہ میں جنگ ختم ہونے والی ہے، حماس کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ حماس غیر مسلح نہ ہوئی تو اس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا صدر ٹرمپ نے بالکل درست کہا ہے کہ ہم نے بہت سے ناممکن کام کئے ہیں، صدر ٹرمپ کا دنیا میں امن قائم کرنے کے حوالے سے آج اہم دن ہے، عالمی لیڈر امن کیلئے یکجا ہوئے ہیں، تمام عالمی رہنمائوں کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تنازعات کو اس امن معاہدے کے تناظر میں حل کیا جا سکتا ہے۔ غزہ امن بورڈ کا مقصد مستقل جنگ بندی کو مستحکم کرنا، غزہ کی تعمیرِ نو میں معاونت فراہم کرنا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام پر مبنی ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے کے تمام ممالک اور عوام کے لئے امن، سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار ہو۔ تقریب میں غزہ امن معاہدے کے حوالے سے عالمی رہنمائوں کے پیغامات کی ویڈیو بھی نشر کی گئی۔ مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جوہری پروگرام کے حصول سے متعلق ایک بار پھر متنبہ کر دیا۔ امریکی میڈیا سی این بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی، انہوں نے خبردار کیا کہ جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں امریکہ کی کارروائی نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا، اگر امریکہ نے ایران کے ایٹمی نظام کو نشانہ نہ بنایا ہوتا تو ایران دو ماہ کے اندر جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا۔ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش ترک کرنی چاہیے، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ ایران کیخلاف مزید کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران میں سڑکوں پر اندھا دھند لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا لیکن ان کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد ایرانی حکام نے سیکڑوں افراد کو پھانسی دینے کا ارادہ ترک کر دیا۔ مزید برآں ٹرمپ گرین لینڈ کے معاملے پر یورپ پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک انتہائی مثبت ملاقات ہوئی ہے، اس پیشرفت کے پیش نظر یورپ پر یکم فروری سے نافذ کیے جانے والے ٹیرف عائد نہیں کئے جائیں گے۔ مزید برآں ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم ہونی چاہیے۔ امریکی صدر نے یہ بیان یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں دیا۔ ٹرمپ نے ملاقات کے بارے میں کہا کہ ان کی یہ ملاقات بہت اچھی رہی ہے اور تمام فریقین چاہتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف آج ( جمعہ کو ) کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے جس کا مقصد تنازع کے خاتمی کے لیے بات چیت کو آگے بڑھانا ہے۔ دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ نہیں لے سکتا۔ عالمی اقتصادی فورم سے خطاب میں چینی مندوب کا کہنا تھا کہ تحفظاتی پالیسیوں سے عالمگیریت کو چیلنجز کا سامنا ہے، چین غیر یقینی صورتحال میں یقین دہانی فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف دنیا کی فیکٹری بننے کیلئے تیار ہے بلکہ عالمی مارکیٹ بھی فراہم کرے گا۔
چینی مندوب نے خطاب میں ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے جواب میں چین کا اقوام متحدہ کیلئے مضبوط حمایت کا اعادہ گیا۔ جبکہ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین اقوام متحدہ کے بین الاقوامی نظام کے ساتھ کھڑا ہے، عالمی صورتحال جیسی بھی ہو چین اقوام متحدہ کے نظام کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم کسی ملک کے ساتھ اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اقوام متحدہ کے نظام کو قائم رکھنا تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ ادھر امریکہ نے غزہ پیس بورڈ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ بھی پیش کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے غزہ پیس بورڈ لانچ کرنے کے بعد ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم میں غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ ’’ نیوغزہ‘‘ پیش کیا۔
کشنر کا کہنا تھا کہ غزہ کی دو سالہ جنگ میں 90ہزار ٹن گولہ بارود کے استعمال سے ہزاروں جانیں گئیں اور 60ملین ٹن سے زیادہ ملبے کا ڈھیر بنا، جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کی جائیگی۔ برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے بقول یہ سب غزہ کے لوگوں کے لیے ہوگا، غزہ کو مختلف زونز میں تقسیم کیا جائیگا، ہم رفح سے آغاز کریں گے، جہاں مزدوروں کی رہائش کا انتظام ہوگا، غزہ میں ملبہ ہٹانے کا کام پہلے ہی شروع ہوگیا ہے، اس کے بعد نیا غزہ ہوگا، نئی امید کے ساتھ جہاں بہت سی صنعتیں ہوں گی۔ کشنر نے ایک سلائیڈ شو پیش کیا جس میں نیوغزہ کا ماسٹر پلان دکھایا گیا تھا جس میں رہائش، ڈیٹا سینٹرز اور انڈسٹریل پارکس کے لیے مخصوص علاقے دکھائے گئے۔ سلائیڈز میں بحیرہ روم کے ساحل کی ایک تصویر بھی شامل تھی جس میں دبئی یا سنگاپور کی طرح چمکتے ہوئے بلند و بالا ٹاورز دکھائے گئے۔ خبر ایجنسی کے مطابق امریکہ کے ان منصوبوں میں اہم مسائل کا ذکر نہیں کیا گیا، جیسا کہ جائیداد کے حقوق یا ان فلسطینیوں کے لیے معاوضہ جنہوں نے جنگ کے دوران اپنے گھر، کاروبار اور روزگار کھو دئیے۔ منصوبے میں اس بات کا ذکر بھی نہیں کیا گیا کہ تعمیر نو کے دوران بے گھر فلسطینی کہاں رہیں گے۔



