پاکستان کی معیشت، معاشرت اور سیاسی نظام ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سے آگے بڑھنے کا راستہ بھی کٹھن ہے اور پیچھے ہٹنے کا انجام بھی تباہ کن۔ عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر ہماری آنکھیں کھول دی ہیں کہ ہم جس ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے دعوے کرتے ہیں وہاں کروڑوں لوگ آج بھی غربت کے اندھیروں میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کے چاروں صوبے کس طرح غربت کے شکنجے میں جکڑے جا رہے ہیں اور معاشی پالیسیوں کی کمزوری کس حد تک عوام کو پست کرتی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق پنجاب جو کہ ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، وہاں غربت کی شرح 16.3 فیصد بتائی گئی ہے لیکن اگر مجموعی آبادی کی تقسیم دیکھی جائے تو قریباً 40 فیصد لوگ غربت کے شکار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صوبے کی معاشی ترقی کے تمام تر دعووں اور زرعی و صنعتی وسائل کے باوجود ایک بڑا طبقہ بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہے۔ بلوچستان کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے جہاں 42.7 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف معاشی محرومی نہیں بلکہ ریاستی بے توجہی اور حکومتی ناکامی کا بھی اعلان ہیں کیونکہ بلوچستان میں وسائل کی فراوانی کے باوجود وہاں کے باسیوں کو غربت کی زنجیروں سے نجات نہ دلائی جا سکی۔سندھ میں غربت کی شرح 24.1 فیصد ہے۔ یہ صوبہ ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی کہلاتا ہے کراچی جیسا تجارتی اور مالیاتی مرکز اس کی پہچان ہے مگر اس کے باوجود دیہی سندھ غربت اور محرومی کی علامت بنا ہوا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ میں غربت 29.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے جہاں دہشت گردی اور بدامنی نے پہلے ہی ترقی کی راہوں کو محدود کیا تھا اب معاشی بحران نے عام آدمی کو مزید جکڑ لیا ہے۔رپورٹ اس تلخ حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ 2020 کے بعد پاکستان میں غربت کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کورونا وبا نے جہاں صحت کے نظام کو مفلوج کیا وہاں معاشی پہیہ بھی سست کر دیا۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے اور چھوٹے کاروبار تباہ ہو گئے۔ پھر 2022 کا بدترین سیلاب آیا جس نے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو متاثر کیا۔ اس ایک آفت کے نتیجے میں غربت کی شرح میں 5.1 فیصد اضافہ ہوا اورقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ لوگ خط غربت سے نیچے جا پہنچے۔ یہ اعداد محض کاغذی نہیں بلکہ حقیقی انسانی المیہ ہیں کیونکہ ہر ایک کے پیچھے ایک خاندان کی محرومیاں اور ایک نسل کا برباد مستقبل چھپا ہوا ہے۔مہنگائی نے عوام کی کمر مزید توڑ دی۔ 2022-23 میں مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد تک پہنچ چکی تھی جو گزشتہ کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تھی۔ اس مہنگائی نے متوسط طبقے کو بھی غربت میں دھکیل دیا۔ وہ طبقہ جو کبھی بچت کرتا تھا اب روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے۔اس سب کے باوجود جب نظر سماجی بہبود کے منصوبوں پر ڈالی جائے تو صورت حال مایوس کن دکھائی دیتی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام برسوں سے جاری ہے اس پر اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں مگر عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام غربت کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس سے کچھ خاندانوں کو وقتی سہارا ضرور ملا لیکن معاشی ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ پروگرام محض امداد تقسیم کرنے تک محدود رہا لوگوں کو روزگار کے پائیدار مواقع فراہم نہ کیے جا سکے۔غربت کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ بچے اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یہ وہ عمر ہے جب جسم اور دماغ کی نشونما کے لیے متوازن غذا ناگزیر ہے مگر ہمارے بچے بھوک اور کمیِ غذا کے باعث صحت مند زندگی سے محروم ہیں۔ یہی نہیں ایک تہائی بچے اسکول ہی نہیں جاتے اور جو جاتے ہیں ان میں سے 75 فیصد ایسے ہیں جو پرائمری کی تعلیم کے بعد بھی پڑھنے لکھنے کی بنیادی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ اعداد ہماری تعلیمی پالیسیوں اور نظام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں۔ جب بچوں کو نہ تعلیم ملے گی نہ صحت تو وہ مستقبل میں معاشی ترقی کے بوجھ کو کیسے اٹھا سکیں گے؟ یوں غربت ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی ہے اور یہ شیطانی دائرہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔اگر پاکستان کے معاشی ماڈل پر نظر ڈالی جائے تو یہ کمزوریوں اور تضادات کا شکار نظر آتا ہے۔ ہماری معیشت زیادہ تر درآمدات پر انحصار کرتی ہے، برآمدات محدود اور غیر متنوع ہیں، ٹیکس کا نظام غیر منصفانہ ہے اور اشرافیہ کو مراعات دی جاتی ہیں۔ دوسری طرف عام آدمی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہا ہے۔ جب وسائل کی تقسیم غیر متوازن ہو، جب طاقتور طبقے ٹیکس نہ دیں اور جب پالیسیاں صرف وقتی فائدے کے لیے بنائی جائیں تو غربت میں کمی کیسے ممکن ہے؟پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد ایسی ملازمتوں میں جکڑی ہوئی ہے جہاں آمدن نہایت کم ہے۔ کم اجرت پر کام کرنے والے مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ ان کے پاس نہ تو سماجی تحفظ ہے اور نہ کوئی مستقل ذریعہ آمدن۔ یہ لوگ بیماری، حادثے یا قدرتی آفت کی صورت میں سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے کمزور معاشی ڈھانچے کے ساتھ غربت میں کمی کے خواب محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔رپورٹ نے ایک اور کڑی حقیقت سامنے رکھی کہ ہمارے ہاں غربت کی وجوہ صرف قدرتی آفات یا عالمی بحران نہیں بلکہ اپنی پالیسیوں کی ناکامی بھی ہیں۔ ہم نے کبھی پائیدار زرعی اصلاحات نہیں کیں، چھوٹے کسان آج بھی قرضوں اور بیچ بیچنے والوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ہم نے کبھی صنعتوں کو جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہیں کی، جس کی وجہ سے برآمدات محدود رہیں۔ ہم نے تعلیم اور صحت پر سرمایہ کاری نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہماری افرادی قوت کمزور، غیر تربیت یافتہ اور غیر مسابقتی ہے۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب عالمی ادارے بار بار خبردار کر رہے ہیں اور اعداد و شمار ہمارے سامنے موجود ہیں تو پھر اصلاحات میں رکاوٹ کیوں ہے؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ ہماری سیاست وقتی مفادات اور اقتدار کے کھیل میں الجھی ہوئی ہے۔
کوئی حکومت غربت کم کرنے کے طویل المدتی منصوبے پر کام نہیں کرتی۔ سبھی کو جلدی نتائج چاہیے تاکہ اگلے انتخاب میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات کبھی شروع ہی نہیں ہوتیں۔غربت کی اس خوفناک صورتحال کے باوجود امید کا پہلو بھی موجود ہے۔ پاکستان وسائل کے اعتبار سے غریب ملک نہیں۔ ہمارے پاس زرخیز زمینیں ہیں، نوجوان آبادی ہے، معدنیات کے ذخائر ہیں اور جغرافیائی محلِ وقوع بھی اہم ہے۔ اگر ان وسائل کو درست حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو غربت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جائے۔ ہر بچے کو اسکول پہنچانا، ہر شہری کو بنیادی صحت کی سہولت دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔اس کے بعد زرعی اور صنعتی شعبے میں اصلاحات کی جائیں۔ چھوٹے کسانوں کو سہولیات دی جائیں تاکہ وہ جدید طریقوں سے پیداوار بڑھا سکیں۔ صنعتوں کو توانائی کی سستی اور پائیدار فراہمی کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنایا جائے۔ برآمدات بڑھائی جائیں اور درآمدات پر انحصار کم کیا جائے۔ٹیکس کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ جب تک اشرافیہ ٹیکس نہیں دے گی اور بوجھ صرف عام آدمی پر پڑے گا غربت کم نہیں ہو سکتی۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ اسی طرح سماجی تحفظ کے نظام کو وقتی امداد کی بجائے پائیدار روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر مبنی بنانا ہوگا۔غربت کے خاتمے کے لیے ایک اور اہم پہلو شفاف حکمرانی ہے۔ کرپشن اور بدانتظامی نے ترقی کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ اگر فنڈز صحیح معنوں میں عوامی منصوبوں پر خرچ ہوں تو صورتحال بدل سکتی ہے۔ لیکن جب امداد اور قرضے اشرافیہ کے اللوں تللوں پر خرچ ہوں تو عوام کے نصیب میں صرف مزید غربت آتی ہے۔



