تحریر:راجہ شاہ رخ خان
خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والا بھارت درحقیقت اپنے اندر ایسی بنیاد پرستی سمیٹے ہوئے ہے جو اس کے جمہوری دعووں کی نفی کرتی ہے اس بنیاد پرستی کی سب سے بڑی علامت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) ہے، جس کا قیام خالصتاً مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پر عمل میں آیا انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں جب برصغیر آزادی کی تحریک میں مصروف تھا، تو دراصل دو متوازی تحریکیں وجود میں آرہی تھی ایک سیاسی آزادی کی تحریک، اور دوسری ہندو قوم پرستی کی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اسی دوسری تحریک کی نمائندہ تھی، جس نے بھارت کے لیے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا جو مذہب کے اصولوں پر منقسم ہویہ تنظیم ہندوتوا کے نظریے کو نہ صرف فروغ دیتی رہی بلکہ اس نے ریاستی اداروں اور سیاست پر بھی اپنے اثرات مرتب کیے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی فکری جڑیں اسی تنظیم سے وابستہ ہیں، جو اسے ایک سیاسی چہرہ فراہم کرتی ہے RSS کے نظریے نے بھارت کی سیکولر شناخت کو مسلسل چیلنج کیا ہے اور اقلیتوں کو سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر حاشیے پر دھکیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اس تنظیم کا مقصد ایک ایسے بھارت کی تشکیل ہے جہاں صرف ہندو اکثریت کی بالادستی تسلیم کی جائے، اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جائےآج جب بھارت عالمی سطح پر جمہوریت کا علمبردار بننے کی کوشش کرتا ہے، تو RSS کی پالیسیوں اور بی جے پی کی حکومت کے اقدامات ان دعووں پر سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں یہی تضاد بھارت کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے، جہاں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر اکثریت پرستی کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے1925 میں قائم ہونے والی یہ ہندو انتہا پسند تنظیم اپنے شروعاتی ادوار میں ہی ایسے ایسے کام کر چکی ہے کہ جس کے وجود سے ہی بنیاد پرستی اور طبقاتی نظام کی بو آتی ہے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کا ناصرف ماضی بلکہ حال بھی ایسے شرمناک اور ظلم وستم کی داستانوں سے بھراپڑا ہے جس کی مثال نہیں ملتی اس کی بنیاد کیشو بلیرام ہیڈ گیوار نے ناگپور میں رکھی اس تنظیم کا مقصد ہندو ثقافت خود انحصاری اور قومی خدمت کو فروغ دینا تھا اس کو آپ یوں سمجھ لیں کہ بغل میں چھرا اور منہ میں رام رام یہ تنظیم خود کو غیر سیاسی قرار دیتی ہے لیکن حیران کن امر یہ ہے کہ بی جے پی سمیت بہت سی اہم سیاسی اور نظریاتی تنظیمیں اسی آر ایس ایس کی اکیڈمی سے تعلیم یافتہ ہیں ہیڈگیوار بانی آر ایس ایس ہندوقوم پرست مفکر وینائک دامودرساورکر کے خیالات کا اثر رکھتے تھے کچھ عرصے کانگریس میں رہنے کے بعد نظریاتی اختلافات کی بنا ہیڈ گیوار کانگریس سے الگ ہو گئے آر ایس ایس کی بنیاد اکائی شاکھا کہلاتی ہے یہاں پر اس تنظیم سے منسلک افراد کو نظریاتی جسمانی تربیت دی جاتی ہے جبکہ پورے بھارت میں اس وقت 73 ہزار سے زائد شاکھائیں روزانہ کی بنیاد پر سرگرم عمل ہیں ان شاکھائوں میں جسمانی ورزش ،مارچنگ ،دفاعی تربیت اور ہندوتوا نظریہ پر تعلیم دی جاتی ہے جو شخص باقاعدگی سے ان کا حصہ بنتا ہے اسے کاریہ کرتا کہا جا تا ہے اس تنظیم میںصرف ہندو مرد ہی شامل ہو سکتے ہیں جبکہ خواتین کے لئے الگ تنظیم جس کا نام راشڑیہ سیویکا سمیتی 1936 میں قائم کی گئی یہ ایک غیر رجسٹرڈ شدہ تنظیم ہے اور انکم ٹیکس ریٹرن فائلر بھی نہیں جبکہ تنظیم دعویٰ کرتی ہے کہ وہ بیرونی فنڈنگ کے بجائے اندرونی رضاکاروں سے ملنے والی ایڈ سے اپنے اخراجات پورے کرتی ہے اس وقت موہن بھاگوت اس کےسربراہ ہیںاس کے سربرارہ کو سرچالک کہاجاتا ہے اس کی 30 سے زائد شاخیں ہیں جنہیں سنگ پریوار کہا جاتا ہے جن میں بی جے پی ، بجرنگ دل ، وشوہندوپریشد،اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد وغیرہ شامل ہیں یہ سب نظریاتی شاخیں ہیں جیساکہ میں نے آپ سے کہا ہے کہ برصغیر میں دوتحریکیں چل رہی تھیں ایک تو آزادی کی تحریک تھی اور دوسری تحریک یہ آر ایس ایس تھی جس کا بنیادی مقصد انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ اس تنظیم کا مقصد مسلمانوں ، عیسائیوں ، سکھوں اور دیگر غیر ہندو مذہبوں کےماننےوالوں کے خلاف ہندو سماج کو اکھٹا کرنا تھا اسی لئے تاریخی حوالے اور موجودہ دور میں بھی بعض ہندو طبقے اس تنظیم سے آج بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ اس تنظیم آر ایس ایس نے تحریک آزادی میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کیا جبکہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک میں اس کی غیر موجودگی پر سوالات اٹھتے ہیں جبکہ اس کا دعویٰ ہے کہ تنظیم کے کارکنوں نے سول نافرمانی تحریک میں حصہ لیا ہے لیکن مورخین جیسے دھیر یندر جھا اور نیلنجن مکوپادھیا نے ان کے ان دعوئوں کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ اس وقت یہ تنظیم مسلمانوں اور عسائیوں کے خلاف ہندو سماج میں زہر گھولنے میں مصروف تھی مطلب اقلیتوں کےخلاف ایک ہندو اتحاد قائم کر رہی تھی اس خون آلود تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے 27ستمبر2025 کو سوسال مکمل ہو رہے ہیں جبکہ اکھنڈ بھارت کی مہم جیسے ناپاک عزائم بھی اس مہم کا حصہ بنا دیئے گئے ہیں آر ایس ایس کی 100 سالہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اپنی بنیاد سے ہی، آر ایس ایس قوم کی تعمیر کے لیے کوشاں رہی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس رضاکارانہ تنظیم کے طور پر قائم کی گئی تھی جس کا مقصد شہریوں میں ثقافتی شعور، نظم و ضبط، خدمت اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دینا تھالیکن حیران کن با ت یہ ہے کہ اسی تنظیم سے بھارت میں رہنے والے دلت اور دیگر کم ذات ہندو ،سکھ ،عیسائی اور خصوصاً مسلمان اس کے ظلم وستم کے کتنی دفعہ شکار ہو چکے ہیں اس کی تفصیل آپ کو نیچے دی جارہی ہے جسے بھارتی حکومت ایک سماجی تنظیم کہتی ہے 30 جنوری 1948 کو مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد آر ایس ایس پر پہلی بار پابندی عائد کی گئی گاندھی کے قاتل کانام ناتھو رام گوڈسے تھا جبکہ گاندھی قتل سےپہلےگوڈ سے آرایس ایس سے وابسطہ رہا تھا سردار پٹیل کے خطوط اور انٹیلی جنس کی رپورٹس کے مطابق گاندھی کے قتل پر آر ایس ایس کے کارکنوں نے جشن بھی منایا تھا گاندھی کے قتل کے بعد اس تنظیم پر پابندی عائد کر دئی گئی جبکہ حکومت نے تحریری آئین ، آئینی وفاداری اور عدم تشدد کے بعد 1949 میں پابندی ہٹائی آر ایس ایس کا کہنا تھاکہ یہ پابندی بغیر شرط کے ختم کی گئی تھی اسی سماجی تنظیم نے 2دسمبر 1992 کو ایودھیامیں جب بابری مسجد گرائی گئی توتنظیم کے دہشتگرد جن کو کارسیوک کہا جاتا ہے بجرنگ دل کے غنڈے اور سنگ پریوار کے انتہا پسند آر ایس ایس کے بدمعاشوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا اس کے بعد پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے جس کےبعد انہی کارسیوکوں (رضاکاروں) نے مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا سرکاری اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 4 ہزاروں کے قریب معصوم مسلمانوں کا قتل ہوا جبکہ ان ہنگاموں میں ایک بھی ہندو نہیں مرا اور پولیس بھی تماشہ دیکھتی رہی اور آج تک قانون نافذ کرنے و الے اداروں نے اس قتل عام پر کوئی ایکشن بھی نہیں لیا اور آج بابری مسجد کی جگہ رام مندر کھڑا کردیاگیا ہے اس کے علاوہ آسٹریلوی مشنری گراہام اسٹینس اور ان کے دو کم عمر بیٹوں کو قتل کیا گیا یہ واقعہ منوہر پور کیونجھھر ضلع اڑیسہ میں پیش آیا یہ قتل دارا سنگھ نامی شخص نے کیا تھا جس کا تعلق بجرنگ دل سے تھا مارچ 1999 میں گجاپاتی ضلع اڑیسہ میں انہی بلوائیوں نے ایک گائوں پر حملہ کر کے 150سے زائد گھروں کو جلایا اور کئی گرجاگھروں کو مسمار کر دیا گیا ، کنڈھمال کرسمس فسادات یہ فسادات دسمبر2008 میں کنڈھمال ضلع اڑیسہ میں ہوئے جس میں متعدد بے گناہ عیسائیوں کا قتل عام کیا گیا جبکہ درجنوں گرجا گھر جلائے گے او رسینکڑوں گھر تباہ کر دیئے گئے جبکہ مقامی رپورٹس میں آر ایس ایس وشوا ہندو پریشد ، اور بجرنگ دل کے کارکنان کا ذکر آیا انہی فسادات کے دوران 23اگست 2008 کو ہندوراہب سوامی لکشمنانند کے قتل کے بعد انتقامی کارروائیوں میں تقریباً متعدد عیسائی ہلاک ہوئے اور تقریباً 300 چرچ اور 6ہزار گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا بات یہی نہیں رکی بلکہ اس سے پہلے سن 2002 گجرات کے واقعات میں تقریباً 50 ہزار سے زائد مسلمانوں کا قتل عام خواتین کی عظمت در کی گئی معصوم بچوں کو کاٹا گیا کسی ایک کو بھی گولی سے نہیں مارا گیا بلکہ برچھیوں ، ترشولوں اور کٹاروں سےکاٹا گیا یہ واقعات تب رونما ہوئے جب گجرات(حیدرآباد) میں نریندر مودی وزیر اعلیٰ تھے بہت ساری مساجد کو ڈائنامیٹ کیا گیا پولیس والو ں نے بجائے مسلمانوں کو بچانے کے الٹا خاموشی اختیار کئے رکھی جب کہ بھارتی میڈیا نے کسی بھی واقعہ کو ہائی لائٹ نہیں کیا جس طرح وہ پاکستان کے خلاف واویلا کرتا رہا ہےپاکستانی جہادیوں نے تباہی پھیلادی جیش محمد ، سپہ صحابہ اوردیگر مذہبی جماعتوں کو دہشت گردی قرار دینے والی آر ایس ایس نے انتہاپسندی،دہشتگردی ، اور بنیاد پرستی کی جو مثال قائم کی ہے اس کو تمام عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے سب کے سامنے رکھ دیا اس کے علاوہ موجودہ حالات میں خطے کی صورتحال کا ذمہ دار بھارت ہے 5 اگست 2019کو بھارت نے صدارتی حکم The Constitution (Application to Jammu and Kashmir) Oorder کے ذریعے آئین کی دفعہ 370اور35A منسوخ کر کے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی اس دن پارلیمان نے Jammu and Kashmir Reorganisation act 2019 منظور کیا جس کے تحت ریاست کو دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر کے مرکزی حکومت کے ز یر انتظام علاقہ قرار دیدیااسی دوران آر ایس ایس کے تربیت یافتہ غنڈوں کو مقبوضہ کشمیر میں گھسا کر تقریباً 12ہزار نوجوانوں کا قتل عام کیا گیا جس کے نشانات تک مٹادئے گئے ہیںجن کی قبریں بھی نہیں ملیں پاکستان سمیت بین الاقوامی مبصرین اور نسانی حقوق کی تنظیموں نے آر ایس ایس کے بعض تربیتی کیمپس جنہیں شاکھا کہا جاتا ہے کے بارے میں بتایا ہے کہ محض نظم وضبط یا سماجی خدمت کے پروگرام یہ ایک دکھاوا ہے بلکہ یہ ایک ایسی تنظیمی تربیت کا حصہ ہیں جو اس میں شامل ہونے والے افراد میں عسکری طرز عمل سخت ڈسپلن ،قوم پرستی اور بنیاد پرستی جیسے نظریات کو مزید گہرا کرتا ہے جس کا نتیجہ پھر بابری مسجد ،عیسائیوں کے گرجوں پر حملوں اور گجرات کے سانحات جیسے واقعات کو جنم دیتا ہے بھارت نے 76 سالوں میں عالمی سطح پر ہمیشہ یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کے اندر کام کرنے والی مذہبی تنظیمیں دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہیںجبکہ ان مذہبی تنظیموں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں اور فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے بھارت کی اس کوشش کو تحریک انصاف کی حکومت نے تب ننگا کیا جب پہلگام اور اڑی واقعات رونماہونے سے پہلے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے بتادیا تھاکہ بھارت خود ساختہ دہشتگردی کے واقعات رونما کرواکر اس کا الزام پاکستان پر لگا سکتا ہے اور ہوسکتا ہےکہ وہ پاکستان کو جنگ میں دھکیل دے چنانچہ ایساہی ہوا بھارت کی اس ہڈدھرمی کی وجہ سے ساراخطہ جنگ کی لپیٹ میں آجاتا لیکن پاکستانی آرمی نے بروقت جواب دے کر بھارت کو ہمیشہ کے لئے خاموش کروادیا جبکہ اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر عمران خان کی وہ تاریخی تقریر دنیا کے سامنے آر ایس ایس کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے کا باعث بنی۔ بھارت نے گزشتہ 75 برسوں میں جس محنت سے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کا ذمہ دار ہے، وہ ایک دن میں ہی بکھر کر رہ گئی عمران خان کے دوٹوک مؤقف نے عالمی برادری کو باور کرایا کہ دراصل آر ایس ایس وہ نظریاتی قوت ہے جو بھارت کی انتہاپسند سیاست، گجرات اور حیدرآباد جیسے سانحات، اور پاکستان کے خلاف مسلسل محاذ آرائی کے پیچھے کارفرما ہے آج ہندوستان کی حکومت مکمل طور پر آر ایس ایس کے نظریاتی شکنجے میں جکڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے، اور اگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو خطے میں امن و استحکام ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔



