انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

معیشت پائیدار ترقی کی جانب گامزن، سی پیک 2.0کو حقیقت میں ڈھالیں گے، وزیراعظم

پاکستان چین کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرکے سالوں میں نہیں مہینوں میں کمال کر سکتا ہے، نوجوان ہمارا مستقبل اور آنے والے کل کی امید ہیں، پاک، چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نی زراعت، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت ( اے آئی) سمیت مختلف شعبوں میں چین کی ترقی کو مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان چین کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کرکے سالوں میں نہیں مہینوں میں کمال کر سکتا ہے، نوجوان ہمارا مستقبل اور آنے والے کل کی امید ہیں، چین پاکستان کا آزمودہ دوست اور ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہے، پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے، سی پیک 2.0کو حقیقت اور کامیابی میں ڈھالیں گے، چین سے جدید زراعت کی تربیت حاصل کرنے والے ایک ہزار زرعی گریجویٹس زرعی معیشت کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک، چین ایگری انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے زراعت کو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں وسیع مواقع موجود ہیں، جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر پیداوار بڑھانا ہوگی، اس سلسلے میں کچھ کامیابیاں حاصل کیں ہیں، بہت کرنا باقی ہے، سائنسدانوں اور زرعی ماہرین کو پانی کے بہترین استعمال، کاشتکاری کے جدید طریقوں کو بروئے کار لانا ہوگا اور ویلیو چین، کولڈ چین اور ویلیو ایڈیشن کو یقینی بنانا ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چین پاکستان کو بہترین مہارتیں اور ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے، 2024ء اور 2025ء میں چین میں بی ٹو بی اور جی ٹو جی مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا، ان ایم او یوزکو پاکستان اور چین کے کاروباری ادارے مل کر عملی معاہدوں میں بدل رہے ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو ملک بھر سے میرٹ پر منتخب کرکے چین کی زرعی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز میں بھجوایا جہاں انہوں نے بہترین معیار کی تربیت اور مہارتیں حاصل کیں، وہ یہاں آ کر کسانوں کی مدد کریں گے، ان کی مہارتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرکے زرعی معیشت کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔
انہوں نے چینی سفیر کی تقریر کو سراہتے ہوئے کہا کہ زرعی تکنیک، آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین کی ترقی بے مثال ہے، پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات برسوں پر محیط ہیں اور رواں سال ہم اپنے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی کسانوں، زرعی اداروں اور ماہرین پر زور دیا کہ وہ آگے آئیں، اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور وہ کمال کر دکھائیں، جس کی پاکستان کی زرعی معیشت کو ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں میں وہ صلاحیت ہے کہ ہم اپنی زرعی معیشت کو سالوں میں نہیں مہینوں میں بدل سکتے ہیں۔ انہوں نے افراط زر، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی، برآمدات میں اضافے اور معاشی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام کے بعد پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے، زراعت میں چین پاکستان کی ہر ممکن مدد کے لئے تیار ہے، پاکستان چینیوں کا اور چین پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے، دونوں ممالک کی دوستی فولاد سے مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔
چینی صدر ایک وژنری لیڈر ہیں جو نہ صرف چین کی ترقی بلکہ کثیرالجہتی تعلقات اور مشترکہ تقدیر پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ سی پیک 2.0کو حقیقت اور کامیابی میں بدلنے کے منتظر ہیں۔ قبل ازیں چین کے سفیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت ان کے لئے باعث مسرت ہے، زرعی تعاون پر گفتگو کے لئے اکٹھا ہونا نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اقتصادی ترقی میں ہمارا حصہ تقریباً 30فیصد ہے، چین نے دنیا کے دیگر ممالک کے لئے نئے مواقع فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کی گزشتہ سال 3فیصد سے زائد ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026ء کی پہلی سہ ماہی میں یہ شرح 3.71فیصد تک پہنچ گئی ہے، کئی اہم معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے۔
مہنگائی کی شرح 4فیصد پر برقرار، عوام کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے، کرنٹ اکائونٹ سرپلس 2.1ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.2ارب امریکی ڈالر ہو گئے ہیں، جس پر میں وزیراعظم شہباز شریف اور برادر پاکستانی عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کو تیز کریں گے۔
صدر شی جن پنگ، پاکستان کے صدر و وزیراعظم کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر مکمل عملدرآمد کریں گے، ترقیاتی منصوبوں اور دوطرفہ ایکشن پلانز کے درمیان ہم آہنگی کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی تعاون اور حفاظتی انتظامات کو بھی مضبوط بنائیں گے، دہشتگردی کی خلاف پاکستان کی ثابت قدم جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں تعاون کو ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ہدف دوطرفہ زرعی تجارت کو ایک ارب امریکی ڈالر تک لے جانا ہے۔
چین کے ساتھ زرعی مصنوعات میں پاکستان کے تجارتی سرپلس کو برقرار رکھنا ہے، جدید زراعت میں تعاون کو وسعت دیں گے، چین کے زرعی ٹیلنٹس ٹریننگ پروگرام کو بطور معاون ذریعہ استعمال کریں گے، پاکستان کی ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی ترقی کی سمت کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں گے، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھائیں گے۔ تقریب میں پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کے حوالے سے دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں دونوں ممالک کے تجارتی، سفارتی اور برادرانہ تعلقات کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کیا گیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button