انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

کسی دوسرے ملک میں پیش آنیوالے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائیگا: فیلڈ مارشل

راولپنڈی، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک دشمن عناصر اور ان کے ٹھکانوں کا جہاں کہیں بھی وجود ہوگا، انہیں ٹھوس اور انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔
علما کرام قومی اتحاد کے فروغ اور انتہا پسندی کے سدباب میں اہم کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں اہلِ تشیع مکتبِ فکر کے علماء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے ان سے ملاقات کی، ملاقات میں قومی سلامتی اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں علماء کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے قومی اتحاد، رواداری اور یکجہتی کے فروغ اور خصوصاً گمراہ کن معلومات، فرقہ وارانہ بیانیوں اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی عدم استحکام کی کوششوں کے تدارک کے حوالے سے علماء کے کلیدی کردار پر زور دیا۔ آپریشن غضب للحق کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سرزمین کے خلاف دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، اور اس بات پر زور دیا کہ ملک دشمن عناصر اور ان کے ٹھکانوں کا جہاں کہیں بھی وجود ہوگا، انہیں ٹھوس اور انٹیلیجنس پر مبنی کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے افغان طالبان پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکیں۔
فیلڈ مارشل نے شرکا کو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور فعال سفارتکاری سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ علما ومی اتحاد کے فروغ اور انتہا پسندی کے سدباب میں اہم کردار ادا کریں، اور مذہبی جذبات کو کسی بھی صورت میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ملاقات میں شریک علما نے امن و استحکام کی خواہش کا اظہار کیا، مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی اور ملک میں امن کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر علما نے تشدد کی بھرپور مذمت اور امن و استحکام کے لیے سکیورٹی اداروں کی حمایت کا اعلان کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button