
صوبہ پنجاب کا محکمہ صحت، جو عوام کی فلاح و بہبود اور جانوں کے تحفظ کا ضامن ہونا چاہیے، بدقسمتی سے اندرونی بدعنوانی، اقربا پروری اور اخلاقی گراوٹ کی ایک افسوسناک تصویر پیش کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اعلیٰ افسران کی سرپرستی میں کچھ نااہل اور بااثر افسران نہ صرف کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں میں ملوث رہے بلکہ انہوں نے اپنی ناجائز کمائی سے عیش و عشرت کے محلات بھی تعمیر کر لیے۔
یہ معاملہ محض مالی کرپشن تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک سنگین اخلاقی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہی افسران نے محکمہ میں کام کرنے والی نچلے درجے کی خواتین کو ہراساں کرنے جیسے گھناؤنے اقدامات بھی کیے، جو نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک مہذب معاشرے کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔
مزید حیران کن امر یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مبینہ طور پر ان تمام معاملات سے لاعلم رکھ کر، چند مخصوص افسران نے بیک وقت 10 اہم عہدوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ اس کے برعکس، کچھ پسندیدہ خواتین کو تین تین پرکشش عہدوں کا چارج دے کر میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ اس غیر منصفانہ تقسیم نے محکمہ کے دیگر اہل اور محنتی افسران میں شدید بے چینی اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف گورننس کے نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ نچلی سطح پر احتساب کا نظام کس قدر کمزور ہو چکا ہے۔ اگر ایک ہی فرد متعدد عہدوں پر براجمان ہو اور چند مخصوص افراد کو نوازا جائے، تو ادارے کی کارکردگی اور شفافیت دونوں شدید متاثر ہوتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، ایک آزاد اور شفاف انکوائری کمیٹی تشکیل دیں، اور تمام ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ساتھ ہی محکمہ میں میرٹ، شفافیت اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر پالیسی اقدامات کیے جائیں۔
اگر ایسے عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی تو نہ صرف محکمہ صحت کی ساکھ مزید خراب ہوگی بلکہ عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس خاموش لوٹ مار اور اخلاقی انحطاط کا سدباب کیا جائے، تاکہ محکمہ صحت واقعی عوامی خدمت کا ادارہ بن سکے، نہ کہ ذاتی مفادات کا مرکز۔
عوام کا کہنا ہے کہ پنجاب کا محکمہ صحت ایک بار پھر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ عوامی خدمت کے نام پر قائم یہ ادارہ آج خود احتسابی، شفافیت اور میرٹ سے دور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ نا اہل افسران کی موجودگی نے نہ صرف انتظامی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیا ہے بلکہ تبادلوں، تعیناتیوں اور ترقیوں کے عمل کو بھی کرپشن کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ محکمہ صحت میں اکثر فیصلے میرٹ کے بجائے ذاتی مفادات، سفارش اور مالی لین دین کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ قابل اور دیانتدار ڈاکٹرز اور عملہ نظر انداز ہو جاتا ہے جبکہ اثر و رسوخ رکھنے والے افراد اہم عہدوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔ اس غیر منصفانہ نظام نے نہ صرف ادارے کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے بلکہ مریضوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بنیادی سہولیات کا فقدان، ادویات کی کمی، اور ڈاکٹرز کی عدم دستیابی معمول بن چکی ہے۔ مریض علاج کے لیے آتے ہیں مگر اکثر مایوسی اور دعاؤں کے سہارے واپس لوٹ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت مزید افسوسناک ہو جاتی ہے جب دیکھا جائے کہ وسائل کی کمی سے زیادہ مسئلہ ناقص انتظام اور بدعنوانی کا ہے۔
افسران کی نا اہلی اور کرپشن نے نظام کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہو چکا ہے۔ جب ترقی اور تبادلے میرٹ کے بجائے پیسے یا سفارش سے ہوں گے تو نظام کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں میں خدمات کا معیار دن بدن گرتا جا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس لے۔ محکمہ صحت میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، تبادلوں اور ترقیوں کے عمل کو مکمل طور پر میرٹ پر لایا جائے، اور کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو بنیادی حق یعنی علاج کی سہولت میسر آ سکے۔
اگر اب بھی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ نظام مزید بگڑتا جائے گا اور اس کا خمیازہ عام شہری کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ محکمہ صحت کو سیاست اور مفادات سے نکال کر حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کا ادارہ بنایا جائےورنہ مریض دعاؤں کے سہارے ہی رہ جائیں گے۔



