انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

بھارتی دھمکیاں، بیانیے کی جنگ اور حقیقت کا میدان

عاصم رضاخیالوی

جنوبی ایشیا کی سیاست میں طاقت کے بیانیے اکثر زمینی حقیقت سے زیادہ بلند آواز میں سنائی دیتے ہیں، مگر تاریخ ہمیشہ وہی لکھتی ہے جو میدانِ عمل میں ہوتا ہے، نہ کہ وہ جو پریس کانفرنسوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں بھارتی آرمی چیف Upendra Dwivedi کی ایک پریس کانفرنس نے خطے میں نئی بحث کو جنم دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے پاکستان کے بارے میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ “جغرافیہ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا تاریخ کا”۔ یہ جملہ عسکری سے زیادہ سیاسی اور نفسیاتی انداز کا تھا، جسے بھارتی میڈیا میں طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا۔
تاہم جنوبی ایشیا کے سیاسی مبصرین کے نزدیک ایسے بیانات اکثر اس بیانیاتی سیاست کا حصہ ہوتے ہیں جہاں دعوے حقیقت سے بڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی تضاد کو سمجھنے کے لیے برصغیر کی لوک روایت کا کردار شیح چلی اکثر بطور استعارہ پیش کیا جاتا ہےایک ایسا کردار جو اپنی خیالی دنیا میں بڑے منصوبے اور کامیابیاں دیکھتا ہے، مگر حقیقت کی زمین پر نتائج مختلف نکلتے ہیں۔
بعض مبصرین کے مطابق بھارتی عسکری قیادت کے حالیہ بیانات اور میڈیا بیانیہ بھی اسی طرح کی بلند توقعات اور دعوؤں کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں بعد میں زمینی حقائق کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔
یہی صورتحال اس وقت بھی نظر آئی جب بھارتی میڈیا نے آپریشن سندور کو ایک بڑی عسکری کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ ٹیلی ویژن مباحثوں اور تجزیوں میں اسے اس انداز سے بیان کیا گیا جیسے بھارت نے فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہو۔ مگر سرحدی کشیدگی کے دوران پاکستان نے اپنے دفاعی حق کے تحت فوری اور مؤثر ردعمل دیا، جس کے بعد صورتحال کا توازن مختلف انداز میں سامنے آیا۔
عالمی میڈیا نے بھی اس صورتحال کو تشویش کے ساتھ دیکھا۔ امریکی اخبار The Washington Post نے اپنے تجزیے میں خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو دنیا اکثر کم سمجھتی ہے، حالانکہ معمولی جھڑپیں بھی بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ اخبار کے مطابق ایسے بیانات اور عسکری کشیدگی خطے میں ایک خطرناک غلط فہمی کو جنم دے سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی امن تک پہنچ سکتے ہیں۔
اسی تناظر میں جنوبی ایشیا میں دو مختلف سوچیں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک طرف وہ طرزِ فکر ہے جو سخت بیانات اور جارحانہ بیانیے کے ذریعے طاقت کا اظہار کرتی ہے، اور دوسری طرف وہ حکمتِ عملی ہے جو دفاعی توازن اور خطے میں امن کے قیام کو ترجیح دیتی ہے۔
یہ فرق صرف الفاظ کا نہیں بلکہ حکمتِ عملی کا ہے۔ ایک سوچ میڈیا اور بیانیے کے ذریعے برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے، جبکہ دوسری سوچ طاقت رکھتے ہوئے بھی جنگ کو روکنے اور استحکام کو برقرار رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔
آخرکار تاریخ ہمیشہ میدانِ عمل کے نتائج کو یاد رکھتی ہے، نہ کہ پریس کانفرنسوں کے بلند دعوؤں کو۔ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں اصل کامیابی جنگ کو بڑھانا نہیں بلکہ اسے روکنا ہےاور یہی وہ امتحان ہے جس پر قیادتوں اور بیانیوں کو پرکھا جاتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button