انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

قربانی کی اصل روح

تحریر: راحیلہ رحمن(اسلام آباد)

عید میں چند دن ہی باقی تھے آمنہ دلجمعی سے اپنے کمرے کی صفائی میں مشغول تھی کہ اچانک باہر سے آتے شور سے اندازہ ہوا کہ گھر کے مرد قربانی کے جانور لے کر واپس آچکے ہیں اس نے لان کی جانب کی کھڑکی کھول کر جھانکا تو ایک اونٹ ،2بیل اور 4بکرے دیکھ کر حیران ہوگئی کیونکہ اس بار جانوروں کی تعداد پچھلی بار سے زیادہ تھی باوجود اس کے اس بار جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں وہ جانور دیکھنے میں مصروف تھی کہ بڑے بھائی کی آواز کانوں سے ٹکرائی” اب دیکھنا بچوں محلہ ہی کیا سارا خاندان مقابلہ نہیں کر پائے گا۔

ہمارے گھر کے شاندار جانور دیکھنے سارا علاقہ تو آتا ہی ہے اب خاندان والے بھی تعریفیں سن کر ضرور آئیں گے اور کچھ کر رہے جائیں گے۔” دادا جان میں اپنے سارے دوستوں کو بلا لوں دکھانے اور باہر گھمانے کے لیے کاشف بہت اترا رہا تھا اپنی دبلی پتلی گائے پر اب میں دکھاو ¿ں گا کہ جانور کیسے ہوتے ہیں ،اس کے گائے تو ہمارے تگڑے بکرے سے بھی ہار جائے گی“ گڈو کی بات پر سب قہقہہ لگا کے ہنس پڑے۔ ” ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں سب کو بلائو انہیں بھی تو پتہ چلے ہم کس شان سے قربانی کرتے ہیں کاشف سے کہنا اپنی گائے بھی ساتھ لائے “ ابا جان نے تو گویا گڈو کے دل کی بات کہہ دی۔

سب خوش تھے مگر کھڑکی پر کھڑی آمنہ کا دل اداسی کی دلدل میں ڈوب رہا تھا اس کی دلی کیفیت بوجھل ہونے لگی ”اللہ کو جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے“ حدیث کا مفہوم ذہن میں گردش کرنے لگا اسے اپنے باپ بھائیوں اور بھتیجے کی باتوں میں تقوی کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ” مگر یہ جو لاکھوں کے جانور کھڑے ہیں وہ کس لئے ہیں ؟“

آمنہ نے خود سے سوال کیا ریا کاری ،دکھاوا، مقابلہ بازی اسکے اندر سے آواز آئی جب دل شفاف ہو تو جواب خود ہی مل جاتے ہیں۔ آمنہ کے رونگھٹے کھڑے ہونے لگے ،دھڑکن کی رفتار تیز ہوتی جارہی تھی اور خود میں اترتی خوف کی لہر وہ واضح محسوس کر سکتی تھی، دل غم سے بھر چکا تھا مگر کیوں؟ وہ بھی تو اسی خاندان کا حصہ تھی اسی باپ کی بیٹی تھی جس نے دو بھائیوں کے ساتھ اسی ماحول میں اس کی پرورش کی تھی وہ بھی تو یہی باتیں سن کر اور یہی سب دیکھ کر بڑی ہوئی تھی۔ ابو کبھی اپنا شوق پورا کرنے کیلئے جانور لاتے تو کبھی بڑے بھائی کی فرمائش پر مہینہ بھر پہلے سے لاکر کھڑا کردیتے تو کبھی چھوٹے بھائی کی شدید ضد پر جانوروں کی تعداد بڑھا لیتے کبھی خاندان اور علاقے میں کسی سے سبقت لے جانے کیوجہ سے خوب سے خوب تر کی تلاش کرتے۔

بھائیوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ انکی خواہشات بھی بڑھنے لگیں وہ بھی ابو کے نقش پا پر چلتے رہے تقوی اس وقت بھی ان کی باتوں میں نظر نہ آتا تھا ،قربانی کا مقصد کبھی انکی زبان سے ادا نہ ہوا مگر اس وقت آمنہ کو برا نہیں لگتا تھا بلکہ وہ سب کے ساتھ تمام سرگرمیوں میں شامل رہتی نہ دل ڈوبتا نہ سوچیں بکھرتیں تو پھر اب ایسا کیوں؟ یقینا اس کی وجہ کالج کی سہیلی صالحہ تھی جب وہ کالج میں داخل ہوئی تو پہلی ملاقات صالحہ سے ہوئی اور فورا دوستی ہوگئی صالحہ بالکل اپنے نام کی طرح نیک ، سلجھی ہوئی اور دیندار گھرانے کی لڑکی تھی اس کی والدہ ایک دینی ادارے میں پڑھاتی تھیں اور صالحہ خود بھی قران کی تفسیر پڑھ رہی تھی آمنہ کو صالحہ کی باتیں بہت اچھی لگتیں وہ فارغ وقت میں روزانہ اس سے دینی باتیں سیکھتی سوالات کرتی اس کا ذہن کھلتا جا رہا تھا۔

چند ماہ میں صالحہ نے اسے قرآن کی وہ باتیں بتائی تھیں جو وہ پہلے نہیں جانتی تھی صالحہ کی دی گئی کتابوں کے مطالعے نے اسے صحیح غلط کی پہچان کرادی تھی بہت کچھ واضح ہو چکا تھا اس لیے اب جب بھی خلاف حق کوئی بات اس کے سامنے کی جاتی تو وہ اسی طرح بے چین ہو جاتی تھی دل بوجھل ہو جاتا وہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی اس لیے باوجود کوشش کے انہیں سمجھا نہ سکی کبھی باپ کا رعب آڑے آتا تو کبھی بھائیوں سے اس کی عمر کا فرق اس کی زبان پر مہر لگا دیتا۔آج عید کا دن تھا جانور ذبح ہو چکے تھے بھابھیاں اور امی فہرست کے مطابق بانٹنے والے گوشت کے حصے لگا رہی تھیں۔

”نعمان اور شاہد کے گھر گوشت ذرا اپنی شان کے مطابق دینا بہت اتراتے پھررہے تھے ان کے خیال میں ان سے زیادہ جانور کوئی ذبح نہیں کر سکتا ان کی غلط فہمی تو دور ہو ذرا “ خالد بھائی کے لہجے میں غرور نمایاں تھا۔ ”رشتہ داروں کے گھروں سے جتنا آئے اس سے تین گنا زیادہ دینا تاکہ انہیں بھی تو پتہ چلے کہ ہمارے پاس کمی نہیں ہے“ زاویار بھائی نے لقمہ دیا،وہ نہ جانے اور کیا کچھ کہتے رہے مگر آمنہ کے دماغ میں کمی کا لفظ اٹک کر رہ گیا۔ واقعی کمی تو کسی چیز کی نہ تھی دولت ،حسب نسب ، رتبہ اور سب سے بڑھ کر تکبر سب ہی کچھ تو تھا دنیاوی لحاظ سے تو کوئی کمی نہ تھی کمی تھی تو قربانی کی اصل روح تک پہنچنے کی۔

اللہ کے نزدیک قربانی تو وہ معتبر ہے جو خالص اللہ کے لیے دی جائے چاہے وہ چند کھجوریں ہی کیوں نہ ہوں خالص نیت ان کا اجر احد پہاڑ کے برابر کر دیتی ہے، کمی تھی تو نیت کو اللہ کیلئے خالص کرنے کی، کمی تھی تو علم کی یہ جان لینے کی کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ قربانی نہیں محض مقابلہ بازی ہے تکبر ہے ریاکاری ہے کمی ہے تو یہ سمجھ لینے کی کہ جو قربانی کر رہے ہیں گوشت ان کو نہیں بلکہ ان کو دینا ہے جو سارا سال گوشت نہیں خرید پاتے انکے بچے عید کا انتظار کرتے ہیں کہ اب گوشت کھانے کو ملے گامگر اتنے جانور کاٹنے کے باوجود بھی حقدار محروم رہیں اور جو رشتہ دار پہلے ہی انبار لگائے بیٹھے ہیں انہیں مزید بھر دیا جائے یہ کیسا طرز عمل ہے سنت ابراہیمی یہ تو نہیں غریبوں ناداروں ضرورت مندوں کا نام فہرست میں تو کیا انکا ذکر لبوں پر بھی نہ آسکے تو ایسی قربانی کس کام کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو سارا گوشت بانٹ دیتے اور سوچتے گویا سب کچھ بچ گیا یعنی آخرت کیلئے اسکا اجر محفوظ ہوگیا۔

آج ہمارا حال اسکے بالکل برعکس ہے ہم پاس ذخیرہ کر لیتے ہیں اور دیتے بھی ان کوہیں جن کو ضرورت نہیں دینے میں بھی اجر کو نہیں دنیاوی تعلقات کو مد نظر رکھتے ہیں۔ آمنہ کی تڑپ آنسو بن کر آنکھوں سے بہنے لگی اس لمحے اسے اپنا گھر اس کے مکین اور قربانی سب آگ کی لپیٹ میں گھرے محسوس ہوئے اس کے کانوں میں صالحہ کی آواز گونجی ”حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا!بچائواپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے“ حدیث کے مفہوم نے اسے جھنجوڑ دیا ، جب حق واضح ہو جائے تو آگے پہنچا دینے کا حکم ہے اللہ اس کے متعلق سوال کرے گا اللہ کا حکم یہ نہیں کہ چھوٹے بڑوں کو نہیں پہنچا سکتے یا صرف بڑے ہی چھوٹوں کو اچھی باتیں سکھا سکتے ،چھوٹا ہو یا بڑا جس کے پاس علم پہلے پہنچے بلا خوف و خطر اور بلا تفریق آگے پہنچانا اس کا فرض ہے اور سب سے پہلے حقدار اس کے رحمی رشتے ہیں اس سوچ کے آتے ہی آمنہ پختہ عزم کے ساتھ کھڑی ہوئی اور مضبوط قدم بڑھاتی برآمدے کی جانب چل دی جہاں تمام گھر والے موجود تھے آج وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اپنے پیاروں کی قربانی کو ضائع ہونے سے ہر صورت بچائے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button