
گزشتہ چند سال سے حکومت میں سرکاری افسران و اہلکاران نے قسمت سے زیادہ خوش آمد چاپلوسی اور مخصوص کاموں میں اعلی کارکردگی کو بنیاد بنا رکھا ہے۔ جس کے باعث قانون موم کی ناک بن کر رہ گیا ہے۔ من پسند افسران کی اعلی ترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے پہلے تین ماہ کے لیے نہ صرف آرڈیننس لائے جاتے ہیں بلکہ ان آرڈیننس کا فائدہ بھی صرف مخصوص افراد کو پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت دیا جاتا ہے۔
اسطرح صوبے بھر میں اپنی اعلی کارکرگی سے اعلی عہدوں پر تعینات اور پھر بے شمار عنایات میں صوبے کے مختلف محکمہ جات میں پانچ سو سے زائد افسران اور اہلکار موجود ہیں مگر اج ہم ذکر کریں گے ایک انتہائی محنتی اور جفا کش افسر کے بارے میں جو نہ صرف محکمہ صحت کا اثاثہ ہے بلکہ ان کی تعیناتی کے بعد سے چار سالوں میں مختلف اعلی افسران کی جانب سے لکھی گئی سالانہ خفیہ رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ محکمہ کے ایک نایاب ترین افسر ہیں جبکہ انہیں تمام تر شعبوں پر مکمل عبور حاصل ہے جو محکمانہ وقار کے حامل اور بہترین پرفارمر سمیت فائنانشل قوانین پر عبور رکھنے والے ایماندار افسر ہے جو محکمے کے لیے ایک اثاثہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔
مجھےخوشی ہوتی ہے ایسے افسران کے بارے میں جانتے ہوئے کہ اگر ایسے افسران محکمے میں موجود نہ ہوں تو شاید محکمہ تباہ و برباد ہو جائے اور ایسے ہی افسران کے کندھوں پر محکمہ چلتا ہے جن کی قابلیت سے محکمے کے دیگر افسران کے عیبوں اور خامیوں پر پردہ پڑا رہتا ہےمیں جس لاتعداد صلاحیتوں کے مالک افسر کے بارے میں بات کر رہا ہوں وہ آج کل محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ میں بطور ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس گریڈ انیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
2010 میں جب ایشین ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت پنجاب ہیلتھ سیکٹر ریفارم پروگرام شروع کیا گیا جس کا ایک شعبہ فائنانشل مینجمنٹ سیل تشکیل دیا گیا جس کا کام صرف مالی تخمینہ لگانا تھا کہ کس ادارے کی کیا ضروریات ہیں جبکہ بجٹ ونگ اور پلاننگ ونگ الگ الگ سے کام کر رہے تھے, پھر اچانک ہمیشہ کی طرح جس طرح غیر ملکی امداد دیکھ کر بیوروکریٹس کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں اور اسے اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتے ہیں محکمہ صحت کے بجٹ ونگ کا کام بھی اس سیل نے شروع کر دیا۔
اس مصرے کے مترادف
کہ اونٹ کو سر چھپانے کی جگہ ملی تو اس نے پورے خیمہ پر قبضہ کر لیا۔
پھر محکمہ صحت کے دو حصے ہوئے تو پنجاب ہیلتھ سیکٹر ریفارم پروگرام پرائمری ہیلتھ کے پاس چلا گیا جس میں بیسک ہیلتھ یونٹ۔ رورل ہیلپ سینٹر اور مدر اینڈ چائلڈ سروسز کو بہتر بنانا تھا ۔
فائنانشل مینجمنٹ سیل کی ایس این ای میں گریڈ 18 کی صرف ایک سیٹ کنٹریکٹ پر تخلیق کی گئی تو موصوف حماد الرب کو گیارہ جنوری 2016 کو محکمہ سپیشلائز ہیلتھ کے فائنینشل مینجمنٹ سیل میں بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تین سالہ کنٹریکٹ پر تعینات کر دیا گیا ۔ موصوف حمادالرب تعیناتی کے وقت 14 بی بلاک ایف مرغزار کالونی سبزہ زار ملتان روڈ لاہور میں رہائش پذیر تھے جبکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے باعث اج کل ڈیفنس میں شفٹ ہو چکے ہیں۔ موصوف کی تعیناتی سے قبل اس عہدے پر افضل بیگ ولد مسعود علی بیگ جنہیں ایڈہاک بنیادوں پر رکھا گیا تھا کی خدمات منسوخ کر دی گئی۔
تیس جنوری 2019 میں محکمہ نے موصوف کی تین سالہ مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد گیارہ جنوری 2019 سے انکی لامتناہی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے مزید 10 جنوری 2020 تک ایک سالہ کنٹریکٹ کی مدت بڑھا دی۔
23 اکتوبر 2019 کو طلسم اعظم سے محکمہ صحت نے پنجاب ریگولرائزیشن سروس امینڈمنٹ آرڈیننس 2019 کے تحت موصوف کو گریڈ 18 میں مستقل ملازمت عطا کر دی۔ موصوف پر قسمت کی دیوی کی مہربانی کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ گریڈ ایک سے پانچ میں ریگولر ہونے کے لیے سینکڑوں ملازمین ترستے ہیں مگر قسمت کی دیوی ان پر مہربان نہیں ہوتی اور ان کے منہ سے صرف ایک ہی دعا نکلتی ہے۔
ہم نے یہ دعا جب بھی مانگی تقدیر بدل دے اے مالک۔
آواز یہ آئی اب ہم نے تقدیر بدلنا چھوڑ دیا۔
تییس اکتوبر 2019 میں ریگولر ہونے والے حماد الرب کو دیے جانے والے نوٹیفکیشن میں لکھا گیا کہ وہ پرانی تنخواہ سے پینشن کے حقدار نہیں اور انہیں تنخواہ اپنی سکیل کی ابتدائی سٹیج سے ملے گی جبکہ وہ سنیارٹی میں سب سے نیچے ہوں گے۔ تییس جنوری 2023 کو پرانے لیٹر جو 13 اکتوبر 2021 کو جاری ہوا تھا کو جاری رکھتے ہوئے محکمے نے اعلی صلاحیتوں کے حامل حماد الرب کو صوبے بھر کا فوکل پرسن بنا دیا جو صوبے بھر میں ہونے والی مختلف مشکلات اور مسائل کا حل دریافت کریں گے ۔
چھ فروری 2023 کو ڈپٹی ڈائریکٹرفائنانشل مینجمنٹ سیل حماد الرب کو ڈپٹی سیکرٹری بجٹ کا اضافی چارج دے دیا گیا۔
اٹھارہ اپریل 2025 کو ڈپٹی ڈائریکٹرفائنانشل کو ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس گریڈ انیس کا کرنٹ چارج دے کر محکمے میں تعینات کر دیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گریڈ انیس کی سیٹ کیسے تخلیق کی گئی تو جواب یہ ہے کہ چھ اکتوبر 2023 کو محکمہ صحت کے سامری جادوگروں نے محکمہ خزانہ کو درخواست دی کہ میو ہسپتال میں فائنانشل انیلیسسٹ کا عہدہ جو میو ہاسپٹل میں گریڈ 19 کا تھا کو ختم کر کےفائنانشل مینجمنٹ سیل صحت سیکرٹیریٹ میں گریڈ 19 ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس میں تبدیل کر کے نئی سیٹ تشکیل دے دی جائے۔ اور پھر ناخداؤں کی ملاقات کے بعد محکمہ خزانہ نے اٹھ دسمبر 2023 کو 60 دن کے قلیل عرصہ میں گریڈ انیس کی فائنانشل سیٹ میو ہاسپٹل ختم کر کے اسپیشلائز ہیلتھ میں ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس کی سیٹ تخلیق کر دی۔
محکمے کے ملازمین انتہائی خوش ہوئے اور انہوں نے دعا مانگی کہ کاش موصوف کے وسیلے سے قسمت ہم پہ بھی اتنی مہربان ہو جائے کہ ہمارے لیے بھی ہیلتھ سیکرٹیریٹ میں نئی سیٹیں تخلیق کر دی جائیں ۔ گزشتہ دنوں اس وقت محکمے کے دیگر افسران پر بم گر پڑا جب اچانک محکمہ نے ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس حماد الرب کو عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال گجرات میں جنرل ڈیوٹی پر تعینات کر دیا اور اپنی تنخواہ سیکرٹیریٹ سے حاصل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا مگر یہ بم زیادہ دیر قائم نہیں رہا اور موصوف کی قائدانہ اور لامتناہی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمے کے سامری جادوگروں نے بارہ مئی 2026 کو صرف اٹھ دن بعد ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس کو عزیز بھٹی ٹیچنگ ہسپتال تعینات کرنے کا حکم نامہ واپس لے لیا تو محکمے میں اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔
گزشتہ روز میرے علم میں آیا کہ محکمہ صحت کے ہی ایک معصوم اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید وزیر حسین نقوی نے سیکرٹری صحت کو چار صفحات پر مشتمل ڈائریکٹر بجٹ اینڈ اکاؤنٹس حماد الرب کے خلاف درخواست دیتے ہوئے الزامات کی بوچھاڑ کر دی جس پر عمل درامد نہ ہو سکا۔ شاید اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو علم نہیں کہ ایک لامتناہی صلاحیتوں کے مالک محکمہ صحت کے اثاثے کے خلاف بات کرنے والے کو محکمہ تو کیا پاکستان میں بھی رہنا نصیب ہوتا کہ نہیں۔ میں اس معصوم اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ پاکستان میں اطمینان کی سانسیں لے سکے۔ آمین۔ سیکرٹری صحت کو چار صفات پر مشتمل درخواست کی ابتدا قران کریم کی ایک خوبصورت ترین سورت النساء کی ایت نمبر 135 سے کی ہے جسکا مطلب ہے کہ اللہ کے لیے انصاف طلب کرو۔ ایسا نہ ہو کہ تم انصاف سے دور رہو اور اگر تم حق سے منہ موڑتے ہو تو جان لو کہ اللہ تمہارے کاموں سے باخبر ہے۔
حمادالرب کے بارے متعلقہ افسر نے لکھا ہے کہ حماد الرب سنگین پیشہ ورانہ بددیانتی, اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث ہیں۔ جس کے غیر قانونی زبانی احکامات کی تعمیل کرنے سے میں نے انکار کر دیا جو سردار فتح محمد خان بزدار انسٹیٹیوٹ اف کارڈیالوجی ڈیرہ غازی خان کی انٹرنل اڈٹ رپورٹ سے متعلق ہے جس کو ہیرا پھیری سے خارج کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان بھرتی سکینڈل میں 35 کروڑ 76 لاکھ 38 ہزار ریکوری کی بھی نشاندہی کی تھی ۔ موصوف نے لکھا کہ جب وہ ایک محکمانہ میٹنگ کے سلسلے میں سیکرٹیریٹ گئے تو حماد الرب نے عبداللہ ریاض۔ انعام اللہ۔ حسن اللہ اور شہریار کی بھرتی سے متعلق تمام ریکارڈ غائب کرنے کا حکم جاری کیا اور دھمکیاں دیں کہ حکم نہ ماننے پر پیڈا ایکٹ لگا دیا جائے گا۔ درخواست کے مطابق ڈائریکٹر حماد الرب پر الزام ہے کہ انہوں نے عبداللہ ریاض اور حسن اللہ کی غیر قانونی تقرری پر دھمکیاں دیں۔
درخواست میں ڈائریکٹر پر بے شمار الزامات ہیں جن میں سنگین ترین الزام یہ ہے کہ حماد الرب نے سنیارٹی لسٹ میں بورڈ اف مینجمنٹ کے ایک ملازم نصرت خضر خواجہ جس کا نام عارضی سنیارٹی میں موجود نہیں تھا کو فائنل سینارٹی لسٹ میں شامل کر دیا جبکہ ریگولیشن ونگ کا کہنا ہے کہ بورڈ اف مینجمنٹ ملازم ریگولر نہیں ہو سکتا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سید وزیر حسن نقوی نے سیکرٹری سے درخواست کی کہ اس کرپشن کی فرانزک تحقیقات کرائی۔ مجھے اس معصوم اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی عقل پر افسوس ہے کہ وہ بیچارہ شاید احمقوں کی جنت میں رہتا ہے کہ اسے پاکستان میں انصاف مل سکے گا ۔



