واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کی باوقار ثالثی
تحریر: محمد محسن اقبال

مجھے آج بھی پوری شدت کے ساتھ وہ لمحہ یاد ہے جب میں نے پہلی بار 1970ء کی دہائی میں شہرۂ آفاق فلم ‘بن ہر’ سینما اسکرین پر دیکھی تھی۔ یہ ایک عظیم الشان فلم تھی جس نے گیارہ آسکر ایوارڈز اپنے نام کیے، مگر اس کی تمام تر شان و شوکت میں جو منظر میرے دل و دماغ پر سب سے گہرا نقش چھوڑ گیا، وہ رتھوں کی وہ تاریخی دوڑ تھی۔
اس منظر میں چارلٹن ہیسٹن ایک پُرعزم ہیرو کے روپ میں ایک ہی رتھ سے جتے چار یا پانچ طاقتور گھوڑوں کی باگیں سنبھالے میدان میں اُترتا ہے۔ وہ گھوڑے گرد و غبار کے طوفان میں بجلی کی رفتار سے دوڑتے ہیں، ان کے عضلات کامل ہم آہنگی کے ساتھ تناؤ میں ہوتے ہیں، اور کیمرے کی آنکھ ہر موڑ، ہر جھٹکے اور ہر پیش قدمی کو ایسی شدت اور حسن کے ساتھ قید کرتی ہے کہ دیکھنے والے کی سانس تھم جاتی ہے۔ یہ مربوط قوت کا ایک ایسا دل گداز منظر تھا جہاں انفرادی طاقتیں مل کر ایک عظیم اجتماعی قوت میں ڈھل جاتی تھیں، ایسی قوت جو بڑے سے بڑے چیلنج کو بھی زیر کر سکتی تھی۔
وقت کے دھندلکوں میں محفوظ یہی منظر اُس وقت میرے ذہن میں تازہ ہوگیا جب میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری نہایت حساس اور پیچیدہ سفارتی ثالثی پر غور کر رہا تھا۔ جس طرح قدیم رتھ بان اپنے گھوڑوں کی باہمی ہم آہنگی پر انحصار کرتا تھا، اسی طرح آج کی سفارت کاری نے بھی یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ کامیابی ہمیشہ اجتماعی حکمت اور مشترکہ کاوش کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ماضی کی بیل گاڑیوں کو یاد کیجیے، جو ابتدا میں ایک ہی بیل کے سہارے چلتی تھیں، مگر وقت کے ساتھ دو بیل جوتے جانے لگے۔ جب ایک بیل سفر کی مشقت سے تھک جاتا تو دوسرا اس کا بوجھ بانٹ لیتا، یوں گاڑی بغیر رکے اپنی منزل کی جانب رواں رہتی۔ بعینہٖ اسی جذبے کے ساتھ پاکستان نے متحارب قوتوں کو قریب لانے اور انہیں ایک مشترکہ نکتے پر اکٹھا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا، اور یہ ثابت کیا کہ اجتماعی عزم وہ کچھ حاصل کر سکتا ہے جو تنہا کوشش سے ممکن نہیں۔
اس کشیدہ تنازعے کے آغاز ہی سے پاکستان نے ایک باوقار، منصفانہ اور مذاکراتی حل کے لیے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی مدبرانہ اور ثابت قدم قیادت میں ایک جامع سفارتی مہم کا آغاز کیا گیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنی تزویراتی بصیرت اور ادارہ جاتی قوت کو بروئے کار لایا، جبکہ وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے بین الاقوامی امور میں اپنے وسیع تجربے سے مکالمے کے نازک دھاگوں کو جوڑنے کی کوشش کی۔ وزیرِدفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی اپنے اپنے دائرۂ کار میں خاموش استقلال کے ساتھ اس وسیع تر سفارتی کاوش کو تقویت بخشی تاکہ سلامتی کے تقاضوں اور داخلی استحکام کے درمیان توازن برقرار رہے۔ یہ تمام شخصیات اکثر پسِ پردہ رہ کر سفیروںسے ملاقاتیں کرتی رہیں،یقین دہانیاں فراہم کرتی رہیں اور اُن شکایات کے ازالے کی کوشش کرتی رہیں جنہوں نے برسوں سے تعلقات کو زہر آلود بنا رکھا تھا۔
پاکستان کی ان کوششوں کو خطے کے اُن دوست ممالک کی بھرپور تائید بھی حاصل رہی جن کے اپنے مفادات بھی امن اور استحکام سے وابستہ تھے۔ خاموش مشاورتوں اور محتاط حوصلہ افزائی کے ذریعے رفتہ رفتہ اعتماد کی ایک فضا جنم لینے لگی۔ یہ راستہ ہرگز آسان نہ تھا۔ گہرے شکوک و شبہات، تاریخی تلخیاں اور متصادم علاقائی عزائم ہر قدم پر اس عمل کے لےف آزمائش بنتے رہے۔ مگر پاکستان کا یہ مستقل پیغام کہ تصادم کے بجائے عقل و تدبر اور مفاہمت کو غالب آنا چاہےک، بالآخر بامعنی مذاکرات کے لےز راستہ ہموار کرتا گیا۔ ایسے دور میں جب عسکری طاقت کا معمولی مظاہرہ بھی تباہ کن جنگ میں بدل سکتا ہے، پاکستان کییہ مستقل دعوتِ مکالمہ دانائی اور دوراندیشی کی روشن علامت بن کر سامنے آئی۔
ان شاء اللہ، یہ مخلصانہ اور مسلسل کوششیں جلد اپنے مکمل ثمرات دیں گی۔ امید کی ایک نئی کرن ابھر رہی ہے کہ جلد ہی اسلام آباد میں ایک تاریخی اجلاس منعقد ہوگا، وہ دارالحکومت جو ہمیشہ مہمان نوازی اور امن دوستی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس تاریخی موقع پر متعلقہ ممالک کے نمائندے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں جو بے یقینی کے خاتمے اور نئے تعاون کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنے گا۔ ایسا لمحہ نہ صرف نازک مذاکرات کی کامیاب تکمیل کی علامت ہوگا بلکہ صبر آزما مدبرانہ قیادت کی قوت کا ایک روشن ثبوت بھی ثابت ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے شرپسند عناصر بھی سرگرم دکھائی دیتے ہیں جو اس امن کی راہوں میں کانٹیں بکھیرنے کے خاطر اپنی تمام تر قوت اور وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
اس ثالثی کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لے ایک گراں قدر خدمت انجام دی ہے۔ ایک ایسی ممکنہ جنگ کو روکنے میں مدد دے کر، جو وسیع تباہی، انسانی المیوں، مہاجرین کے بحران اور طویل المدت عدم استحکام کا سبب بن سکتی تھی، پاکستان نے ایک ذمہ دار محافظِ امن کا کردار ادا کیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے عالمی معیشت کو بھی ایک خطرناک دھچکے سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ توانائی کی ترسیل، بین الاقوامی تجارتی راستے اور مالیاتی منڈیاں، جو پہلے ہی غیریقینی حالات کے نرغے میں تھیں، ایک تباہ کن بحران سے بچ گئیں۔ گویا دنیا کی معاشی کشتی، جو پہلے ہی کئی طوفانوں کی زد میں تھی، ایک نہایت نازک لمحے میں سنبھال لی گئی۔
اقوامِ عالم کے وسیع افق پر پاکستان یوں ایک روشن اور ثابت قدم ستارے کے طور پر ابھرا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ جو ملک خود بے شمار چیلنجز سے نبردآزما ہو، وہ بھی انسان دوستی، تدبر اور بصیرت کی بنیاد پر تعمیری قیادت فراہم کر سکتا ہے۔ یہ واقعہ ایک قدیم حقیقت کو پھرزندہ کرتا ہے کہ حقیقی قوت اکثر طاقت کے مظاہروں میں نہیں بلکہ اُن لوگوں کی خاموش استقامت میں پوشیدہ ہوتی ہے جو تقسیموں کے درمیان پل تعمیر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
جب اس داستان کے آخری ابواب رقم ہو رہے ہیں تو ایک محتاط مگر حقیقی امید دلوں میں جنم لے رہی ہے۔ امن کا یہ رتھ، جسے بے شمار خیرخواہ ہاتھوں نے کھینچا ہے، ایک دشوار راستہ طے کر چکا ہے۔ اگر یہی حکمت اور حسنِ نیت برقرار رہی تو یہیقیناً ایسی منزل تک پہنچے گا جو ایک زیادہ پُرامن، مستحکم اور ہم آہنگ دنیا کے خواہاں کروڑوں انسانوں کے لےس باعثِ خیر ہوگی۔ تاریخ، بلا شبہ، پاکستان کے اس کردار کو احترام اور قدردانی کے ساتھ یاد رکھے گی۔



