چالان سے بچائویاخفیہ نقل وحرکت؟،پولیس والے نمبر پلیٹیں ٹمپر،خودجرم کا راستہ بتانے لگے

لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب کی جانب سے کرپشن سے پاک اور قانون کی بالادستی والے صوبے کے دعوے سوالیہ نشان بن گئے ۔صوبائی دارالحکومت لاہور کی سڑکوں پر مبینہ طور پر پنجاب پولیس کی متعدد سرکاری گاڑیاں بغیر واضح نمبر پلیٹس کے گھومنے لگیں۔

سی این این اردوڈاٹ کام نے لاہورمیں دندناتی ایسی ہی ایک پولیس کی گاڑی جس کا نمبر ٹمپر کیا گیا تھا ایل آراو5468کاسراغ لگالیا جو اعلیٰ حکام کیلئے ٹیسٹ کیس ہے ،سی این این اردوڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق پولیس کے زیر استعمال سرکاری بعض سرکاری گاڑیوں کے نمبر جان بوجھ کر مٹا دیئے گئے یا چھپا دیے گئے ہیں تاکہ ٹریفک چالانوں سے بچا جا سکے اور خفیہ نقل و حرکت جاری رکھی جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خود ہی قانون شکنی کریں گے تو عام آدمی سے قانون کی پاسداری کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق موٹر وہیکل قوانین کے تحت کسی بھی گاڑی کا نمبر پلیٹ واضح ہونا لازمی ہے جبکہ نمبر چھپانا یا مٹانا قابلِ سزا عمل تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر قانون کے محافظ ہی قانون کی خلاف ورزی کریں تو یہ نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ معاشرے میں غلط مثال بھی قائم کرتا ہے۔
شہریوں نے اس صورتحال کو “بلی کو دودھ کی رکھوالی” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ جرم ختم کرنے والے خود جرم کا راستہ دکھانے لگے ہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر سرکاری گاڑیوں کے بغیر نمبر یا دھندلے نمبروں کے ساتھ کھلے عام گھومنے سے یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ قانون صرف عام شہری کیلئے ہے۔
سماجی حلقوں نے آئی جی پنجاب اور ڈی آئی جی آپریشنز سے مطالبہ کیا ہے کہ “چراغ تلے اندھیرا” ختم کیا جائے اور پنجاب پولیس سمیت تمام اداروں کیلئے قانون کو یکساں بنایا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی گاڑیوں کے خلاف فوری محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔



