لاہور / اسلام آباد / پشاور / کراچی / کوئٹہ (ویب ڈیسک): ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے یکم اگست تک بارشوں سے متعلق مختلف حادثات میں 126 افراد جاں بحق جبکہ 404 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالاباغ میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار کیوسک جبکہ چشمہ میں 2 لاکھ 73 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ وزیرآباد کے مقام پر نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 3 ہزار 400 کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں بھی نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا چوتھا اسپیل 5 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی جپہ نے خبردار کیا کہ بالائی کیچمنٹ علاقوں میں متوقع بارشوں کے باعث مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ادارے نے لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع دیر بالا میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جس سے مختلف علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق انکار مدرسہ کے قریب سیلابی ریلے کے باعث مرکزی شاہراہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو گئی، جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور متعدد مسافر و سیاح مختلف مقامات پر پھنس گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق شدید بارش کے باعث ایک رابطہ پل بہہ گیا جبکہ کئی سڑکیں بھی سیلابی پانی کی نذر ہو گئیں۔ ایک گاڑی بھی برساتی نالے میں بہہ گئی، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ادھر سندھ کے شہر پنگریو اور گردونواح میں موسلا دھار بارش کے باعث ایک محنت کش مکان کی چھت گرنے سے جاں بحق ہو گیا۔ شہر کے اہم بازار، نشیبی علاقے، قبرستان اور رابطہ سڑکیں زیر آب آ گئیں جبکہ گرڈ اسٹیشن سے منسلک 300 سے زائد دیہات کی بجلی بھی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بلوچستان کے ڈیرہ مراد جمالی، بختیار آباد، نوتال، لانڈھی، سبی، ڈیرہ بگٹی، لہڑی اور تمبو سمیت مختلف علاقوں میں تیز آندھی اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ بجلی کے کھمبے گرنے اور مکانات کی چھتیں و دیواریں منہدم ہونے سے 22 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
دوسری جانب کراچی کے مختلف علاقوں میں ہلکی بارش کے بعد موسم خوشگوار ہو گیا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ تین روز کے دوران کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ پنجاب میں بارش سے متاثرہ افراد کے لیے 75 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب میں چار ریسکیو آپریشنز کے ذریعے 9 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ اسی عرصے میں خیبرپختونخوا میں دو اور سندھ میں پانچ افراد کو بھی بروقت ریسکیو کیا گیا۔



