کوہاٹ (ویب ڈیسک): بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فوری طبی معائنے، عدالتی احکامات کے مطابق جیل ملاقاتوں کی بحالی اور مقدمات کی جلد سماعت کا مطالبہ کیا ہے۔
کوہاٹ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے بلڈ پریشر یا دیگر طبی مسائل کی خبریں درست ہیں تو انہیں فوری طور پر مکمل طبی معائنہ اور ضروری علاج فراہم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا کیوں آیا، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہییں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق ہر ہفتے 18 افراد کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے، تاہم ملاقاتیں بند کر کے انہیں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ فوری بحال کیا جائے اور قیدِ تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے مقدمات کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ انہیں بروقت انصاف مل سکے۔ ان کے بقول کارکنوں کو اپنے حقوق کے لیے آئینی، قانونی اور پرامن انداز میں آواز بلند کرنی چاہیے۔
اپنے خطاب میں علیمہ خان نے کہا کہ ریاست کا اصل نام عوام ہیں اور ادارے عوام کے ٹیکس سے چلتے ہیں۔ ان کے مطابق عوام کے ٹیکس سے قائم اداروں کو ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ ریاست 24 کروڑ پاکستانی عوام پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی بھی طبقے یا کسی بھی علاقے کے عوام کو غدار یا دہشت گرد قرار دینا مناسب طرز عمل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں تصادم کے بجائے اتحاد، برداشت اور امن کی ضرورت ہے۔
علیمہ خان نے کہا کہ نہ کسی کو گولیاں کھانی چاہییں اور نہ ہی کسی کو گولیاں چلانی چاہییں، کیونکہ سپاہی بھی اسی قوم کے بیٹے ہیں اور عوام بھی اسی ملک کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہادتیں عوام اور سکیورٹی اہلکار دونوں دے رہے ہیں، اس لیے قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں، متحد رہیں اور پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں۔ ان کے مطابق عمران خان صرف اللہ سے ڈرتے ہیں اور اتحاد ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام عمران خان کی رہائی سے ممکن ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں معیشت بہتر تھی، جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور کورونا وبا کے باوجود حکومت نے مؤثر انداز میں معاملات چلائے، تاہم بعد ازاں ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کو مختلف معاشی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔



