
اسلام آباد،لاہور:(ویب ڈیسک)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرنے کہا ہے عمران خان کوئی ڈیل نہیں کررہے، بڑی مشکل اور طویل عرصے بعد ہم اس فیصلے پر پہنچے ہیں ،میں دونوں فریقین سے کہوں گا کہ اس کو سبوتاژ نہ کریں ،امید ہے اس فیصلے پر عملدرآمد ہوگا،میں مقتدرہ اور حکومت سے درخواست کروں گا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد ہونے دیں ۔
پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرگوہر نے کہا وفاقی حکومت کی نظرثانی درخواست کوکوئی نمبر تاحال الاٹ نہیں ہوا، میری درخواست ہے کہ اس آرڈر پرعملدرآمد ہونے دیں، اس آرڈر تک پہنچتے پہنچتے بڑا ٹائم لگ گیا۔
جنہوں نےنورین نیازی کی ملاقات کاوعدہ کیا تھا وہ پورا کیااسے سراہتا ہوں، نورین نیازی کی عمران خان سے ملاقات کے بعد میری بات نہیں ہوئی تاہم انہوں نےملاقات کے بعد بات نہ کرکے الفاظ کا لحاظ رکھا ہے، بانی پی ٹی آئی کے جیل میں رہنے کو ناحق سمجھتے ہیں۔
حکومت کو پریشانی نہیں ہونی چاہیے، ہم نے ہر طرح کی انڈرٹیکنگ دی ہے ،میں ان لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے کل ہماری ملاقات کروائی ،ہم نے کل بھی بولا تھا کہ فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا،میں نے پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے درخواست کی ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے اس فیصلے پر منفی اثرات مرتب ہوں ، بانی چیئرمین کی صحت ہماری اولین ترجیح ہے اور اس پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے ،بانی کا جو مزاج ہے وہ صحت اور علاج کی حد تک ہسپتال میں رہیں گے ،مہربانی کر کے فریقین دل بڑا کریں۔
تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا سپریم کورٹ کے آرڈر پر حکومت کے پاس (آج)جمعرات تک کا وقت ہے، اگر عمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو توہین عدالت ہوگی۔
مجھے نظر نہیں آتا، حکومت کی نظرثانی درخواست (آج) سنی جائے گی، سپریم کورٹ میں کوئی درخواست دائر کی جاتی ہے تو پڑتال میں چار چھ دن لگ جاتے ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم پر آج یا کل تک عملدرآمد نہ ہو، خان صاحب کو سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔
اگر حکومت توہین عدالت کرتی ہے تو قوم اپنے فیصلے کرے گی۔ہماری آواز ضرور اٹھے گی، ہم توہین عدالت کی درخواست بھی دیں گے، ہم قوم کے سامنے یہ مقدمہ رکھیں گے۔ پیپلزپارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات خیرسگالی کی تھی، انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کئے جائیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ہم سے مکالمے کا آغاز کریں، انہوں نے انتخابی اصلاحات کی بات بھی رکھی، میں نے انہیں کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت تک یہ بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔
پی پی وفد نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم کو سراہا، ملاقات میں نئے صوبوں کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
نو مئی کے مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنمائوں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد ، اعجاز چوہدری ، میاں محمود الرشید، عمر سرفراز چیمہ، غلام محی الدین دیوان، عالیہ حمزہ، صنم جاوید اور فلک جاوید نے مشترکہ بیان میں کہا حکومت عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کرے ۔
عاطف خان نے کہا بانی پی ٹی آئی کا ملک میں علاج ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے، حکومت کو سپریم کورٹ کے حکم پر من وعن عمل درآمد کرنا چاہیے۔ نواز شریف جب بیمار تھے تو بانی پی ٹی آئی نے انہیں ملک سے باہر علاج کرانے دیا تھا، 27 ستمبر کی کال کو بانی پی ٹی آئی کے حکم پر ہی واپس لیا جا سکتا ہے، بانی کا کوئی بھی فیصلہ حتمی ہو گا۔



