انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادب
ہرکیرت کور چاہل کا ناول ”ندی ناؤ سنجوگی میلے“ شائع
پنجاب کی مشترکہ تہذیب، انسانی رشتوں، راوی کے گمشدہ حسن اور درد کو موضوع بنایا گیا ہے

لاہور:(شہزاد فراموش)مشرقی اور مغربی پنجاب کی مشترکہ تہذیب، انسانی رشتوں کے لمس، راوی دریا کے گم گشتہ حسن اور درد کو موضوع بناتی نامور پنجابی ادیبہ ہرکیرت کور چاہل کا نیا ناول ”ندی ناؤ سنجوگی میلے“ فکشن ہاؤس لاہور کے زیرِ اہتمام پنجابی زبان میں شائع ہو گیا ہے۔

اس ناول کو سرحد کے دونوں پار بچھڑے دِلوں کے لیے ایک محبت نامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دیباچے میں مصنفہ لکھتی ہیں کہ سوشل میڈیا پر مغربی پنجاب کے کچھ نوجوانوں کی راوی دریا کی حفاظت سے متعلق ایک ویڈیو دیکھ کر ان کے اندر کہانی کا بیج اُگا، اس سے قبل ان کی مشہور کہانی ”بیڑی دا میلہ“ وجود میں آئی۔

بعد ازاں مصنفہ نے پاکستان کا دورہ کیا 21فروری کو راوی کے کنارے اپنا جنم دن مناتے ہوئے انہوں نے آلودگی، پانی کی کمی اور ریت میں دھنسی کشتیوں کا جو منظر دیکھا، اس نے ان کی روح کو تڑپا دیا۔
اس اداسی کے عالم میں انہیں راوی میں موجود مغل دور کی یادگار کامران کی بارہ دری اورشِو کمار بٹالوی کے کلام کی تان یاد آئی۔ یہی درد اور راوی سے محبت بالاخر اس ناول کے روپ میں سامنے آئے۔ہرکیرت نے اپنے پانچ سفروں کو لاہور کی بیٹھکوں، یہاں کے باسیوں کی بولی، یہاں کے رہن سہن،رواجوں ا ور تہواروں کو نہایت خوبصورتی سے ناول میں جگہ دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرحد کے آر پار خاردارباڑ خاموشی سے کھڑی ہے، لیکن ہمارے درد، آہیں، حسرتیں، یادیں اور ہنسنا بولنا آج بھی ایک جیسا ہے۔ انسانی رشتوں کی پیاس کا یہ قصہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط دستاویز ثابت ہوگا۔اس کتاب کو گورمکھی سے شاہ مکھی پنجابی میں محمد آصف رضا نے ڈھالا ہے۔
فکشن ہاؤس نے بک سٹریٹ، 68 مزنگ روڈ، لاہور سے شائع کیا،اس کے صفحات 294 اور پکی جلد کیساتھ قیمت 1500 روپے رکھی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ہرکیرت کور چاہل کی درجن بھر سے زائد کتابیں شائع ہو کر مقبولیت سمیٹ چکی ہیں۔

ان میں سے دو پاکستانی سفرنامے ”لٹھے لوک لاہور دے“ اور ”راوی دیس ہویا پردیس“شامل ہیں جب کہ نالوں میں ”پتن اُڈیکن بیڑیاں، چنن رُکھ، سُکھاں لدھی پون“ اور کہانیوں کی کتاب ”پریاں سنگ پرواز“ شامل ہیں۔ ادبی حلقوں کی جانب سے اس نئے ناول کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔



