پاکستانتازہ ترین

حافظ نعیم الرحمان کی 14 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر قومی ڈائیلاگ کی تجویز، عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ

شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، بااختیار بلدیاتی نظام اور سیاسی جماعتوں میں جمہوریت ناگزیر قرار

لاہور (زبیر اسلم خان): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں جاری سیاسی اور آئینی بحران کے حل کے لیے 14 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر مشتمل قومی ڈائیلاگ کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب نظام کو بنانے اور چلانے والے خود اس کی ناکامی کا اعتراف کر چکے ہیں تو اب وسیع تر قومی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھایا جائے اور بامقصد مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ملک میں اعتماد کی فضا قائم ہو اور قومی مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی ڈائیلاگ کا پہلا اور بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہیے کہ آئندہ عوام کے حقِ رائے دہی پر کسی قسم کا ڈاکہ نہیں ڈالا جائے گا۔ عوام جس نمائندے کو منتخب کریں یا مسترد کریں، اس فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے تاکہ جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

امیر جماعت اسلامی نے اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں شفاف انتخابات، آزاد اور خودمختار عدلیہ، میرٹ پر ججز کی تقرری، متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابی نظام، بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے قیام اور سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری روایات کے فروغ پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندانی اور شخصی سیاست کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عوام افراد کے بجائے سیاسی جماعتوں کے منشور کو ووٹ دیں اور جمہوریت مضبوط ہو۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی تقسیم کسی بھی ملک میں کوئی غیر معمولی مسئلہ نہیں، تاہم ایسے معاملات قومی اتفاقِ رائے سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نئی آئینی بحثوں کے بجائے پہلے سے موجود آئینی اصولوں اور قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزید سیاسی انتشار سے بچا جا سکے۔

انہوں نے بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے قومی جرگہ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق معدنی وسائل سے متعلق جامع قومی پالیسی، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور تمام شہریوں کے لیے یکساں نظام کی فراہمی بھی قومی مذاکرات کے ایجنڈے کا حصہ ہونی چاہیے۔

امیر جماعت اسلامی نے مصنوعی ذہانت، زراعت اور لینڈ ریفارمز کو بھی قومی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور کی جاگیریں کسانوں میں تقسیم کی جائیں اور زرعی اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے۔

انہوں نے کھیلوں کے اداروں میں سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کی مخالفت کرتے ہوئے مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں لینے کی تجویز بھی دی اور کہا کہ ان معاملات پر بھی قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ قومی مذاکرات کا سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ ہر ریاستی ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں انجام دے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر ان تجاویز پر سنجیدہ، جامع اور نتیجہ خیز مذاکرات شروع ہو گئے تو ملک کو سیاسی استحکام، مضبوط جمہوریت اور معاشی ترقی کی نئی راہ مل سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button