
دنیا کی سیاست کو اگر کہانی کی زبان میں بیان کیا جائے تو اس کے کردار اکثر علامتی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ کہیں آسمانوں میں بلند پرواز عقاب دکھائی دیتا ہے اور کہیں زمین کی گہرائیوں میں سانس لیتا ہوا ڈریگن۔ ایک طاقت، رفتار اور غلبے کی علامت ہے جبکہ دوسرا صبر، حکمت اور طویل المدتی حکمتِ عملی کا استعارہ۔ آج کی عالمی سیاست میں بھی یہی منظر کسی نہ کسی شکل میں نظر آتا ہے۔
حالیہ دنوں یہی منظر اس وقت دنیا کے سامنے آیا جب امریکی صدر Donald Trump نے بیجنگ کا دورہ کیا اور چینی صدر Xi Jinping سے طویل ملاقات کی۔ دو گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسے “بہت کامیاب، عالمی شہرت کی حامل اور ناقابلِ فراموش” قرار دیا، جبکہ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی جن پنگ نے اس ملاقات کو “تاریخی اور سنگِ میل” قرار دیا۔
دو روز تک جاری رہنے والی بات چیت میں تجارت، توانائی، ایران، تائیوان اور عالمی سلامتی جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اگرچہ ان مذاکرات کے بعد کسی بڑے معاہدے کا واضح اعلان سامنے نہیں آیا، لیکن بہت سے عالمی مبصرین کے نزدیک اصل کامیابی یہی ہے کہ دونوں بڑی طاقتیں کشیدگی کے باوجود دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ بیٹھی ہیں۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ چین نے ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے امریکی ٹی وی نیٹ ورک Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیجنگ چاہتا ہے کہ عالمی تجارت کے لیے اہم سمندری راستہ Strait of Hormuz کھلا رہے اور چین نے امریکہ سے تیل خریدنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی معیشت میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی تنگ سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں معمولی کشیدگی بھی عالمی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے اور تیل کی قیمتوں میں فوری اتار چڑھاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔
اسی دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو “انتہائی نازک” قرار دیا۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر مریض کے بارے میں کہے کہ اس کے زندہ رہنے کے امکانات صرف ایک فیصد رہ گئے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کی جانب سے کشیدگی ختم کرنے کے لیے کچھ شرائط پیش کی گئی تھیں جن میں بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے اور مستقبل میں حملہ نہ کرنے کی ضمانت جیسے مطالبات شامل تھے۔
دوسری جانب تائیوان کا معاملہ بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ تائیوان کی وزارت دفاع Taiwan Ministry of National Defence کے مطابق ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران کسی بڑی چینی فضائی سرگرمی کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ تاہم گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں تائیوان کے اطراف چین کے سات بحری جہاز اور ایک سرکاری جہاز کی نقل و حرکت ضرور ریکارڈ کی گئی۔
تائیوان کی حکومت باقاعدگی سے ایسی رپورٹس جاری کرتی ہے تاکہ عوام کو خطے میں ہونے والی فوجی سرگرمیوں سے آگاہ رکھا جا سکے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران چینی فوجی سرگرمیاں نسبتاً کم رہیں، تاہم پیر کے روز چند ہیلی کاپٹروں کی پروازیں ضرور ریکارڈ کی گئیں۔
دوسری طرف چینی سرکاری میڈیا اس ملاقات کو ایک مختلف زاویے سے پیش کر رہا ہے۔ چینی اخبار Global Times نے اپنے اداریے میں لکھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی متعدد فون کالز اور ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت درست کرنے میں مدد دی۔
اسی طرح چینی کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری اخبار People’s Daily میں شائع ہونے والے ایک تبصرے میں امریکہ میں چین کے سفیر Xie Feng نے کہا کہ شی جن پنگ نے اہم مواقع پر چین اور امریکہ کے تعلقات کو بحران سے نکالنے میں رہنمائی فراہم کی اور گزشتہ برسوں کے دوران آنے والے سفارتی طوفانوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھایا۔
چینی میڈیا میں اس بیانیے کو نمایاں کرنے کا مقصد واضح طور پر شی جن پنگ کو ایک تجربہ کار عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنا ہے جو طویل المدتی حکمت عملی کے ساتھ عالمی سیاست میں چین کے مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ اس طرح کا بیانیہ نہ صرف عالمی سفارت کاری کا حصہ ہوتا ہے بلکہ اپنے ملک کے عوام کو بھی یہ یقین دلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ قیادت مضبوط اور پراعتماد ہے۔
اگر اس پوری صورتحال کو علامتی انداز میں دیکھا جائے تو عالمی سیاست کی تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ ایک طرف ڈریگن خاموشی سے اپنی معاشی اور تکنیکی طاقت بڑھا رہا ہے جبکہ دوسری طرف عقاب اپنی عالمی برتری برقرار رکھنے کے لیے مختلف محاذوں پر سرگرم دکھائی دیتا ہے۔
آج کی دنیا میں طاقت صرف فوجی قوت سے نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور عالمی تجارت کے پیچیدہ نظام سے بھی طے ہوتی ہے۔ اسی لیے بیجنگ میں ہونے والی یہ ملاقات صرف ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ اس بدلتی ہوئی عالمی بساط کی ایک جھلک بھی ہے جہاں طاقت کے توازن آہستہ آہستہ نئے انداز میں ترتیب پا رہے ہیں۔
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا اصل نکتہ ہے:
ایک طرف ڈریگن خاموشی سے مسکرا رہا ہے، حساب کتاب کر رہا ہے اور طویل المدتی منصوبے بنا رہا ہے۔
دوسری طرف عقاب کبھی تعریف کرتا ہے، کبھی طاقت کا اظہار کرتا ہے اور کبھی مذاکرات کی میز پر آ بیٹھتا ہے۔
یوں لگتا ہے کہ عالمی سیاست کی اس بڑی بساط پر ایک نیا دور آہستہ آہستہ جنم لے رہا ہےجہاں طاقت صرف پرواز کی بلندی سے نہیں بلکہ حکمت، صبر اور معاشی قوت سے بھی ناپی جا رہی ہے۔



