
پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ ہماری تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جنہیں دیکھ کرعقل دنگ رہ جاتی ہے اورآدمی سوچنے لگتا ہے کہ اس ملک میں سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں، قسمت کا ایسا پہیہ بھی ہے جو کسی بھی لمحے، کسی بھی سمت گھوم سکتا ہے،یہاں ایک شخص رات کو مجرم ہوتا ہے اور صبح ملک کا سربراہ بن کر جاگتا ہے، اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو شخص دن ڈھلے وزیراعظم ہاؤس میں فیصلے کر رہا ہوتا ہے، رات گزرتے ہی جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ جاتا ہے۔
اقتدار یہاں مستقل پتہ نہیں، عارضی قیام گاہ ہے۔۔۔ جس کا دروازہ کبھی بھی کھل سکتا ہے اورکبھی بھی بند۔۔۔۔اورہماری تاریخ میں ایک عجیب واقعہ یہ بھی رقم ہوا کہ ایک وکیل شام کو اپنے معمول کے مطابق کام سے تھکا ہارا گھر لوٹا، نیند کی وادی میں اتر گیا۔۔۔ صبح آنکھ کھولی تو معلوم ہوا کہ رات نے اس کی قسمت بدل دی ہے، وہ ہائی کورٹ کا جسٹس بن چکا ہے۔۔۔سوپاکستان میں ناممکن صرف وہ ہے جو ابھی تک ممکن نہیں ہوا،یہاں حالات بدلنے میں برس نہیں، کبھی کبھی صرف ایک حکم، ایک فیصلہ یا ایک رات کافی ہوتی ہے۔۔۔
ماضی کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجیے، کہانی کچھ زیادہ مختلف نظرنہیں آتی۔ طاقتوراپنے سرالزام لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، سو اس کام کے لیے ایک ایسا راستہ ہمیشہ موجود رکھا گیا جس پر چلتے ہوئے فیصلے بھی ہو جاتے ہیں اورذمہ داری بھی کسی اور کے کندھے پرڈال دی جاتی ہے۔۔۔ اور وہ راستہ ہے ’’عدلیہ ‘‘۔۔۔۔گزشتہ چند وزرائے اعظم کی تاریخ دیکھیں تواقتدار سے رخصتی کے کئی راستے عدالتوں سے ہوکر گزرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔
یوسف رضا گیلانی کوعدالت نے گھربھیجا، نوازشریف بھی عدالتی فیصلے کا نشانہ بنے، عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے پورے سیاسی عمل میں بھی عدلیہ کا کردار فیصلہ کن مرحلے تک پہنچا۔۔۔یعنی کہانی وہی ہے، کردار بدلتے رہتے ہیں۔۔۔اقتدارکا تاج کسی کے سرپرسجتا ہے تو اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ تاج کب تک رہے گا، اورعدالت کا ایک فیصلہ کب اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں حکومتیں صرف ایوان اقتدارمیں نہیں بنتیں اورنہیں ٹوٹتیں۔۔۔۔یہ سب فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔۔۔
آج کا سوال صرف اتنا ہے کہیں تاریخ ایک بارپھرخود کو دہرانے تو نہیں جارہی ۔۔۔۔؟کہیں ایسا تو نہیں، شہبازشریف بھی عدلیہ کے ریڈار پرآ گئے ہوں۔۔۔؟ بظاہرتوتحریک انصاف کی جانب سے دائرکی جانے والی توہینِ عدالت کی درخواست ایک معمولی سا معاملہ دکھائی دیتی ہے۔ ایسی درخواستیں آتی رہتی ہیں، عدالتیں سنتی رہتی ہیں، فریقین جواب دیتے ہیں اورمعاملہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔۔۔
بڑے طوفان اکثر ایک معمولی سی ہوا سے شروع ہوتے ہیں۔۔۔۔یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ طلب کیا گیا تو شاید اس وقت بھی کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ ایک طلبی وزارتِ عظمیٰ کے خاتمے تک جا پہنچے گی۔ نواز شریف کے معاملے میں بھی ابتدا شاید اتنی بڑی دکھائی نہیں دیتی تھی، عمران خان کے معاملے میں بھی حالات ایک ہی دن میں اس مقام تک نہیں پہنچے تھے۔ مگر پھر وقت نے پانسہ پلٹا اور سب نے دیکھا کہ اقتدار کے مضبوط دکھائی دینے والے دروازے بھی ایک فیصلے سے بند ہو سکتے ہیں۔۔۔۔
تو کیا تاریخ ایک بارپھرکسی نئے موڑ پرکھڑی ہے۔۔۔؟شہباز شریف کو فارغ کرنے کی فی الحال نہ کوئی واضح دلیل ہے، نہ کوئی ایسا بہانہ جسے دیکھ کرکہا جا سکے کہ وزیراعظم کی کرسی خطرے میں ہے۔ لیکن سیاسی منظرنامے میں کچھ عرصے سے یہ سرگوشیاں ضرورگردش کرتی رہی ہیں کہ شہبازشریف جا رہے ہیں اورمحسن نقوی آ رہے ہیں۔
افواہ اورحقیقت کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی بہت کم رہ جاتا ہے۔۔۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا وہ وقت قریب آ گیا ہے۔۔۔۔؟دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کی توہین عدالت کی درخواست میں وزیراعظم کے ساتھ وزیر قانون اوروزیر اطلاعات کو فریق بنایا گیا ہے، لیکن وزیر داخلہ اس فہرست میں شامل نہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آنے والے منظرنامے کی کوئی ہلکی سی جھلک۔۔۔؟ اس سوال کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں، مگر سیاست میں کبھی کبھی چھوٹی سی تفصیل بھی بڑی کہانی کا دروازہ کھول دیتی ہے۔۔۔۔
پچھلے دنوں یہ خبریں بھی زیربحث رہیں کہ بعض وزرا کو فارغ کیا جا سکتا ہے اوران ناموں میں وزیر اطلاعات کا نام بھی لیا جاتا رہا۔ اگر ان تمام ٹکڑوں کو ایک ساتھ رکھیں تو ایک ممکنہ ’’سبکدوشی اسکرپٹ‘‘ ذہن میں آتا ہے۔۔۔وزیراعظم کے ساتھ وزیر اطلاعات اوروزیرقانون بھی اس منظرنامے کا حصہ بن سکتے ہیں۔۔۔۔اس ممکنہ اسکرپٹ سے کئی شکار ہوسکتے ہیں،نمبر ایک،وزیراعظم کو مڈٹرم میں فارغ کرنیوالا فارمولا قائم دائم رہے؟ایسے ہی،اسٹبشلمنٹ مردے کو کندھے پر اٹھائے ہوئے ہے،کب تک لاش کو کندھا دیا جاسکتا ہے۔۔۔۔؟
تیسرا محسن نقوی کو وزرات عظمیٰ تک لانے کا مقصد بھی پورا ہوجائے گا،چوتھا،اس سے تحریک انصاف عمران خان کی قید کے باوجود خوش ہوجائے گی اور کپتان سے صلح کی گنجائش پیدا ہوجائے گی۔ پانچواں عدلیہ کی ساکھ بھی کچھ بحال ہوجائے گی۔۔۔۔حالات و واقعات سے لگتا ہے،ممکنہ طور پر اس اسکرپٹ کے پروڈیوسر محسن نقوی ہیں اور تحریک انصاف کی قائم مقام قیادت بھی محسن کے ساتھ ہے، اور اسکرپٹ اس دن فائنل ہوا تھا جس دن محسن نقوی تعزیت کیلئے بیرسٹر گوہر کے گھر گئے تھے۔۔۔
بتاتا چلوں یہ ایک ممکنہ کہانی ہے۔۔۔۔ کوئی حتمی خبرنہیں۔۔۔۔لیکن یاد رکھیں۔۔۔پاکستان میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔ ہماری تاریخ بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہاں ایک منٹ لگتا ہے مجرم سے وزیراعظم، وزیراعظم سے مجرم بننے میں۔۔۔ اقتدار کے تخت سے جیل کی کوٹھڑی تک پہنچنے میں کبھی کبھی صرف ایک فیصلہ کافی ہوتا ہے،اس لیے آج کا سوال یہ نہیں کہ شہبازشریف جائیں گے یا رہیں گے۔۔۔ سوال صرف یہ ہے کہ کہیں تاریخ ایک بار پھر وہی کھیل تو نہیں کھیلنے جا رہی۔۔۔۔؟ عدالت کو صرف ایک پیغام ہی جانا ہے۔۔۔۔۔’’ شہباز کے پرکاٹ دو‘‘۔۔۔۔



