
پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ایک مشکل اور خطرناک پیشہ رہی ہے، مگر موجودہ حالات میں صحافیوں کو درپیش مسائل نے ایک نئی اور تشویش ناک شکل اختیار کر لی ہے۔ ایک طرف ایسے صحافی ہیں جو سیاسی دباؤ، دھمکیوں، مقدمات، گرفتاریوں، آن لائن ہراسانی اور معاشی عدم تحفظ کے باوجود اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں تو دوسری طرف میڈیا کے اندر ہی ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جسے غیر معمولی مراعات، عہدے، اثر و رسوخ اور مالی آسودگی حاصل ہے۔
اس واضح فرق نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ صحافیوں کی اس غیر مساوی صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟ بین الاقوامی فیڈریشن آف جرنلسٹس کی 2025-26 کی پاکستان رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحافت کو سیاسی و قانونی دباؤ، ڈیجیٹل پابندیوں اور گہرے معاشی بحران کا سامنا ہے۔
اسی طرح رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز پاکستان کو صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ممالک میں شمار کرتا ہے اور صحافیوں کے قتل کے مقدمات میں عدمِ احتساب کو بھی اہم مسئلہ قرار دیتا ہے۔آج ایک عام رپورٹر کی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو تصویر مزید پریشان کن دکھائی دیتی ہے۔
صحافیوں کی کثیر تعداد تنخواہوں، غیر یقینی ملازمت، تاخیر سے ملنے والی اجرت اور محدود سہولیات کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ بالخصوص ضلعی اور دیہی علاقوں کے رپورٹرز کو وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے خطرات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایک حالیہ جائزے میں بھی اس امر کی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان میں صحافت کا بڑا حصہ شہری مراکز تک محدود ہے جبکہ دیہی صحافی زیادہ کمزور اور کم وسائل والے ہیں۔
اس کے برعکس میڈیا کے بعض معروف چہروں کو غیر معمولی مالی اور ادارہ جاتی سہولتیں حاصل ہونے کی شکایات عام ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مراعات اور مواقع میرٹ کے بجائے قربت، تعلقات، سیاسی وابستگی یا طاقتور حلقوں سے روابط کی بنیاد پر تقسیم ہونے کا تاثر پیدا کریں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں ہوں یا مقتدر ادارے وہ بھی صرف اور صرف ان افراد کو صحافی گردانتے ہیں جو کسی بڑے میڈیا ہاؤس سے منسلک ہوں چاہے اسے صحافت کی الف ب بھی نہ آتی ہو اور اس کو صرف بڑے ادارے میں کام کرنے کا موقع مل گیا دوسری طرف ایک ایسا رپورٹر جس نے انتہائی محنت، جان فشانی، دیانتداری سے تحقیقاتی رپورٹنگ کو فروغ دیا ہو اسے صحافی سمجھتے ہوئے اداروں کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔
اسی طرح اج ملک بھر میں صرف وہی صحافی کہلاتا ہے جو اداروں اور سیاسی جماعتوں کا مخبر یا زر خرید ہو اگر اج بھی باریک بینی سے اس بات کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ بیشتر مقتدر ادارے سیاسی جماعتیں، این جی اوز اپنی اپنی ٹریننگ ورکشاپس میں بھی صرف ان صحافیوں کو مدوعو کرتی ہیں جن سے مخصوص فوائد حاصل کرنا اور اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے۔
کبھی بھی کسی چھوٹے میڈیا ہاؤس کے صحافی کو ان کی ٹریننگ ورکشاپس میں اعزاز نہیں بخشا جاتا جبکہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز کے صحافیوں کو غیر ملکی دورے اور لاکھوں روپے کی مراعات سے بھی بھرپور طریقے سے نوازا جاتا ہے۔ صحافت میں اصل بحران صرف کم تنخواہ نہیں بلکہ طاقت اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔
جب ایک رپورٹر مہینوں تنخواہ کے انتظار میں ہو، علاج اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہو، جبکہ اسی ادارے میں چند افراد کو غیر معمولی مراعات حاصل ہوں تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ادارہ جاتی انصاف کا سوال بن جاتا ہے۔ حکومتیں صحافت کے لیے ایسا ماحول پیدا کرنے کی ذمہ دار ہیں جہاں اختلافِ رائے کو جرم نہ سمجھا جائے صحافی کو خبر دینے پر خوف محسوس نہ ہو۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہماری آج کی صحافت کا حال مت پوچھو
صحافت ناچ رہی ہے تماش بینوں میں
ملک کے مختلف میڈیا ہاؤسز کے مالکان کی جانب سے صحافت کو صرف ایک کاروباری سرگرمی سمجھا جاتا ہے اور منافع کے نام پر رپورٹر کی تنخواہ، ملازمت کا تحفظ اور پیشہ ورانہ عزت نظر انداز کر دی جائے تو صحافت کا معیار متاثر ہونا لازمی ہے۔ میڈیا ہاؤسز کو چاہیے کہ وہ اپنے ملازمین کے لیے واضح تنخواہی ڈھانچہ، بروقت ادائیگی، ہیلتھ انشورنس، قانونی معاونت اور خطرناک اسائنمنٹس کے لیے حفاظتی انتظامات یقینی بنائیں۔
یہ ذمہ داری صحافتی تنظیموں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یونینیں اور پریس کلب صرف احتجاجی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ صحافیوں کا حقیقی معاشی اور پیشہ ورانہ ڈیٹا مرتب کریں، کم از کم اجرت اور ملازمت کے تحفظ کے لیے اجتماعی مذاکرات کریں اور ان صحافیوں کی آواز بنیں جو بڑے شہروں اور بڑے اداروں سے باہر کام کر رہے ہیں۔
اگر صحافت میں ذاتی مفادات، غیر اعلانیہ مالی تعلقات، سیاسی وابستگیاں اور خبر کے بجائے شخصیت پرستی بڑھتی جائے تو عوام کا اعتماد کم ہوتا ہے۔ صحافت کی طاقت صرف مائیک، کیمرے یا قلم میں نہیں بلکہ صداقت، غیر جانب داری اور عوامی اعتماد میں ہے۔ لہٰذا سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں چند صحافی کروڑ پتی کیوں ہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان کی دولت جائز ذرائع، پیشہ ورانہ کامیابی اور شفاف آمدن کا نتیجہ ہے یا انہیں ایسے غیر معمولی فوائد حاصل ہوئے جن کی وضاحت ضروری ہے۔
پاکستانی صحافت کا مستقبل اس وقت بہتر ہو سکتا ہے جب حکومت، میڈیا مالکان، صحافتی تنظیمیں اور خود صحافی اپنی اپنی ذمہ داری قبول کریں۔ صحافت میں مراعات کا معیار قربت نہیں بلکہ میرٹ ہونا چاہیے۔ احتساب کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے اور ایک رپورٹر کی جان، عزت اور روزگار کو خبر کی اہمیت سے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔آخرکار صحافت صرف چند مشہور اینکرز یا بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز کا نام نہیں۔ اصل صحافت وہ رپورٹر ہے جو دور دراز علاقے میں جا کر خبر اکٹھی کرتا ہے، خطرہ مول لیتا ہے، کم وسائل میں کام کرتا ہے اور عوام کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک پہنچاتا ہے۔ اگر یہی صحافی معاشی بدحالی، خوف اور عدم تحفظ کا شکار رہے تو صحافت کا پورا نظام کمزور ہو جائے گا۔
اس لیے ذمہ دار ایک فرد یا ایک ادارہ نہیں، بلکہ وہ پورا نظام ہے جس نے صحافت میں طاقت، مراعات، وسائل اور خطرات کی تقسیم کو غیر متوازن ہونے دیا ہے۔ اس نظام کی اصلاح ہی آزاد، باوقار اور مضبوط صحافت کی پہلی شرط ہے۔



