بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

ربیع الاول کی اہمیت اور مسلمانوں کی ذمہ داری

تحریر:حافظ محمد صالح

 

ربیع الاول اسلامی سال کا تیسرا قمری مہینہ ہے۔”ربیع “عربی میں موسمِ بہار کو کہا جاتا ہے، اور اوّل کے معنی ہیں: پہلا، تو ربیع الاول کے معنی ہوئے پہلا موسم بہار۔موسم بہار دو زمانوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک تو اس کا ابتدائی زمانہ ،جس میں کلیاں اور پھول کھلتے ہیںاور دوسرا وہ زمانہ جب پھل پک جاتے ہیں، پہلے زمانے کو ربیع الاوّل یعنی پہلا موسم بہارجبکہ دوسرے زمانے کو ربیع الثانی یعنی دوسرا موسمِ بہار کہا جاتا ہے۔

جب ان مہینوں کے یہ نام رکھے جارہے تھے تو اس وقت بہار کے یہی موسم تھے، اورپھر بعد میں ان مہینوں کے یہی نام پڑگئے۔علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ ”ربیع الاول “یہ ”ارتباع “سے نکلا ہے ، جس کے معنی ہیں ”موسم بہار میں قیام کرنا“ چونکہ عرب لوگ اس مہینے میں سفر کرنے کے بجائے موسم بہار گزارنے کی غرض سے گھروں میں قیام پذیر ہوتے تھے ، اس لیے اس مہینے کا نام ” ربیع الاول“ رکھا گیا۔

ربیع الاوّل وہ مبارک مہینہ ہے جس میں رب العالمین نے محسن انسانیت، پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت مجسم بناکر اس عالم میں بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی روشن تعلیمات اور نورانی اخلاق کے ذریعہ دنیا سے نہ صرف کفر و شرک اور جہالت کی مہیب تاریکیوں کو دور کردیا بلکہ لہوولعب، بدعات و رسومات اور بے سروپا خرافات سے مسخ شدہ انسانیت کو اخلاق و شرافت، وقار و تمکنت اور سنت و شریعت کے زیور سے آراستہ وپیراستہ کردیا۔

اس محسن اعظم کا حق تو یہ تھا کہ ہمارے قلوب ہرلحظہ اس کی عظمت واحترام سے معمور اور ہمارے دلوں کی ہر دھڑکن اس کی تعظیم و توقیر کی ترجمان ہوتی، ہمارا ہر عمل اس کے اسوئہ پاک کا نمونہ اور ہر حرکت و سکون اس کی سنت مطہرہ کے تابع ہوتا گویا ایک مسلمان کی مکمل زندگی سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تذکار اور اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی جیتی جاگتی تصویر ہونی چاہئے۔

نہ یہ کہ دیگر اہل ادیان وملل کی طرح ہم بھی اس نبی برحق کی یاد و تذکرہ کے لیے چند ایام کو مخصوص کرلیں اور پھر پورے سال بھولے سے بھی اس کی سیرت و اخلاق کا ذکر زبان پرنہ لائیں۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد میں زندگی کے جتنے لمحات بھی گزرجائیں وہ ہمارے لیے سعادت اور ذریعہ نجات آخرت ہیں۔

لیکن آہ کہ ! آج رسولِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم فداہ روحی، ابی، وامّی کے نام لیوا اوراس کے عشق و محبت کے دعویدار ماہ ربیع الاوّل میں ”عید میلاد النبی“ کے دلنشیں نام پر جو وقتی اور بے روح محفلیں منعقد کرتے ہیں اس کے تصور ہی سے روح تھرا اٹھتی ہے اور کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔

ملت اسلامیہ کی یہ کیسی بدبختی و بدنصیبی ہے کہ سیرت پاک اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پراس ہڑبونگ، غل غپاڑہ اور طوفان بے تمیزی کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے شیطان بھی شرماجاتا ہے۔ دل کی دنیا تاریک وتباہ ہوتی جارہی ہے، مگر اس کی فکر سے بے پرواہ بازاروں کے گلی اور کوچے برقی قمقموں سے منور اور خوشنما جھنڈیوں سے سجائے جاتے ہیں۔

چار چار اور چھ چھ گھنٹے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جلوس میں گزاردئیے جاتے ہیں مگر اسلام کے رکن اولیں نماز کا خیال تک نہیں آتا۔ میلادالنبی کے ان جلسوں اور جلوسوں میں فکرننگ وناموس سے بے نیاز ہوکر مردوں اور عورتوں کا جس طرح اجتماع اوراختلاط ہوتا ہے عہد جاہلیت کا جشن نوروز بھی اس کے آگے ماند پڑجاتا ہے۔ اور قوم وملت کااس قدر سرمایہ ان سطحی اور غیرشرعی مجلسوں کی زیبائش و آرائش پر صرف ہوتا ہے کہ اس کا اندازہ بھی دشوار ہے۔

محسن کائنات کے عشق کے مدعیو! ذرا کچھ تو غور و فکر اور ہوش سے کام لو وہ دعویٰ محبت یکسر فریب ہے جواطاعت واتباع سے خالی ہو۔تم زبان سے محبت رسول کا دم بھرتے ہو، مگر تمہارے طور طریقے اوراعمال و اشغال تعلیمات رسول ہدایات محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے سراسر خلاف ہیں۔ ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل آخری وقت میں جبکہ نبض ڈوب رہی تھی اور نزع کا عالم طاری تھا تمہیں نماز کی وصیت فرمائی تھی۔

غیر محرم عورتوں سے اختلاط تو بڑی چیز ہے ان کی جانب نظر اٹھانے کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین وایمان کی ہلاکت قرار دیاتھا۔ بیجا اسراف اور فضول خرچی سے تمہیں باز رہنے کی ہدایت فرمائی تھی ۔ لیکن آج انہیں کے نام پر ان جلسوں جلوسوں میں تم وہ سب کچھ کرتے ہو جس سے تمہارے محسن انسانیت نے روکاتھا۔ خدارا ہوش میں آئو اور دیکھو دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے اور تم ہو کہ ان سطحی اجتماعات اور غیرشرعی رسومات میں اپنی طاقت، سرمائے اور وقت کو برباد کررہے ہو اور اس طرح اپنی دنیا کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ اللہ اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی بھی اپنے ہاتھوں خرید رہے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں اعلان فرمادیا ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی اللہ کے احکام کے پوراکرنے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر چلنے میں ہے۔ربیع الاول کے مہینے کی مناسبت سے حضوراکرم کی رواداری، مساوات، عورتوں کے حقوق و احترام، بچوں کی تعلیم و تربیت و ذہنی تعمیر، حق کی پاسداری، برائیوں کی بیخ کنی کے حسین طریقے ، بھائی چارگی، پڑوسیوں کے حقوق، وغیرہ پر روشنی ڈالنا، انہیں بیان کرنا بہت ضرروی ہے ،تاکہ آج کے بھٹکے ہوئے انسانوں کو تباہ ہوتے سماج و معاشرے کو سدھارنے کے لیے سچا جذبہ میسر آ سکے اور عظمت محمدیہ بھی اجاگر ہو اور دیگر اقوام پر بھی اچھے اثرات مرتب ہو سکیں۔

فلسفہ و حکمت اور باریکیوں کو عام اجتماعات و اجلاس میں بیان کرنے سے اپنی قابلیت، صلاحیت کی دھاک بٹھائی جا سکتی ہے۔ہر مسلمان خواص سے عوام تک کی ذمہ داری اور عقیدت و محبت رسول کا تقاضا ہے کہ اپنے آپ کو رسول پاک کی سنتوں کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم مصمم کر لیں اور ہر منزل پر، ہر موقعہ پر ان سنتوں کی عملی تفسیر بن کر سامنے آئیں، دل، زبان اور عمل اور میں یکسانیت پیدا کریں، ریاکاری و نام و نمود سے بچیں، خلوص کو اپنائیں، ایثار و قربانی پر کمربستہ رہیں، صبر و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

اپنی صورت و شکل ،وضع قطع کو اسلامی تہذیب کا آئینہ بنائیں۔ ہاتھ، پائوں اور زبان سے کسی کو اذیت نہ دیں۔ کسی بھی غریب ناچار مجبور کی مقدور بھر مدد کریں۔ مظلوم کی حمایت، حق کی پاسداری کریں، علمائے کرام، حفاظ، مساجد کے اماموں کی عزت و احترام کریں۔ تعلیم کو عام کرنے میں بھرپور حصہ لیں۔

اچھی اور نیک باتیں بلا جھجک ،مگر شفقت و احترام کے ساتھ دوسروں کو بتائیں۔ اختلاف و انتشار سے بچنے اور بچانے کی پوری کوشش کریں۔ دینی اسلامی کتابوں کا مسلسل مطالعہ کرکے علم میں اضافہ کریں۔ بے حیائی، بے پردگی، اور عریانیت سے احتراز لازم رکھیں۔ اولاد کو دینی تعلیم دیں۔ جہاں کہیں رہیں، جس مجلس میں رہیں، جس سوسائٹی میں رہیں، ایک سچے مسلمان بن کر رہیں اور اسلامی تعلیمات اور آداب و اخلاق کی عملی و زبانی تبلیغ میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ حضور اکرم کی مکی زندگی و مدنی زندگی اگر سامنے رہے تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button