بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

حسنین جمیل

 

 

عظیم ترین غالب نے ایک صدی قبل کہا تھا:

بک رہا ہوں جنون میں کیا کیا

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

یہ شعر جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اس ناٹک پر سو فیصد درست ثابت ہوتا ہے جو اڈیالہ جیل سے شفا اور پمز ہسپتال کے درمیان برپا ہوا، جب سپریم کورٹ کے حکم کی عدولی کی گئی۔ یہ ملک پاکستان گو کہ اپنی تشکیل سے اب تک لا تعداد ایسے ناٹکوں سے دوچار ہو چکا ہے جہاں سمجھ ہی نہیں آتا کہ آئینِ پاکستان، قانون اور قواعد کبھی کسی کتاب یا قرطاس پر لکھے بھی گئے تھے یا نہیں! اب تک تو یہ ملک "جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کے محاورے پر ہی چلا جا رہا ہے۔

پچھلے دو روز سے دنیا بھر کے اخبارات، جن میں ‘دی نیویارک ٹائمز’ اور ‘دی ٹیلی گراف’ شامل ہیں، نیز بی بی سی اور الجزیرہ جیسے ٹی وی چینلز پر یہ لکھا اور بولا جا رہا ہے کہ کس طرح پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے واضح احکامات کی حکم عدولی کی جا رہی ہے۔ کیا عدالت اس واضح توہین پر کوئی ایکشن لے گی یا نہیں؟

اس سارے تناظر کو بہت غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پچھلے تین سال سے سابق وزیرِ اعظم عمران خان جو اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول ترین سیاست دان ہیں پابندِ سلاسل ہیں ان کے بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں۔ آٹھ ماہ سے ان کی ملاقاتیں بند تھیں، علاج معالجے کی سہولت میسر نہ تھی اور قیدِ تنہائی کی اذیت دی جا رہی تھی، جو ذہنی تشدد کی بدترین شکل ہے۔ اعلیٰ عدلیہ میں ان کے مقدمات کی شنوائی نہیں ہو رہی تھی اور ان کے وکلا انصاف کے مندر میں سر پٹک پٹک کر تھک چکے تھے، مگر کچھ حاصل نہیں ہوتا تھا۔

اچانک اعلیٰ عدالت جاگی اور حکم دیا کہ عمران خان کو فوراً شفا ہسپتال منتقل کیا جائے، بہنوں سے ملاقات اور بچوں سے بات کرائی جائے۔ یہ سب اچانک کیسے ہوا؟ یقیناً کچھ سرگوشی تو چند کانوں میں ہوئی ہو گی اور یہ کان صرف ہیئتِ مقتدرہ کے ہی ہو سکتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ کان اتنے ہی طاقتور تھے تو فارم 47 کی جعلی حکومت میں اس قدر جراتِ انکار کہاں سے آ گئی؟ اس نے سپریم کورٹ کا حکم کیسے ٹال دیا؟ اور وہ سپریم کورٹ جو 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد طاقتوروں کی جنبشِ ابرو کی محتاج ہو چکی ہے، اس کے کہے پر عمل نہ کرنا فارم 47 کی حکومت کے بس کی بات نہیں۔

کسی مہا پرش نے ٹھیک کہا تھا: "پاکستان خدا کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔”

خیر، تحریکِ انصاف نے توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ جب سماعت شروع ہو گی تب ان رازوں سے پردہ اٹھ جائے گا کہ جو فلم جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب چلی تھی، اس کا مصنف اور ہدایت کار کون تھا!

دوسری طرف، آزادیِ اظہار کا ایک اور قیدی، شاعر اور صحافی احمد فرہادجس نے اپنے تیشۂ قلم سے سچ کی تلاش شروع کی تھی اس کی غیر قانونی قید کو ایک ماہ سے اوپر ہو گیا ہے اور ابھی تک اسے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ احمد فرہاد نے غیر قانونی قید میں بھوک ہڑتال کر دی ہے، وہ بہت بیمار اور لاغر ہو چکا ہے۔ اس کی شنوائی اور دادرسی بہت ضروری ہے۔ ایک اور صحافی دانش ارشاد کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا ہے۔

احمد فرہاد اور دانش ارشاد کا جرم یہ ہے کہ یہ پاکستانی کشمیر میں برپا ریاستی جبر کی درست رپورٹنگ کرتے ہیں ایک بانکا سجیلا صحافی سہراب برکت بھی قید میں ہے۔

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم جیسے دیوانے لکھتے ہی رہیں گے، وطنِ عزیز میں کبھی بھی قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہو گی۔ اسی لیے مرزا نوشہ یاد آتے ہیں:

بک رہا ہوں جنون میں کیا کیا

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button