انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینسائنس و ٹیکنالوجیکالم

ڈاکٹر عبدالقدیر خان تیرا احسان

تحریر: راحیلہ رحمن(اسلام آباد)

نعرہ تکبیر اللہ اکبر ۔۔پاکستان کی عسکری طاقت فتح یاب ہو ، قوم کا سر فخر سے بلند ہو ،دشمن کی آنکھوں میں انکھیں ڈال کر للکارنے کا مظاہرہ ہو ، ساری دنیا پاکستان کا دم بھرے یا پاکستان کی تاریخ کا کوئی سنہری دن ہو ڈاکٹر عبدالقدیرخان کی یاد اسی طرح تازہ ہو جاتی ہے جیسے خوشی کے موقع پر خاندان کا وہ بزرگ شدت سے یاد آتا ہے جس نے خوشیوں کی راہیں ہموار کرنے میں اپنا خون جگر دیا ہو۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ 28 مئی کا دن جو یوم تکبیر کے نام سے موسوم ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بغیر اس کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ ایسے خاص موقع پر میں اپنا فرض سمجھتی ہوں کہ انہیں خراج عقیدت پیش کروں تاکہ نئی نسل جان سکے کہ کیسے نایاب گوہر اللہ نے امت مسلمہ کی جھولی میں ڈالے ہیں۔ان کی زندگی کے کچھ حالات و واقعات اور جدوجہد کے سفر کی داستان ہم ان کی ہی زبانیں پڑھتے ہیں جس پڑھ کر بخوبی اندازہ ہوگا کہ لمحے میں مل جانے والی خبر کہ "پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا "کے پیچھے ان کی کاوشوں کی پوری داستان رقم ہے جیسے بقول شاعر
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا میں

راقم نے کراچی میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ایک انٹرویو کیا تھاجو غازی میگزین میں شائع ہوا تھا۔ اس انٹرویو میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا تھا کہ ”میں یکم اپریل 1936 میں بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوا ہم پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں ، میرے والد محترم کا نام عبدالغفور خان تھا جو تعلیم کے شعبے سے منسلک تھے انہوں نے بطور ہیڈ ماسٹر اور سپرنٹنڈنٹ آف سکولز خدمات سرانجام دیں میری والدہ محترمہ کا نام زلیخابیگم تھا جو گھریلو خاتون تھی اور غریب بچوں کو گھر پر مفت پڑھاکر خوشی محسوس کرتی تھیں میں نے میٹرک کا امتحان بھوپال کے ہی ایک سکول سے پاس کیا۔

میں پڑھائی میں ہمیشہ سے بہت اچھا تھا دل لگا کر پڑھتا اسکول میں ہمیشہ نمایاں پوزیشن حاصل کرتا۔ میں نے کبھی ٹیوشن نہیں پڑھی اسکول میں ٹیچر جب پڑھاتے تھے توجہ سے سنتا تھا۔تقسیم کے فورا بعد میرے دو بڑے بھائی پاکستان آگئے تھے اور 1952 میں ہمارا باقی خاندان بھی کراچی پہنچ گیا میں نے کراچی یونیورسٹی سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا اور بعد میں مزید اعلی تعلیم کے لیے برلن (جرمنی )کی ٹیکنیکل یونیور سٹی میں تعلیم حاصل کرنے چلا گیا وہاں دو سال تعلیم حاصل کر کے ڈیفالٹ (ہالینڈ) کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی چلا گیا اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میری منگیتر ہینی اور ان کی فیملی ہالینڈ میں رہائش پذیر تھی وہاں سے میں نے ایم ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی ایک سال ریسرچ اسسٹنٹ رہا اسی دوران میری شادی ہوئی پھر بیلجیئم کی مشہور یونیورسٹی لیوون سے فیلو شپ ملنے پر ہم بیلجیم چلے گئے میری دونوں بیٹیاں دینا اور عائشہ وہیں پیدا ہوئیں۔

نومبر 1971ءمیں ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی تھیسس پیش کرکے انٹرویو کی تاریخ کا انتظار کر رہا تھاکہ 16 دسمبر 1971ءمیں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی جنگ شدت اختیار کر گئی اور پاکستانی افواج سے شرمناک طور پر ہتھیار ڈلوائے گئے اور پاکستانی قیدی نہایت ذلت سے ہندوستان لے جائے گئے تو مجھے بے حد دکھ ہوا میں کئی دن تک کھانا نہیں کھا سکا نوالہ حلق میں اٹک سا جاتا تھا رات کو تنہائی اور اندھیرے میں آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لیتے تھے مگر اس وقت میں کچھ نہیں کر سکتا تھا لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے ٹھان لیا کہ پاکستان کی بقاکے لیے ضرور کچھ کرنا ہے لیکن اس کے لیے مجھے مزید محنت اور تجربے کی ضرورت تھی۔

1972 کے آغاز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے کر ہم ایمسٹر ڈیم چلے گئے وہاں مجھے ایک بڑی کمپنی وی ایم ایف میں اچھی ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی اس کمپنی میں دنیا کی ہر چیز بنتی تھی پوری کمپنی کا ایک ریسرچ روم تھا یہ ایک ہائیڈل پلانٹ تھا جس میں جرمنی اور انگلینڈ مل کر کام کرتے تھے یہ بہت سیکرٹ پلانٹ تھا ریسرچ روم کے کنسلٹنٹ نے مجھے اس روم میں کام پر لگا دیا میں ٹرین کے ذریعے جاتا تھا تقریبا ایک گھنٹہ پہنچنے میں لگتا تھا کبھی کبھار تو مجھے ہفتہ ہفتہ ریسرچ روم میں رہنا پڑتا تھا اس طرح وہاں میں نے بہت اہم کام کئے اس کمپنی نے 20 سالوں میں دو بلین ڈالر خرچ کر کے ٹیکنالوجی کو پرفیکٹ کیا تھا اس ٹیکنالوجی کو میں نے دن رات محنت کر کے بہت اچھی طرح سمجھا اور سیکھا مجھے اس کمپنی نے اچھی تنخواہ رہائش اور گاڑی دی میں یہاں کام کر رہا تھا اور کئی ممالک سے مجھے اچھی پیشکش آرہی تھیں کیونکہ میں نے یہاں اعلی مقالے لکھے تھے جو مشہور بین الاقوامی رسالوں میں شائع ہوئے ۔

ترکی کی مشہور درسگاہ مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی نے مجھے پروفیسر کی پوزیشن کی پیشکش کی تو میں نے بیگم سے مشورہ کر کے پیشکش قبول کر لی اور ہمارا ارادہ گرمیوں کی تعطیلات گزارنے کے بعد وہاں جانے کا تھا لیکن میں نہیں جا سکا کیونکہ 18 مئی 1974ءکو پوکھران میں بھارت نے کامیاب ایٹمی دھماکہ کر ڈالا اس کام میں بھارت کو بلواسطہ طور پر امریکہ، انگلینڈ، کینیڈا، فرانس کی خاموش مدد حاصل ہوئی مجھے اس دھماکے کے بعد یہ احساس ہو گیا تھا کہ حالات یہی رہے تو پاکستان 10 سال سے زیادہ قائم نہ رہ سکے گا اور ہندوستان صرف کشمیر پر بلکہ لاہور اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر بھی قبضہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

مختلف ممالک سے آفرز تو مجھے بہت آرہی تھیں پر آسائش زندگی درکار ہوتی تو مزید کوئی سوچ نہ آتی مگر میرا نصب العین تو کچھ اور ہی تھا میں نے اس صورتحال سے پریشان ہوکر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھا اور پھر بھٹو صاحب کا فوری جواب بھی آگیا کہ آپ فورآ پاکستان آجائیں میرے لیے فوری طور پر پاکستان آنا ممکن نہیں تھا لیکن جو فیصلہ میں کرچکا تھا اس کے لیے دیر یا بدیر جانا تو پاکستان ہی تھا۔ کرسمس کے موقع پر بیگم اور بچیوں کو لے کر پاکستان آگیا اور میں نے ذوالفقار علی بھٹو صاحب سے ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ میں دنیا کی حساس ترین ٹیکنالوجی برائے افزودگی یورینیم پر کام کر رہا ہوں اس ٹیکنالوجی پر جرمنی ہالینڈ اور انگلینڈ نے 20 سال ریسرچ کر کے ہالینڈ میں المیلو کے مقام پر ایک پائلٹ پلانٹ لگایا جو کامیابی سے چل رہا ہے ۔

اس ری ایکٹر میں ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والا چار فیصد افزودہ یورینیم تیار کر رہا ہے لیکن میرے اندازے کے مطابق اس ٹیکنیک سے ایٹم بم بنانے کے لیے 90 فیصد سے زیادہ افزودہ یورینیم تیار ہو سکتا ہے جب میں کراچی سے اسلام آباد آیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ ایئرپورٹ کے قریب نہایت خستہ حال گیراجوں میں بشیر الدین محمود 10، 12 لڑکوں کے ساتھ اس پروجیکٹ پر کام نہیں بلکہ مذاق کر رہے ہیں میں نے بھٹو صاحب کو صاف طور پر بتا دیا کہ یہ لوگ متعلقہ کام کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں کیونکہ محض گیراجوں میں ایسے حساس کام کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

دوسرے روز بھٹو صاحب نے مجھ سے درخواست کی کہ ملک کا مستقبل خطرے میں ہے لہذا واپس نہ جائیں اور یہ کام سنبھال لیں میں نے اپنی بیگم سے بات کی کیونکہ وہ غیر ملکی تھیں اور بہت خوشحال فیملی سے تعلق رکھتی تھیں ان کے ماں باپ بھی بوڑھے تھے اس صورتحال میں وہ کیا چاہتی ہیں پوچھنا بہت ضروری تھا جب میں نے ان سے پوچھا تو انہوں مجھ سے پوچھا کیا واقعی آپ اپنے ملک کے لیے یہ اہم خدمت انجام دے سکتے ہیں؟ تو میں نے جواب دیا کہ میرے علاوہ کوئی اور پاکستانی کبھی بھی یہ کام نہیں کر سکتا تو انہوں نے کہا کہ اگر اپ کی یہی خواہش ہے تو پھر میں آپکے ساتھ ہوں ہم یہیں رہیں گے میں اپنے والدین کو سمجھا دوں گی۔

اس کے بعد ہینی نے کبھی واپس جانے کی بات نہیں کی نہ ہی پاکستان میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر کوئی شکایت کی۔ میں نے اپنے مقصد پر کام شروع کردیا ہمیں یہاں بہت مشکل حالات کا سامنا اور سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین منیراحمد خان نے جو ڈاکٹر نہ تھا ہمیں بہت پریشان کیا پھر جولائی 1976 میں بھٹو صاحب نے اسے پراجیکٹ سے علیحدہ کر کے مجھے سربراہ بنا دیا بس پھر میری اور میری ٹیم کی انتھک محنت تھی اور خوابوں کی تعبیر کا عزم کہ سات سال کے قلیل عرصے میں اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کیایہ کام اللہ رب العزت کی خاص مدد کے بعد میرے پختہ ارادے اور میری بیگم کے ساتھ کے بغیر یہ کام ممکن نہ تھا۔

میرا اللہ پر قوی بھروسہ تھا کہ وہ مجھے کامیاب ضرور کریگا کیونکہ نیک نیتی اور صدق دل سے محنت کی جائے تو اللہ ضرور اجر دیتا ہے اور میرا یہ یقین حقیقت میں بدل گیا ایٹم بم تو بن گیا مگر دوسری تگ و دو پھر شروع ہوئی جو اسکے تجربہ کرنے کی تھی اس کوشش میں کئی چہرے بے نقاب ہوئے کئی رکاوٹیں لوگوں کی شکل میں سامنے آئیں اس کوشش میں کئی سال لگے اور بالآخر نواز شریف کے دور حکومت میں خواب کی اس تعبیر کو دنیا کے سامنے لایا گیا۔28 مئی 1998 میری زندگی کا حسین دن تھا جب چاغی کی اڑتی دھول نے گواہی دی کہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بن گیا۔

"آج عبدالقدیر خان ہم میں موجود نہیں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے صلے میں ملک کا اعلی ترین سول اعزاز نشان امتیاز دو مرتبہ دیا اور دوسرے بڑے اعزاز ہلال امتیاز سے بھی نوازا۔ محسن پاکستان کا لقب بھی دیا گیا مگر مشرف کے دور حکومت میں انہوں نے اس احسان کی جو بھاری قیمت ادا کی وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں انکے نام کے ساتھ پاکستان کے نام کو بھی خراب کرنے کی گھنائونی کوشش کی گئی۔ دو ارب ڈالر کی ٹیکنالوجی مفت دینا اور ملک کو پہلی اسلامی ایٹمی قوت بنادینا کیا اتنا بڑا جرم تھا جس کا یہ صلہ دیا گیا۔انہوں نے جو کیا اس کاصلہ تو اللہ کے پاس محفوظ ہے اور جسے اللہ عطا کرے اسے اور کیا چاہئے سوچنا تو زمین والوں کو ہے جو ان کا نام مٹانے اور احسان بھلا دینے پر مصر ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button