انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبسائنس و ٹیکنالوجیکالم

ڈاکٹر عبدالقدیر کرکٹ کے شوقین،ملک کیلئے نقصان دہ سیاستدانوں کی کیا نشانیاں بتا گئے؟

ایٹمی سائنس دان کا آئیڈیل کون،ملکی خدمت کا کیا صلہ ملا،؟تاریخی انٹرویو سے اقتباس

انٹرویوراحیلہ رحمٰن

اسلام آباد:(انٹرویو/راحیلہ رحمٰن/سینئر صحافیہ،کالم نگار سی این این اردوڈاٹ کام)محسن پاکستان معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کسی تعار ف کا محتاج نہیں ہے۔وہ یکم اپریل 1936 کو بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور برصغیر پاک ہند کی تقسیم کے بعد 1952 میں ہجرت کر کے کراچی آ گئے جو10اکتوبر2021کواسلام آباد میں 85برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم بھارت میں ہی حاصل کی جبکہ کراچی یونیورسٹی سے 1960 میں انہوں نے فزیکل میٹالرجی میں گریجویشن کیا جس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جرمنی اور ہالینڈ روانہ ہو گئے۔ جہاں انہوں نے ہالینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی سے 1967 میں ماسٹرز کیا جبکہ 1976 میں پاکستان پہنچے اور ایٹمی پروگرام کیلئے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ملاقات کرکے اپنے کام کا آغاز کیا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان بنایا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس مملکت خدا داد کو بری نظر سے دیکھنے والوں کی راہ میں ایک دیوار کھڑی کر دی، ایک طویل عرصہ اس کام کی تکمیل کی خاطر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یوں زندگی گزاری کہ راحت، آرام ہر رشتے ہر تعلق کو فراموش کر دیا دبس ایک لگن ہر لمحہ دل کی ہر دھڑکن کے ساتھ رہی کہ وہ مقصد حاصل ہو جائے کہ مملکت خداداد دنیا میں سر اٹھا کر چلنے کے لائق ہو جائے اور کوئی اس کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے، پھر 28مئی 1998 کو ان کے خواب نے حقیقت کا روپ دھار لیا۔

 

چاغی کی پہاڑی نے خود کو غبار کی صورت بدل کر شہادت دی کہ اقوام عالم میں پاکستان بھی ایٹمی قوت ہے۔ دنیا نے ان کی راہ روکنے کے لیے مقدمات قائم کئے مگر وہ اپنے کام میں مصروف رہے۔ پھر ایک عہد شکن نے محسن پاکستان کے کردار اور کارنامے کو دھندلانے پر کمر باندھی مگر چاند پر تھوکا اس کے منہ پر گرا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان آج بھی پورے قد سے کھڑے ہیں پاکستانی قوم کے دلوں میں بستے ہیں اور حلف توڑنے والے کہیں نظرنہیں آتے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے واحد شہری ہیں جن کو حکومت پاکستان نے خدمات کے صلے میں ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز نشان امتیاز دو مرتبہ دیا اور ملک کے دوسرے بڑے اعزاز ہلالِ امتیاز سے بھی نوازا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو لکھنے پڑھنے کا شوق شروع سے ہی ہے ان کے 200 کے قریب تحقیقی مقالے دنیا بھر کے بہترین تحقیقی رسالوں میں شائع ہو چکے ہیں۔

ان کی اعلیٰ خدمات کے طور پر ان کو 62 سے زائد گولڈ میڈل مل چکے ہیں اور چار سونے کے تاج بھی پہنائے گئے ہیں۔ جبکہ آپ کی خدمات کے اعتراف میں بے شمار یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دی ہیں جن میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف بلوچستان، گومل یونیورسٹی، ہمدرد یونیورسٹی آف کراچی اور سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ کراچی قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رہائش اسلام آباد کی بلند و بالا پہاڑی سلسلہ مارگلہ کے سنگم میں واقع سیکٹر میں تھی ،ڈاکٹر صاحب کو پرندوں اور جانوروں سے بے حد پیار تھا۔ آپ کے گھر کے صحن میں جہاں بے شمار قدرتی پرندے دانہ چگتے وہاں بے شمار بندر صبح دوپہر شام پہاڑوں سے نیچے اتر کر اپنا پیٹ بھرنے کیلئے آتے ۔

محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ہونے والی گفتگو اور یادگار انٹرویوسی این این اردوڈاٹ کام کے قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مطابق 1961 میں جرمنی چلا گیا تھا اور برلن کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی میں پڑھائی شروع کر دی تھی پھر 2 سال بعد ہالینڈ میں ڈیلفٹ کی مشہور ٹیکنیکل یونیورسٹی میں چلا گیا کیونکہ میری منگیتر ہالینڈ میں رہائش پذیر تھیں وہاں میں نے ایم سی ٹیکنالوجی امتیازی نمبروں سے پاس کیا ایک سال ریسرچ اسسٹنٹ رہا اور پھر بلجیئم کی مشہور یونیورسٹی لہووں سے ڈاکٹر آف انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی چار سال تک ایمسٹرڈم کی مشہور کمپنی وی.ایم.ای ورک اسیور پرائیویٹ لمیٹڈ میں جہاں ایک لاکھ افراد کام کرتے تھے ملازمت کی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی جب ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کئے 1994)میں( تو پاکستان کی بقاءکی خاطر بھٹو صاحب کی ذاتی درخواست پر جنوری 1976 میں پاکستان واپس آکر ملک کی خدمت شروع کر دی مجھے یقین تھا کہ ایٹم بم بنانے کا کام صرف میں ہی کر سکتا ہوں اور کوئی نہیں اس لیے یورپ کی اعلیٰ نوکری اورتمام سہولیات چھوڑ کر پاکستان واپس آگیا۔

اس دوران شادی بھی ہو چکی تھی اس وقت ہماری بچیوں کی عمریں 7 سال اور 5سال تھیں ہمیں یہاں بہت تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا اٹامک انرجی کے چیئرمین منیر احمد خان نے (جو ڈاکٹر نہ تھے) ہمیں بہت پریشان کیا تھا۔ پھر جولائی 1976 میں بھٹو صاحب نے پراجیکٹ کو علیحدہ کر کے مجھے سربراہ بنا دیا اور ہم نے 7سال کے مختصر عرصے میں ملک کو ایٹمی قوت بنا دیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیرخان بہن بھائی ان کا نمبر چھٹا ایک بڑی بہن، ایک چھوٹی بہن اور منجھلے بھائی کراچی میں مقیم رہے۔

انٹرویو سے اقتباسات کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان: 9 مارچ 1964 ہیگ ہالینڈ میں ہوئی اور اپنی پسند سے کی مگر والدہ اور بہن بھائیوں کی مرضی و خوشی شامل تھی

 

سوال: آپ کو یقین تھا کہ ایک دن آپ کا نام اس طرح تاریخ میں رقم ہو سکے گا؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: یقین تو نہ تھا کوشش تھی غیب کا حال تو اللہ جانتا ہے مگر نیک نیتی و صدق دل سے محنت کی جائے تو اللہ اجر ضرور دیتا ہے۔

سوال: آپ کی بیگم نے آپ کے مشن کی تکمیل میں کس حد تک ساتھ دیا؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: میری بیگم کی مدد اور خلوص کے بغیر یہ کام نا ممکن تھامیں نے ہر کام میں ہر وقت ان کو اعتماد میں لیا تھا۔

سوال: آپ کے کتنے بچے ہیں اور ان کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ہماری ماشاءاللہ دو بیٹیاں ہیں دینااور عائشہ۔

سوال: آپ کی خواہش تھی کہ آپ کی اولاد میں سے کوئی آپ کے نقش قدم پر چلے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: نہیں ہم نے بچوں کو ان کی مرضی سے تعلیم کا انتخاب کرنے دیا ۔

سوال:کبھی ایسا وقت آیا جب مشن کے دوران ہمت جواب دے گئی ہو اور سوچ نے جنم لیا ہو کہ مشن شاہد مکمل نہ ہو سکے؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: یہ سوچ کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ اگر یہ شک و شبہ ہوتا تو میں کبھی پاکستان آکر اپنی خدمات پیش نہ کرتا لا تعداد بار مشکلات پیش آئیں مگر نہ ہم نے ہمت ہاری بلکہ مشکلات کو حل کر لیا اللہ کے بہت شکر گزار ہیں۔

سوال: ایٹمی طاقت پاکستان بنا اس وقت آپ کے جذبات و احساسات کیا تھے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ ہماری زندگی میں ہی میرے رفقائے کار اور میں نے اپنا مشن مکمل کر لیا اور ملک ایٹمی قوت بن گیا۔

سوال:اس کارنامے کے بعد دنیا نے دیکھا آپ کے ساتھ جو ہوا، دھوکے ہوئے، الزام تراشیاں ہوئیں تو کبھی منفی سوچوں نے جنم لیا؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: جی ہاں دکھ ہوا کہ بعض جاہل، زانی، شرابی حکمرانوں نے اپنے محسن کو اور ملک کو دنیا کے سامنے بدنام کیا پھر دکھ ہوا کہ کیا 2ارب ڈالر کی ٹیکنالوجی مفت دینے اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا یہ صلہ ملنا تھا۔

سوال:آپ ہر وقت سکیورٹی کی نظروں میں رہتے ہیں اس زندگی سے کبھی اکتاہٹ محسوس ہوئی یا زندگی متاثر ہوئی؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: خاص طور پر نہیں بعض اوقات یہ تکلیف ہوتی ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی ختم ہو گئی ہے آپ اٹھ کر باہر جا کر کافی نہیں پی سکتے، آئس کریم نہیں کھا سکتے۔

سوال: اپنی مرضی سے عام انسانوں کی طرح گھومنے پھرنے کا دل چاہتا ہے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: جی بالکل چاہتا ہے مگر ملک پر اتنا بڑا احسان کرنے کی بہت بھاری رقم ادا کی ہے ۔

سوال: پاکستان کو مزید بہتری کی جانب لانے کا کوئی اور منصوبہ؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: جو کام کیاا س کا جو صلہ ملا اس کے بعد کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا۔

سوال:آپ کے خیال میں پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے حکومت کا پہلا قدم کیا ہوناچاہیے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: اس کےلئے لا تعداد انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت ہے یہاں پڑھے لکھے تجربہ کار ٹیکنوکریٹس کو حکومت چلانے میں زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔

سوال: تحریک تحفظ پاکستان کا اصل مقصد کیا ہے اور اب تک یہ تحریک کس حد تک کامیاب ہوئی؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: یہ جماعت تحلیل کر دی گئی ہے میرا مقصد صرف یہ تھا کہ عوام کو ان کے ووٹ کی اصل حقیقت اور تقدس کا احساس دلایا جائے اور یہ کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں اس میں کامیابی ہوئی مگر جو نمائندے چنے وہ زنگ آلود کارتوس نکلے۔

سوال: بچپن کیسا گزراشرارتی تھے یا سنجیدہ؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: عام بچوں کی طرح کھیل کود تالاب میں بنانا، پتنگ بازی، کرکٹ، ہاکی، فٹبال وغیرہ میں حصہ لیا کبھی غیر انسانی حرکات میں حصہ نہیں لیا۔

سوال: کوئی ایسی بات جو آج بھی چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہو؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: لا تعداد چیزیں، بچپن میں دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق لطیفے یاد کرتا ہوں تو مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔
سوال: کوئی ایسا واقعہ جو آج بھی آنسو لے آتا ہو؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: جی، اپنے پیارے کتے اور بلی کی موت پر بہت رویا تھا۔

سوال: ایسی خواہش جس کے پوراہونے کا انتظار ہو؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ملک میں امن و امان، ہم آہنگی اور اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا انتظار ہے۔

سوال: ایسی سوچ جو پریشان کرتی ہو؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ملک کی ابتر حالت، امن و امان کا فقدان، اسلام کا بذریعہ فرقہ پرستی مذاق یہ اچھے مستقبل کا پیش خیمہ نہیں ہے۔
سوال: آپ سائنسدان نہ ہوتے تو کس شعبے میں نام کمارہے ہوتے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: میں محنتی شخص ہوں اللہ نے عقل و فہم بھی دی ہے جو کام بھی کرتااچھا کرتا اور نام پیدا کرتا میں پروفیسر بننا چاہتا تھا مگر پاکستان آنے سے وہ مقصد پورا نہ ہو سکاقسمت نے مجھے سائنسدان بنا دیا۔

سوال: پاکستان کے موجودہ بگاڑ کی کیا وجہ ہے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: بے ایمان، چور، جھوٹے، نا اہل اور کرپٹ حکمران اور بے شرم، بے ایمان عوام کی اکثریت دونوں نے اس پیارے ملک کو تباہ کر دیا۔

سوال:کیا آپ کے خیال میں پاکستان آئیڈیل ملک ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: یہی حال رہا تو مکمل تباہی یقینی ہے یہاں ہمیشہ نا اہل، بے ایمان اور جعلی ڈگری والے حکمران ہی حکومت کرتے رہے ہیں اوراب بھی کر رہے ہیں۔ ان سے نجات حاصل کئے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

سوال: گھر کے کاموں میں بیگم کا ہاتھ بٹاتے ہیں؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ہمیشہ سے ہاتھ بٹاتا ہوں یورپ میں کھانا بھی پکاتا تھا مجھے اچھے کھانے بنانے آتے ہیں اب بھی کچھ نہ کچھ پکاتا رہتا ہوں۔
سوال: کھانے میں کیا پسند ہے اور آپ سب سے اچھا کیا پکاتے ہیں؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: بریانی، میٹھے پراٹھے، آلو قیمہ، دال مسور، شوربے کی مچھلی پسند بھی ہیں اور یہ تمام اچھی طرح پکاتا بھی ہوں۔
سوال: کبھی رشتے داروں کی آمد پر کچھ پکا کر داد وصول کی؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ہمیشہ ہی رشتے داروں اور دوستوں کی داد وصول کی ہے۔

سوال: فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: مطالعہ، اسلامی تاریخ، تفسیر، سیاستدانوں کی سوانح عمر اور سائنس کی کتب کا مطالعہ میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
سوال:کون سا کھیل پسند ہے اور خود کیا کھیلتے تھے؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ہاکی اور کرکٹ پسند ہے اور کرکٹ میں بہت کھیلتا تھا۔
سوال:آپ کی پسندیدہ شخصیت کون سی ہیں آپ تو متعدد لوگوں کی آئیڈیل شخصیت ہیں؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: حضرت محمدﷺ، خلفائے راشدین، قائداعظم اور علامہ اقبال میری پسندیدہ شخصیات ہیں۔

سوال:فلمیں دیکھتے ہیں کون سے ایکٹر پسند ہیں؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: فلمیں اب نہیں دیکھتا جوانی میں اور یورپ میں ہفتے میں ایک ضرور دیکھتا تھا اداکار کوئی پسند نہیں۔
سوال:کسی سیاسی لیڈر کو ملک کے مفاد میں بہتر سمجھتے ہیں؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان: کسی کو بھی نہیں سب ہی اپنے مقاصد کو اسلام اور ملکی مقاصد پر افضل سمجھتے ہیں۔
سوال: زندگی میں کیا کھویا کیا پایا؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: اللہ نے بہت کچھ دیا وہ بھی دیا جس کےلئے خود کو اہل نہیں سمجھتا، اعلیٰ تعلیم، نیک بیوی، محبت کرنے والی بیٹیاں، نہایت پیاری، نواسیاں مشفق والدین بہن بھائی اور اچھے پر خلوص دوست اور کیا چاہیے۔
سوال: آپ والدین کے فرمانبردار رہے ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: ہم سب بہن بھائی نہ صرف اپنے والدین کے نہایت فرمانبردار رہے ہیں بلکہ تمام اہل محلہ کے ساتھ فرمانبردار کرتے رہے ہیں۔
سوال: اپنی کامیابی کا کریڈٹ کس کو دیں گے؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: والدین و اساتذہ کی رہنمائی، سخت محنت اور اللہ رب العزت کی سخاوت او ر رحم دلی کو۔
سوال: اگر ملک کی حکومت آپ کو دے دی جائے تو پہلا قدم کیا کریں گے؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: مفروضے پر کام نہیں کرتا اگر ملک کا نظام میرے حوالے ہوتا تو ایک سال میں ملک کی کایا پلٹ دیتا۔
سوال: کتنے عرصے میں پاکستان کو بحران سے نکالا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: اگر درست سمت میں کام کیا جائے تو 3 سے 5 سال کے عرصے میں پاکستان پیروں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔
سوال: پاکستان کے تعلیمی نظام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: پاکستان کا تعلیمی نظام قطعی تسلی بخش نہیں نہایت فرسودہ اور بے کار ہے۔
سوال: آپ کی کوئی ایسی خوبی جس سے پرستار اب تک ناواقف ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: میری رحمدلی اور فلاحی کام میرے لوگ نہیں جانتے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد وغیرہ۔


سوال:موسیقی کا شوق ہے پسندیدہ گلوکار کون ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: جی بالکل شوق ہے۔ غلام علی، منی بیگم، صابری، عابدہ پروین،اقبال بانو پسندیدہ گلوکار ہیں۔ مگر کبھی خود گانے کی کوشش نہیں کی۔
سوال:شاعری سے دلچسپی ہے کن شعراءکو پسند کرتے ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: شاعری کا بہت شوق ہے اور تمام مشہور شعراءپسند ہیں۔ جوش، جگر، غالب، مومن، اختر شیرانی، منیر نیازی، حفیظ جالندھری، فراز، فیض وغیرہ۔
سوال: مذہب سے کتنا قریب ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: اسلام ہماری رگ رگ میں ہے ہم سب بہن بھائی والدین کی طرح نمازی ہیں اور صبح ضرور تلاوت قرآن کرتے ہیں۔
سوال:کوئی ایسا قدم جس پر پچھتانا پڑا ہو؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: مشرف کی بات اور وعدہ پر اعتبار کر کے وہ بیان پڑھ دیا وہ ٹیکنالوجی میں نے مفت دی تھی حکومت پاکستان کی نہیں تھی اور میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اس نے امریکی صدر بُش کو خوش کرنے کیلئے مجھے بدنام کیا اب بھگت رہا ہوں۔
سوال: پاکستانی عوام کو کیسا پایا؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: عوام کی اکثریت بہت پرخلوص، محب وطن ہے امیر لوگ اور سیاستدان کرپٹ،عیار اور بے ایمان ہیں۔
سوال: نوجوان نسل سے کیا امیدیں وابستہ ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: زیادہ امیدیں نہیں ہیں ان کی پرورش بھی خود غرضانہ ماحول میں ہو رہی ہے حب الوطنی کا فقدان ہے۔
سوال: پاکستانی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کس کو سمجھتے ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: پاکستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے کرپٹ سیاستدان اور نام نہاد مذہبی لیڈرز ہیں۔


سوال:اتنا بڑا مقام پانے کے بعد بھی آپ غرور و تکبر سے کوسوں دور ہیں اس نازک موڑ پر کس چیز کی بدولت آ پ نے خود کو مستحکم رکھا؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: والدین کی تربیت اور اللہ رب العزت کا خوف مجھے غرور میں مبتلا نہیں ہونے دیتا کیونکہ خدا متکبر لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔
سوال: زندگی سے مطمئن ہیں؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: اللہ کا شکر ہے آرام، خوشیاں، غم، تکالیف زندگی کا حصہ ہیں ہمیشہ اللہ کا شکر گزار رہتا ہوں اور رحم کی دُعا مانگتا رہتا ہوں۔


سوال: پاکستانی عوام خصوصاً نوجوان نسل کو کیا پیغام دیں گے؟
ڈاکٹر عبدالقدیر خان: حالات بے حد خراب ہیں مگر امید کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں وقت پڑے تو ملک کی خدمت و مدد کریں جیسے میں نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا میرے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی پرواہ نہیں مگر میرے ساتھیوں اور میں نے ملک کو دفاعی طور پر نہایت مستحکم کر دیا اس کا اطمینان ہے مگر اب دشمن نہیں ہمارے اپنے لیڈر ہی اس ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button