بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

موسمیاتی تبدیلیاں ماحول،معیشت،سلامتی کیلئے بھی بڑا چیلنج

عقیل انجم اعوان

گزشتہ برسوں میں دنیا بھر میں موسمیاتی تغیرات کی شدت میں اضافہ ایک ناقابل تردید حقیقت بن چکی ہے۔ پاکستان سمیت متعدد ممالک ان تغیرات کے براہ راست اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں حالیہ برسوں میں اچانک اور شدید بارشوں کا بڑھ جانا، شدید گرمی کی لہریں، غیر متوقع سیلاب اور طوفانی بارشیں شامل ہیں۔ یہ مظاہر نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرہ بنے بلکہ معاشی ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

پاکستان کے شمالی اور پہاڑی علاقوں میں اگست 2025 کے دوران آنے والے طوفانی سیلابوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا، سڑکیں بہہ گئیں، دیہات منقطع ہو گئے اور ہزاروں لوگ محصور ہو کر رہ گئے۔ اس نوعیت کے واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا ہماری ریاستی منصوبہ بندی اور ماحولیاتی حکمت عملی بدلتے موسموں کے ساتھ ہم آہنگ ہے یا نہیں۔دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج بن چکی ہے۔

کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں دنیا بھر میں سات لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد افراد موسمیاتی آفات کے نتیجے میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ براہ راست مالی نقصانات کا تخمینہ چار اعشاریہ دو کھرب ڈالر لگایا گیا۔ ان نقصانات میں سب سے زیادہ نمایاں کردار سیلاب، طوفان، گرمی کی شدید لہریں اور قحط سالی نے ادا کیا۔ 2022 کے دوران پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل تھا جو شدید موسمیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ تاہم اس مسئلے کا دائرہ پاکستان تک محدود نہیں۔

برازیل میں آنے والے سیلاب، آسٹریلیا میں شدید گرمی کی لہریں اور امریکہ میں آنے والے سمندری طوفان بھی اسی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔مسئلے کی جڑ کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔ ایک طرف دنیا کی صنعتی سرگرمیوں نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو خطرناک حد تک بڑھا دیا تو دوسری جانب ترقی پذیر ممالک کی مالی کمزوری انہیں مناسب حفاظتی اقدامات کرنے سے روکتی رہی۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے مالی معاونت کے وعدے اکثر سیاسی مفادات کے زیر اثر رہتے ہیں اور عملی اقدامات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے پیرس معاہدے سے علیحدگی نے اس عالمی کوشش کو مزید کمزور کر دیا۔ موجودہ عالمی مالی بحران نے اس مسئلے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے درکار فنڈز میسر نہیں ہو پا رہے۔اس تمام پس منظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے اس مسئلے کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی پالیسی اکثر وقتی دباؤ کے تحت تشکیل پاتی ہے اور تسلسل کی کمی اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ سیلابی خطرات والے علاقوں میں انفراسٹرکچر کی مضبوطی، نکاسی آب کے نظام کی بہتری اور خطرے سے آگاہی مہمات کے لیے مقامی سطح پر مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا بھی لازمی ہے۔ جنگلات کی کٹائی اس وقت سب سے بڑا خطرہ ہے جس نے نہ صرف ماحولیاتی توازن کو نقصان پہنچایا بلکہ زمین کے کٹاؤ، سیلابی صورتحال اور حیاتیاتی تنوع کے خاتمے کو بھی جنم دیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 1992 میں پاکستان کا جنگلاتی رقبہ 3.78 ملین ہیکٹر تھا جو 2023 تک کم ہو کر 3.09 ملین ہیکٹر رہ گیا یعنی محض تین دہائیوں میں 18 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کمی کے اثرات نہ صرف ماحول پر پڑے بلکہ مقامی معیشت اور معاشرت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ مویشی پالنے والے، زراعت سے وابستہ کسان اور جنگلات پر انحصار کرنے والے دیہی معاشرے اس نقصان کے سب سے بڑے شکار ہیں۔ ان کے روزگار کے ذرائع ختم ہوئے تو وہ شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے، جس سے شہری مسائل میں بھی اضافہ ہوا۔پاکستان میں صاف توانائی کے منصوبے اب بھی اپنی ابتدائی سطح پر ہیں۔

حالانکہ ملک کے پاس شمسی، ہوا اور پانی کے ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے مگر پالیسیوں کی غیر تسلسل اور سرمایہ کاری کی کمی نے اس شعبے کو مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچنے دیا۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے پالیسیوں کا اعلان کیا گیا، مگر انفراسٹرکچر کی کمی، چارجنگ اسٹیشنز کی ناپیدی اور مالی مراعات کے فقدان نے اس منصوبے کو سست روی کا شکار کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے، مراعات دینے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔بین الاقوامی سطح پر صورتحال مزید پیچیدہ ہے۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی تبدیلی کے فریم ورک کنونشن (UNFCCC) کے تحت ہونے والی کانفرنسیں اکثر اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ باکو میں ہونے والی سی او پی 29 اور بیلیم میں متوقع سی او پی 30 دونوں مالی اہداف کے حصول میں مشکلات سے دوچار ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے مالی تعاون کی کمی ایک بار بار سامنے آنے والا مسئلہ ہے۔ نیا اجتماعی مقداری ہدف (NCQG) 2035 تک سالانہ 1.3 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ظاہر کرتا ہے، مگر موجودہ مالیاتی صورتحال میں یہ ہدف دور کی کوڑی محسوس ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ کم از کم 300 ارب ڈالر سالانہ فراہم کریں تاکہ ترقی پذیر ممالک اپنے ماحولیاتی منصوبے مکمل کر سکیں مگر اب تک اس ضمن میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے تنقیدی پہلوؤں میں ایک اہم سوال شفافیت کا بھی ہے۔ اکثر ترقی پذیر ممالک میں ملنے والے فنڈز شفاف طریقے سے استعمال نہیں ہوتے۔ منصوبوں کی منصوبہ بندی سے لے کر ان کے نفاذ تک بدانتظامی، کرپشن اور سیاسی اثرورسوخ ان فنڈز کے حقیقی مقاصد کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے فراہم کردہ فنڈز بھی اکثر قرضوں کی شکل میں ہوتے ہیں جن پر بھاری سود عائد کیا جاتا ہے، یوں یہ مدد مزید مالی بوجھ میں بدل جاتی ہے۔پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج دو طرفہ ہے:
ایک طرف اندرونی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے دوسری طرف عالمی سطح پر ایک مؤثر سفارتی حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔ ملک کو اپنی توانائی کی ترجیحات میں فوسل فیول پر انحصار کم کر کے قابلِ تجدید ذرائع کو ترجیح دینا ہوگی۔

جنگلات کی بحالی، پانی کے ذخائر کی منصوبہ بندی اور موسمیاتی خطرات کے لیے جلدی انتباہی نظام قائم کرنا لازمی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ معاشی، معاشرتی اور سلامتی کے خدشات سے جڑا ہوا چیلنج بن چکا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اب فیصلہ کن وقت آ گیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو مستقبل کے بجائے حال کی حقیقت کے طور پر قبول کریں اور عملی اقدامات کی بنیاد رکھیں۔ عالمی برادری کے تعاون کے بغیر یہ کام مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں بشرطیکہ داخلی سطح پر شفافیت، تسلسل اور عملی منصوبہ بندی کو فوقیت دی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button