آٹا ،گیس بند،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا،گورنر یک زبان،بڑے کھڑاک کااعلان؟
پنجاب نے آٹا بند کرکے یکجہتی کو نقصان پہنچایا:سہیل آفریدی،وزیر اعظم کوخط، سڑکوں پر نکلنے پر مجبور :فیصل کریم کنڈی

پشاور:(ویب ڈیسک) وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا پہلی بارصوبائی حقوق کےلئے ایک پیج پرآگئے، صوبے کو گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش پر سیاسی اختلافات بھلا کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگہ ہال میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر سپیکربابر سلیم سواتی اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اﷲ بھی ہمراہ تھے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ ظلم کر رہی ہے، آرٹیکل 151 کے تحت خوراک کی اشیاء کی نقل و حمل پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ خیبر پختونخوا کا غریب شہری پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا خرید رہا ہے۔ خیبر پختونخوا 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے، گیس پیدا کرنے کے باوجود ہمارے سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی۔
خیبر پختونخوا کی گیس کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔پنجاب نے آٹا بند کرکے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا، میں دیکھ رہا ہوں حکومت کی ناکام پالیسیوں کا ملبہ کے پی حکومت پر گرایا جائے گا۔ آرٹیکل 158 کے تحت جو صوبہ گیس پیدا کرے تو پہلے اس کی ضرورت پوری کی جائے گی۔ کے پی کے عوام کو بند گلی میں دھکیلا جارہا ہے۔
اگر خیبرپختونخوا کی عوام کو مزید تنگ کیا تو مجھے ڈر ہے وہ کوئی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔وفاقی حکومت مختلف منصوبوں میں ہمارے ساتھ غیر قانونی و غیر آئینی رویہ روا رکھے ہوئے ہے۔ صوبے میں وفاق کے کاموں کے لئے ہم برییج فنانسنگ بھی کر رہے ہیں۔ صوبے میں گیس کی بندش مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
میں اپنے تمام عملے کو ہدایت دیتا ہوں کہ گیس بندش کے سلسلے میں کسی بھی غیر آئینی اقدام میں وفاق کا ساتھ نہ دیں۔ وفاق نے کے پی کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے قبائلی اضلاع کے 12 ارب روپے بھی کاٹے ہیں۔وزیراعلی خیبر پختونخوا نے وزیر اعظم کو سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی معطلی پر خط لکھ دیا۔
خط میں خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی بندش کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا قدرتی گیس پیدا کرنے والا بڑا صوبہ ہے، صوبے کو آئینی حق سے محروم نہ کیا جائے، صوبہ تقریبا 494ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ استعمال صرف 120ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔
وزیراعلی نے وزیر اعظم سے سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی بحال کرنے کے لیے فوری مداخلت کی درخواست کی جبکہ وزیر اعظم سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے اور سی این جی سیکٹر کو گیس کا معاملہ ایجنڈے میں شامل کرنے کی بھی درخواست کر دی۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش اس وقت خیبرپختونخوا کے اہم ترین مسائل بن چکے ہیں جن سے صوبے کا غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
وزیراعظم صوبے کے مسائل پر ‘‘شہباز سپیڈ’’ سے کام کریں۔ گندم اور سی این جی کے معاملات پر وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صوبے کے حقوق کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے پرسپیکر صوبائی اسمبلی کے مشکور ہیں۔ وفاق کی جانب سے ایک طرف لاک ڈاؤن کیا گیا جبکہ دوسری جانب سی این جی بھی بند کی گئی، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ سی این جی بند کر کے آئین کے آرٹیکل 158 اور 151 دونوں کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے ،مسئلے پر وفاقی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں،وزیراعظم کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔
خیبرپختونخوا کو پانی کا اپنا حصہ نہیں مل رہا، اگر صوبے کو اس کا جائز حق دیا جائے تو کسی سے گندم مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشتگردی متاثر ہے، گندم اور سی این جی کی بندش سے صوبہ کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا،اگر غریب عوام کو روٹی اور سی این جی نہیں ملے گی تو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے، جب ہم آئین پر حلف لیتے ہیں تو اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا چاہیے۔



