انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

رمضان المبارک سے قبل مہنگائی کا طوفان

رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا نواں اور مقدس ترین مہینہ ہے، جس میں ہر عاقل و بالغ مسلمان پر فجر سے مغرب تک روزے رکھنا فرض ہیں۔یہ تزکیہ نفس، قرآن کے نزول، شبِ قدر کی برکتوں اور گناہوں کی معافی کا مہینہ ہے، جس کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا اور اللہ کی رضا پانا ہے۔ رمضان المبارک کی آمد کی خوشی ہر مسلمان کے دل میں ایک الگ سی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ آسمانوں سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے، شیاطین زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

 

روزہ دار کے لیے ہر سحری اور افطاری ایک نئی امید کا آغاز ہوتی ہے۔ تراویح کی خوشبو، تلاوت قرآن کی سرشاری، دعاؤں کی قبولیت کا یقین، اور لیلۃ القدر کی تلاش، یہ سب مل کر اس ماہ کو زندگی کے باقی مہینوں سے ممتاز کر دیتے ہیں۔ یہ مہینہ صرف روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ خود کو سنوارنے، نفس کی تربیت کرنے، دوسروں کے ساتھ ہمدردی بڑھانے اور اللہ سے قربت حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے۔ ایک نیک عمل جو عام دنوں میں کیا جائے تو اس کا ثواب دس گنا ملتا ہے، لیکن رمضان میں اسی عمل کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتا ہے۔

حدیث میں ہے کہ جو شخص رمضان کا ایک روزہ ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے گا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ یہ وہ ماہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سب سے زیادہ معافی اور بخشش عطا فرماتا ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم پہلو اس مقدس مہینے کی آمد کے ساتھ ہی بدل سا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف روزہ دار اپنے نفس پر قابو پانے کی مشق کر رہا ہوتا ہے، وہیں دوسری طرف ہمارے بازاروں اور دکانوں میں ایک ایسی دوڑ شروع ہو جاتی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے۔ رمضان کی آمد سے قبل بہت سے تاجروں کے رویے میں نمایاں تبدیلی آ جاتی ہے۔

تاجر برادری کے لیے رمضان المبارک کا مہینہ ان کے منافع کا سبب بن جاتا ہے اور اشیائے ضرورت کی چیزوں اور پھلوں اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بے تحاشا بڑھا دی جاتی ہیں یہ اضافہ کبھی اتنا زیادہ نہیں ہوتا جتنا رمضان کے مہینے میں دیکھنے میں آتا ہے۔ بہت سے تاجر جان بوجھ کر سٹاک کم رکھتے ہیں تاکہ مصنوعی قلت پیدا ہو اور پھر وہی اشیاء دوگنی تین گنی قیمت پر فروخت کی جا سکیں، یہ ذخیرہ اندوزی کی وہ شکل ہے جو براہ راست غریب اور متوسط طبقے کے روزہ داروں پر ظلم ہے۔

ایک طرف تو ہمارے بعض تاجر مسجد میں نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں، تسبیح ہاتھ میں لیے ذکر کر رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہی شخص دکان پر بیٹھ کر ناجائز منافع کما رہا ہوتا ہے۔ یہ تضاد ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو رمضان المبارک کے سنہرے اصولوں اور مذہبی اقدار کے منافی ہے۔دنیا بھر میں رمضان المبارک کی اہمیت اور فضیلت کی وجہ سے دکاندار اپنی دکانوں میں بچت سکیمیں شروع کر دیتے ہیں لیکن پاکستان میں تاجر اس مہینے کو اپنے منافع بخش کاروبار کے لیے استعمال کرتے ہیں، ذخیرہ اندوزی صرف اشیاء خورونوش تک محدود نہیں رہتی۔ کپڑوں، جوتوں، برتنوں، بچوں کے کپڑوں، حتیٰ کہ سجاوٹ کے سامان تک کی قیمتیں رمضان میں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں۔

تاجر یہ جانتے ہیں کہ لوگ رمضان میں نئے کپڑے، نئی چیزیں خریدنا چاہتے ہیں، بچوں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، گھر کو سجانا چاہتے ہیں۔ اس جذباتی اور مذہبی جذبے کا فائدہ اٹھا کر قیمتیں بڑھانا ایک طرح سے لوگوں کے ایمان اور جذبے سے کھیلنا ہے۔
رمضان المبارک کی آمد سے قبل مہنگائی کے طوفان نے غریب اور متوسط طبقے کو شدید پریشان کر دیا ہے،عوام پہلے ہی بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث شدید مالی دبا ؤکا شکار ہیں جبکہ اب بنیادی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافہ حکومتی رٹ اور مارکیٹ مانیٹرنگ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ روزمرہ استعمال کی چیزوں مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، آٹا، گھی، چینی سمیت دیگر چیزوں کی سرکاری نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے، رمضان المبارک کیلئے خصوصی سبسڈی اور سستے بازاروں کا فوری قیام عمل میں لایا جائے، ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کر کے روزانہ بنیادوں پر نرخوں کی چیکنگ کو یقینی بنایا جائے حکومت فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button