پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

لکی مروت میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6دہشتگرد ہلاک

دھماکے میں شہید 7اہلکاروں کی نماز جنازہ ادا کردی گئی: وزیرِ اعظم کی کامیاب آپریشن پر سی ٹی ڈی کو شاباش

لکی مروت، اسلام آباد ( ویب ڈیسک) سی ٹی ڈی بنوں ریجن نے لکی مروت کے علاقے شاگئی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔
سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق شاگئی میں کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے 6دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، تقریبا 40منٹ تک جاری رہنے والی کارروائی میں دہشتگردوں کے مزید ساتھی فرار ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ دہشتگردوں کے قبضے سے 4کلاشنکوف، 2پستول، 8دستی بم اور آئی ای ڈی برآمد ہوئے ہیں۔ دوسری جانب لکی مروت دھماکے میں شہید 7اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کردی گئی۔ دریں اثنا وزیر اعظم شہباز شریف نے فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سی ٹی ڈی کے افسروں و اہلکاروں کو شاباش دی ہے۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے دہشتگردی کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسر و اہلکار دن رات وطن کو دہشتگردوں سے پاک کرنے میں مصروف عمل ہیں جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان سمیت پوری قوم سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دہشتگردی کے خاتمے کے عزم میں ان کے شانہ بشانہ ہے۔دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے آپریشن غضب للحق کے تحت 12اور 13مارچ کی شب قندھار ایئر فیلڈ کی آئل سٹوریج سائٹس کو موثر حملوں کے ذریعے تباہ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے دستیاب ویڈیو میں حملوں سے پہلے اور بعد کے مناظر واضح طور پر دکھائے گئے ہیں، جن سے کارروائی کی شدت اور موثر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ آئل سٹوریج سائٹس افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اپنی مذموم کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں۔
پاک فوج موثر اور طاقتور کارروائیوں کے ذریعے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گرد ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی، فوج اپنی تمام تر استعداد کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button