پشاور (ویب ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مان سکتے، ملک میں حکمرانی کے انداز اور رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، ظلم کے ساتھ حکمرانی برقرار نہیں رہ سکتی اور معاشرے کو عدل فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
جے یو آئی (ف) کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ادب و احترام سے اپنے سپہ سالار سے کہنا چاہتے ہیں کہ اس منصب کے حوالے سے رہنمائی لی جائے، ملک کو بہتر سمت میں لے جانے کے لیے رویوں میں تبدیلی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دیانت دل میں نہ رکھنے والے مخلص نہیں ہو جاتے، معاشرے کو انصاف فراہم کرنا ہوگا، جبکہ پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون پاس نہیں ہوسکتا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے 40 فیصد ارکان بھی یہ کہیں کہ کسی معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجا جائے تو اسے ہر صورت کونسل کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کا معاملہ بھی کثرت رائے سے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا گیا تھا، تاہم اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ فوج کو سیاست میں مداخلت کا حق نہیں، تاہم ہم پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں۔ سیاست میں فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حالیہ قانون سازی کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا، حالیہ قانون سازی آئین سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق اس قانون کے ذریعے فوج کے نئے اختیارات دیے گئے جبکہ وزیراعظم کے اختیارات میں بھی تبدیلی کی گئی ہے اور حالیہ قانون کو دیگر قوانین پر بالادستی حاصل ہوگی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو طاقتور بنانے کے لیے قانون سازی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف ہوں یا فیلڈ مارشل، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، اصل مسئلہ پارلیمنٹ کے اختیار کا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بری، بحری اور دیگر افواج کو پارلیمنٹ کے اختیارات دیے گئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے اختیارات بھی ان کو منتقل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہارڈ اسٹیٹ سے معاشرے میں گھٹن پیدا ہوگی اور لوگ متنفر ہوں گے۔
سربراہ جے یو آئی نے دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صدام حسین کو پھانسی دی جاسکتی ہے تو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر مقدمہ کیوں نہیں ہوسکتا۔ ہم بھی امریکا کے اتحادی بن گئے اور دہشت گردی کے خلاف ڈالر لے رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی ختم ہوگئی؟
انہوں نے کہا کہ ملک میں بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومت کی رٹ ختم ہو رہی ہے۔ جنوبی اضلاع میں ڈی آئی جی سیکیورٹی کو ایک کانسٹیبل نے کلوز کردیا، بنوں اور لکی مروت میں ڈی پی اوز کی بات کوئی نہیں مان رہا جبکہ آئی جی کی ہدایات پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے حالات میں صوبوں کی تقسیم یا نئے صوبوں کی بات کرنا مناسب نہیں۔ فاٹا انضمام کے وقت بھی وہ اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہے کیونکہ ان کے بقول اس کے پیچھے امریکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کے محصولات میں اضافے کی بات ہوئی تھی، اب نئے این ایف سی ایوارڈ کے لیے صوبوں کی بات ہو رہی ہے۔ صوبوں کے اندر معدنی ذخائر کے معاملے پر ہمارے قبائل کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ایک فرد واحد کی خاطر فیصلے نہیں مان سکتے، بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں وہ بلوچستان میں ایک گاڑی میں سفر کرتے رہے ہیں لیکن آج وہاں ایسا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی شاہراہوں پر ناکے لگے ہوئے ہیں۔ صوبوں کے حوالے سے ہمارا مشورہ ہے کہ موجودہ حالات میں صوبوں کو توڑنا کسی صورت درست نہیں۔



