

لاہور:(بیوروچیف/سیدظہیر نقوی) ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال سے سامنے آنے والے دل دہلا دینے والے مناظر نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ، جہاں معصوم نوزائیدہ علاج کے نام پر بدترین اذیت سہنے پر مجبور ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جو اپنے آ پ کو سب کی ماں کہتی ہیں کی تمام تر صحت اصلاحات اور کاوشوں پر محکمہ صحت کے بے حس ذمہ داران نے پوری طرح پانی پھیر دیا ہے۔سی این این اردوکی رپورٹ کے مطابق مطابق ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی بچہ نرسری وارڈ، جو صرف 30 بچوں کے لیے مختص کی گئی تھی، اس وقت شدید گنجائش سے تجاوز کر چکی ہے۔ وارڈ میں اس وقت 184 معصوم اور نازک نوزائیدہ داخل ہیں، جن کی سسکتی سانسیں اور چیخیں دیکھ کر کسی بھی انسان کا دل دہل جائے۔
ویڈیواس لنک پر ملاحظہ فرمائیں
بیڈز مکمل طور پر بھر جانے کے بعد معصوم بچوں کو ہسپتال کی سخت میزوں اور بینچوں پر لٹایا گیا ہے، جہاں انفیکشن اور دیگر بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔
وارڈ کا ماحول اس قدر خراب اور مخدوش ہو چکا ہے کہ وہاں سانس لینا بھی دوبھر ہو گیا ہے، ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملہ اس ہولناک صورتحال کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آتا ہے۔ ہسپتال کے عملے کا کہنا ہے کہ وہ اپنی حد تک بچوں کی جانیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن وسائل کی شدید کمی اور جگہ نہ ہونے کے باعث صورتحال ان کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔

اس تشویشناک صورتحال پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیکرٹری ہیلتھ کی ذمہ داری صرف لاہور کے ہسپتالوں تک محدود ہے یا پورا پنجاب ان کی قلمرو میں آتا ہے؟ شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال کے کامیاب دورے کے بعد کیا سیکرٹری ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے اس مقتول وارڈ کی طرف رخ کرنے کی زحمت گوارا کریں گے؟

ساہیوال کے عوام اور ہسپتال کے پریشان حال عملے نے اعلیٰ حکام اور چیف منسٹر پنجاب سے التجا کی ہے کہ خدارا اس ہولناک صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ یا تو اس نرسری وارڈ کو ایمرجنسی بنیادوں پر جدید سہولیات فراہم کی جائیں یا پھر ساہیوال میں فوری طور پر کوئی متبادل ہسپتال قائم کیا جائے، ورنہ کسی بھی وقت کوئی بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

قبل ازیں 2024میں بھی ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں ایک سانحہ رونما ہوچکا ہے جس میں 13سےزائد بچے جان سے گئے تھے ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں 13 بچوں کے جاں بحق ہونے کے سانحہ پر غمزدہ خاندانوں کا دکھ بانٹنے پہنچ گئیں تھیں اور والدین سے اس سانحہ پر معذرت کی تھی انہوں نے ہسپتال کے چلڈرن وارڈ میں آگ لگنے کے واقعہ پر میڈیکل کالج کے پرنسپل اور ہسپتال کے ایم ایس کو ہتھکڑیاں لگوا دیں تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا ۔
ہسپتال کے دورہ کے دوران مریم نواز نے متاثرہ والدین سے باری باری سانحہ کی تفصیلات دریافت کیں تھیں،والدین کی باتیں سن کر وزیر اعلیٰ مریم نواز افسردہ اور پریشان ہوگئیں تھیں۔

وزیر اعلی مریم نواز نے ساہیوال میں ٹیچنگ اسپتال کے سانحے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں انہیں 11 بچوں کی ہلاکت سے متعلق انکوائری کی رپورٹ پیش کی گئی تھی ، رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے والے آلات ایکسپائر ہوچکے تھے، کچھ آلات بطور ڈیکوریشن سجائے گئے تھے، کسی کو ان کا استعمال نہیں آتا تھا۔
مریم نواز نے سوال کیا تھا کہ وقوعہ کے وقت آگ بجھانے والے آلات کیوں نہیں لائے گئے؟ ہیلتھ سیکٹر کو اربوں روپے دے رہے ہیں، غریب مریضوں سے داخلے کیلئے پیسے کیوں لیے جاتے ہیں، ایکسرے اور دوائیاں اسپتال کے باہر سے آرہی ہیں۔
مریم نواز نے محکمہ صحت کےحکام کی سرزنش کی، سی سی ٹی فوٹیج خود چیک کی اور حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کے ضمیر ملامت نہیں کرتے کیا؟ خود کو ان بچوں کے والدین کی جگہ رکھ کر دیکھیں، بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں جبکہ رپورٹ میں سب اچھا لکھا ہے۔
مریم نواز نے ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کے دورہ کے دوران میڈیکل کالج کے پرنسپل، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سمیت چار بڑے افسروں کو عہدوں سے برخاست کرکے گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا تھا ،مریم نواز نے ایم ایس، اے ایم ایس اور ایڈمن آفیسر پر شدید برہمی کا اظہار کیا تھا اور فوری محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی تھی ۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سا نحہ کے حقیقی ذمہ داروں کا تعین کرکے نشان عبرت بنانے کا حکم دیا تھا ۔



