پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاصحت

میو ہسپتال سٹنٹ سکینڈل، ینگ ڈاکٹرز پر الزامات بے بنیاد ثابت، کلین چٹ جاری

شعبہ کارڈیالوجی اور سٹنٹس میں کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی: انکوائری رپورٹ،ینگ ڈاکٹرز کا الزام تراشی کرنے والوں کا احتساب،حقائق عوام کے سامنے لا نے کا مطالبہ

 

لاہور: (بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)میو ہسپتال لاہور میں ینگ ڈاکٹرز کے خلاف شروع کی جانے والی تحقيقات اور انکوائری رپورٹس میں ینگ ڈاکٹرز کے خلاف عائد تمام الزامات غلط اور بے بنیاد نکلے۔ ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹ کے بعد ینگ ڈاکٹرز کو مکمل طور پر کلین چٹ مل گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوٹیج کا فرانزک کرایا جائے جس کیلئے فوٹیج کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوایا جانا چاہیئے جبکہ ویڈیوز کا لیک کیاجانا بھی اہم مسئلہ ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔

دستیاب انکوائری دستاویزات کے مطابق تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی نے ینگ ڈاکٹرز پر لگائے گئے الزامات کی بالکل تصدیق نہیں کی اس کے علاوہ شعبہ کارڈیالوجی (Cath Lab) اور اسٹنٹس کے حوالے سے قائم کی گئی دوسری خصوصی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اسٹنٹس کے استعمال، ریکوری یا سٹور کے نظام میں کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی (Discrepancy) یا غیر قانونی عمل سامنے نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق تمام طبی سامان اور اسٹنٹس قواعد و ضوابط کے مطابق ڈیوٹی پر موجود نرسنگ اور فیلڈ سٹاف کے ذریعے کنٹرول اور منتقل کیے جاتے رہے ہیں۔

انکوائری رپورٹس سامنے آنے کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ڈاکٹرز پر لگائے گئے الزامات محض ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک سازش تھے۔ ینگ ڈاکٹرز کے مطابق یہ تمام ڈرامہ ہسپتال انتظامیہ کی اپنی ناکامیوں، مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور منظرِ عام پر آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیوز سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے رچایا گیا تھا۔

ینگ ڈاکٹرز کے اہم مطالبات:

ینگ ڈاکٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ انکوائری رپورٹس کی اشاعت کے بعد تمام انکوائری رپورٹس کو بلا تاخیر اور فوری طور پر عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ ینگ ڈاکٹرز پر جھوٹے الزامات لگا کر ان کی ساکھ کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی اور ڈسپلنری کارروائی کی جائے۔ متاثرہ ڈاکٹروں کے وقار کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ہسپتال کے امور میں حقائق چھپانے کے بجائے کامل شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا سرکاری ہسپتالوں اور ڈاکٹروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button