انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکاروبارکالم

یہ نظام اب نہیں چلے گا

شاہد جاوید ڈسکوی

میں اپنی صحافتی زندگی کی تیسری دہائی کا مسافر ہوں اور شروع دن سے یہ بات سنتے آرہا ہوں کہ ملک کے حالات بہت خراب ہیں لیکن ماضی کے ہر دور کے خراب حالات میں ملک نے بھی سروائیو کیا اور قوم نے مردانہ وار حالات کا مقابلہ کیا لیکن آج واقعی حالات اس خوفناک اور المناک نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ ریاست میں نظر آرہی ہے اور نہ ہی قوم میں۔

مایوسی کے بادل اتنے گہرے اور تاریک ہو چکے ہیں کہ روشنی کی کوئی رمق باقی نہیں بچی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بحرانوں کی ایک ایسی بے رحم اور عمیق دلدل میں آ دھنسے ہیں جہاں ہر گزرتا لمحہ ہمیں مزید نیچے نگلتا چلا جا رہا ہے۔پاکستان اور اہلیانِ پاکستان نے ماضی میں بڑے بڑے چیلنجز بھگتے ہیں لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اتنے سارے بھیانک بحران کبھی ایک ساتھ اس قوم پر نازل نہیں ہوئے تھے جو آج ہمارے سامنے پنجے گاڑے کھڑے ہیں۔

معاشی تباہی کا چیلنج، سیاسی منافقت کا چیلنج، مفلوج اور سڑے ہوئے گورننس کا بحران، امن و امان کی دھجیاں اڑاتی صورتحال، دہشت گردی کی خونخوار لہر اور سب سے بڑھ کر دم توڑتی ہوئی اخلاقی و معاشرتی اقدار کا زوال۔ ہم ایک ایسے بھیانک دوراہے پر لا کر پٹخ دیے گئے ہیں جہاں آگے کھائی ہے اور پیچھے کنواں۔

سیاست تو بند راستے کھولنے اور قوم کو ناامیدی کے قعرِ مذلت سے نکالنے کا نام ہوتی ہے لیکن ہماری بے حس سیاست مکمل طور پر ہاتھ کھڑے کر چکی ہے۔ ہماری روایت پسند سیاست اور نام نہاد خود ساختہ رہنماؤں کے پاس ملک کو درپیش ان سنگین اور پیچیدہ مسائل کا کوئی تندرست اور معقول حل موجود ہی نہیں۔ اگر ان کے پاس کوئی حل ہوتا تو وہ کب کا اسے اپلائی کر چکے ہوتے۔ کون احمق ہوگا جو عوام کی چیخوں اور بددعاؤں کو نظر انداز کر کے غیر مقبول فیصلے کرے اور عوام کا شدید غیض و غضب اپنی جھولیوں میں سمیٹے؟ لیکن موجودہ نااہل حکومت اور اقتدار کے بھوکے مدعی یہ حماقت مسلسل کر رہے ہیں کیونکہ ان کی ذہنی افلاس معاشی اصلاحات کا کوئی بصیرت افروز وژن پیدا کرنے سے قاصر ہے۔

اس تمام تر بحرانی اور دردناک صورتحال میں ایک بنیادی اور چبھتا ہوا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک و قوم اپنے مسائل کے حل کے لیے مزید اس فاسد اور گل سڑے نظام پر تکیہ کر سکتے ہیں؟ وہ بھی اس مکروہ نظام پر جو صرف اور صرف پیسے، رشوت اور سرمائے کی غلاظت کے ساتھ جڑا ہوا ہے؟ جمہوریت کا ڈھونگ تو یہ رچایا جاتا ہے کہ یہ عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام پر ہوتی ہے لیکن یہ کیسی مکروہ جمہوریت ہے جس کے ساتھ عوام کا تعلق صرف الیکشن کے دن ایک ووٹ کی پرچی تک محدود کر کے انہیں ردی کا ٹکرا بنا دیا جاتا ہے؟

اس رائج الوقت ڈھکوسلے میں عام آدمی کی حیثیت محض ایک مہرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس نظام میں تو صرف جابر جاگیردار، لٹیرے سرمایہ دار، ظالم وڈیرے اور وہ خون چوسنے والے مافیاز ہی الیکشن لڑ سکتے ہیں جن کے پاس کروڑوں اور اربوں روپے کی ناجائز دولت وافر مقدار میں موجود ہو۔ایک عام آدمی جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، جو مہنگائی اور ادویات کی قیمتوں کے تلے بے دردی سے پس رہا ہے، جو آئے روز پٹرول کی قیمتوں کے اتار چڑھا، بلکہ چڑھاؤ ہی چڑھاؤ کی گھومن گھیریوں میں الجھا ہوا ہے ، وہ اس نظام کے تحت الیکشن لڑنے کا تصور بھی کیسے کر سکتا ہے؟

یہاں تو پارٹی ٹکٹوں کی نیلامی سے لے کر الیکشن مہم کے اخراجات تک، الیکشن کے نتائج کی خریدوفرخت سے لے کر حلف برداری اور وزرائے اعلیٰ و کابینہ کی تشکیل تک،سارے کا سارا نظام صرف اور صرف پیسے کی گرمی اور ضمیر فروشی کے بل بوتے پر چلتا ہے۔ایک ایم پی اے یا ایم این اے کی سیٹ کے لیے الیکشن میں کم از کم 5 سے 10 کروڑ روپے خرچ ہوتے ہیںاور یہ انتہائی محتاط اور شرما کر بتائی گئی رقم کا اندازہ ہے۔

ایک وفاقی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں کل ملا کے کم و بیش پندرہ سو اراکینِ اسمبلی ہیں۔ ایک ایک حلقے میں کم از کم دو مضبوط امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے اور دونوں طرف سے اتنی ہی اندھی رقم جھونکی جاتی ہے۔ پھر ان میں سے ایک جیتا دیا جاتا ہے اور ایک ہار جاتا ہے۔

جو شخص پانچ سے دس کروڑ روپے نچھاور کر کے صوبائی یا قومی اسمبلی کا ممبر بنتا ہے، وہ کوئی قانون سازی کے مقدس عمل کا حصہ بننے ایوان میں نہیں جاتا، وہ ایوان میں قدم رکھتے ہی پہلی فرصت میں الیکشن پر خرچ ہونے والی اپنی رقم کو دگنے منافع کے ساتھ پورا کرنے کی غلیظ دھن میں لگ جاتا ہے جبکہ ہارنے والا اگلی باری کے انتظار میں رہتا ہے تاکہ آئندہ الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے پچھلے اور اگلے دونوں الیکشنز کا حساب برابر کرے۔

ظاہر ہے کہ یہ اربوں روپے میری اور آپ کی جیبوں پر بے رحمانہ ڈاکہ مار کر ہی پورے کیے جاتے ہیں۔ قومی خزانے پر بے دردی اور بے رحمی سے ہاتھ صاف کیے جاتے ہیں۔ ایسے بھیانک ماحول میں کرپشن کا دروازہ کیسے بند ہو سکتا ہے؟ جب جب اس ملک میں اس انتخابی نرسری کے ذریعے حکومتیں بنیں، یہی گھناؤنا اور مکروہ کھیل کھیلا گیا اور یہ کھیل آج بھی پوری فرعونیت کے ساتھ جاری ہے۔

اس تمام تر ابتر صورتحال کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ موجودہ نظام کے تحت ان ہاؤس تبدیلی کا ڈرامہ رچا لیا جائےیاری الیکشن کا ، پھر الیکشن آج دوبارہ ہو جائیں، دو ماہ بعد ہوں یا دو سال بعد،کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔ حالات بد سے بدتر اور بدترین ہوتے جائیں گے۔

جب تک انتخابی سیاست میں پیسے کا یہ کثیف عمل دخل اور سرمائے کی اجارہ داری جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکی جائے گی تب تک عام آدمی اس نظام سے لاتعلق، مایوس اور پس ماندہ رہے گا اور اس کی زندگی میں بہتری کا کوئی امکان پیدا نہیں ہو سکتا۔ہمیں اب کھل کر اور بلا خوف اس فرسودہ، فاسد اور ناکام پارلیمانی نظام کو جڑ سے بدلنے کی بات کرنی ہوگی، جس کے عذاب کا شکار اس وقت پوری قوم اور پورا ملک ہے۔

اگر یہ نظام نہ بدلا اور اسی پیسے کے بل بوتے پر قائم گندے نظام کے تحت ان ہاؤس تبدیلیاں آتی رہیں یا روایتی الیکشن کا ڈھونگ رچایا جاتا رہا تو اس سے ملک نجات پانے کے بجائے مزید بحرانوں کی اتھاہ دلدل میں دھنس کر تباہ ہو جائے گا اور بہتری کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔گزشتہ دنوں وفاقی وزیرِ داخلہ نے بھی برملا اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ موجودہ نظام بالکل کولیپس کر گیا ہے، اگر اسے نہ بدلا گیا تو دس سال بعد بھی ہم انہی مسائل کا ماتم اور تذکرہ کر رہے ہوں گے جو ہمیں آج درپیش ہیں۔

اس اعترافی بیان کے بعد ملک کا سیاسی منظر نامہ واضح طور پر تقسیم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس نظام کے اندھے حامیوں اور اس کے نقادوں کے درمیان لکیر کھینچ چکی ہے۔ جو لوگ اس فرسودہ نظام کے براہِ راست بینیفشریز اور مفاد پرست ٹولہ تھے اور ہیں، وہ وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان پر شدید غصے اور بوکھلاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ نظام کی تبدیلی اور خاتمہ ان کی مرغوب عیاشیوں، لوٹ مار اور مفت خوری کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ثابت ہوگا۔ اب فیصلہ قوم کو کرنا ہے کہ وہ اس گلے سڑے نظام کے ساتھ دفن ہونا چاہتی ہے یا اسے اکھاڑ پھینک کر ایک نئے سفر کا آغاز کرتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button