سابق وزیر اعلی و موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب کی تقریر کے بعد مسلم لیگ ن کے بعض وفاقی وزراء بھی بیان بازی کررہے ہیں،سسٹم اگر خراب ہے تو اسکو ٹھیک کرنے کی کوئی بات نہیں کررہا اور اگر خراب ہے تو یہ نہیں بتایا جارہا کہ سسٹم کا جگہ سے خراب ہے اور اسکو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے،ہر کوئی حکومت کے ساتھ،ساتھ آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کے تبدیل ہونے کی بات کررہا ہے،ساتھ ہی ساتھ کچھ ایسے نام بھی لیے جارہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بہت بلکہ انتہائی قریب ہیں،کیا وزیر داخلہ سسٹم پر مکمل گرفت کرچکے ہیں؟
چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کو وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنی پنجاب کی وزارت اعلی کے دور میں تعیناتیاں دیں،اب یہ کہا جارہا ہے کہ شاید بلال صدیق کمیانہ نئے آئی جی پنجاب ہوسکتےہیں مگر کوئی یہ کیوں نہیں سوچ رہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے قریبی کو آئی جی پنجاب کیوں لگایا جائے گا ؟
بلال صدیق کمیانہ سابق وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کے بھی اتنے ہی قریب ہیں جتنے وزیر داخلہ محسن نقوی کے،تو ایسے حالات میں انکی پنجاب پولیس کے سربراہ کے طور پر تعیناتی جو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے حکم پر کی جانی ہے کیسے ممکن ہوگی؟
چیف سیکرٹری پنجاب کے بارے میں بھی یہ زبان زد عام ہے کہ انکو بھی تبدیل کرکے فارن سیکرٹری لگایا جارہا ہے،محسن نقوی زاہد اختر زمان کو فارن سیکرٹری لگوانے کی پاور بھی رکھتے ہیں تو انکی جگہ جس افسر کو بھی چیف سیکرٹری پنجاب لگایا جائے گا تو کیا وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے قریب نہیں ہونگے یا قریب نہیں ہوسکتے؟
وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا ہاؤس جب بنایا تو اس وقت سے پہلے کے انکے اوپر سے لیکر نیچے تک تعلقات رہے اور ہیں بھی،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چند روز قبل اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کی وزیر اعلیٰ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خاتون ہوسکتی ہیں تو پھر خاتون پولیس افسر آئی جی بھی ہوسکتی ہے،بالکل ہوسکتی ہے مگر اس وقت میری اطلاع کے مطابق گریڈ اکیس کی کوئی خاتون پولیس افسر موجود نہیں۔
شاپر ایسے اڑائے جارہے ہیں کہ شاپر خود پریشان ہوگیا ہے کہ مجھے اور کتنا اڑاؤ گے،سوشل میڈیا پر گزشتہ روز سے سابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور ڈاکٹر آنوش مسعود چوہدری کی آئی جی پنجاب تعیناتی کی خبر گردش کررہی ہے مگر کوئی یہ بھی نہیں سوچ رہا کہ ڈاکٹر انوش مسعود چوہدری اس وقت گریڈ اٹھارہ میں ہیں اور آئی جی پنجاب لگنے کے لیے کم از کم گریڈ 21 ضروری ہے،ایک دوست نے مجھے کال کرکے پوچھا کہ کیا انوش مسعود چوہدری آئی جی پنجاب لگ گئی ہیں تو میں نے کہا کہ آپ اپنا دماغ بھی استعمال کرسکتے ہیں کہ وہ کیسے ابھی آئی جی پنجاب لگ سکتی ہیں تو دوست کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان ہے یہاں کچھ بھی ہوسکتا ہے بالکل کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر وزیر اعلیٰ بھی جوابدہ ہیں انکو بھی معلوم ہے کہ کس رینک کے افسر کو آئی جی پنجاب تعینات کیا جاسکتا ہے ۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کی سیٹ پر پہلے بھی ایس ایس پی تعینات رہے ہیں یہ کوئی انہونی نہیں،یہ وزیر اعلیٰ کی صوابدید ہے وہ گریڈ 19 کے افسر کو گریڈ 20 کی سیٹ پر تعینات کرسکتی یا کرسکتا ہے۔ہاں انہونی اس وقت ضرور ہوسکتی ہے اگر کسی بہترین کام کرنے والے اے ایس آئی کو ایس ایچ او تعینات کردیا جائے ،کسی اے ایس آئی کو ایس ایچ او تعینات کرکے تاریخ رقم کی جاسکتی ہے اگر گریڈ 19 کا افسر کا افسر گریڈ 20 اور گریڈ 21 کا افسر گریڈ بائیس میں تعینات ہوسکتا ہے تو پھر ممکن ہو سکتا ہے کہ کوئی اے ایس آئی ایس ایچ او تعینات ہوسکے۔
سی آئی اے اور آرگنائزر کرائم یونٹ میں انسپکٹر بھی بطور ڈی ایس پی کام کرتے رہے ہیں قابلیت کی بنا پر کسی کی تعیناتی کی جاسکتی ہے
اپر کورس کرنے والے سب انسپکٹرز ایس ایچ اوز پہلے سے تعینات ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہورہے ہیں،ہر کوئی اپنے صوابدیدی اختیارات کے مطابق قابلیت اور میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھ کر تعیناتی کرسکتا ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہمیں پولیس افسران اور بیوروکریٹس کے سیاستدانوں سے تعلقات ہوتے ہیں اور رہیں گے بھی،ایسا چلتا رہے گا بہت ہی کم کوئی کسی کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے،وقت بدلتا ہے حکومتیں بدلتی ہیں پولیس افسر اور بیوروکریٹ وہی اور وہیں رہتے ہیں،سب سسٹم کا حصہ بلکہ ہر سسٹم کا حصہ ہوتے ہیں،اور سسٹم ایسے ہی چلتا ہے اور چلتا رہے گا کوئی ن لیگ کوئی پیپلز پارٹی کوئی قاف لیگ اور کوئی پی ٹی آئی دور میں اہم عہدوں پر تعینات رہا ہوگا یہ تعیناتیاں ہوتی رہیں گی سسٹم چلتا رہے گا کوئی آئے گا اور کوئی جائے گا یہ آنا جانا تو لگا رہے گا ۔
اس وقت آصف علی زرداری کی ایک پرانی بات یاد آگئی انہوں نے جوش خطابت میں کہا تھا کہ ہم نے یہیں رہنا ہے تم نے چلے جانا ہے،لوہے کے چنے بھی یاد ہونگے ،پاکستان ہمیشہ زندہ باد اور رہے گا ،اس ملک پر اللہ پاک کا خاص کرم ہے کہ شاد اور آباد رہے گا اور چلتا رہے گا،چہرے بدلتے رہیں گے مگر پاکستان یہیں رہے گا،جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا محاورہ سب نے سن رکھا ہے تو کیا بھینس کی جگہ سنڈا کیوں نہیں لے سکتا ۔
(جسکی لاٹھی اسکی بھینس)
(جسکا ڈنڈا اس کا سنڈا)
پاکستان زندہ باد



