
لاہور:(شہزاد فراموش) حلقہ اربابِ ذوق کے رواں سیشن کا14واں اجلاس پاک ٹی ہاؤس میں شہزاد نیر کی زیر صدار ت ہوا۔جوائنٹ سیکرٹری شہزاد فرامو ش نے گزشتہ خصوصی اجلاس کی کارروائی پیش کی۔
کنول بہزاد نے افسانہ ”دیوارِ سنگیں میں اک دریچہ“ واصف اختر نے نظم ”صدائے ہستی“ اور ڈاکٹر عابد سیال نے غزل تنقید کیلئے پیش کی۔مجلس میں موجود افراد کی آراء کے بعد صاحبِ صدارت نے کہا کہ کہانی بنیادی طور پر واہمے پر کھڑی ہے، واحد متکلم میں نپے تُلے جملوں میں لکھا گیا افسانہ ہے۔

انہوں نے اسے کامیاب قرار دیا جبکہ واصف اختر کی نظم کے بارے میں کہا کہ اس میں ایک سے زیادہ خیالات کی ندی بہہ رہی ہے۔میرے خیال میں اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

عابد سیال کی غزل کو کامیاب قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سینئر شاعر ہیں ان کے اسلوب میں انفرادیت ہے،غزل پڑھتے وقت اگر آپ کا دھیان کسی اور شاعر کی طرف نہیں جاتا تو اس میں انفرادیت ہے اور اس کے لئے عابد سیال شعوری کوشش کرتے ہیں۔

یہ استادانہ قسم کا کلام ہے اور اس میں متنوع مضامین سے ہیں۔بعدازاں نامور شاعرہ بسمل صابری کی وفات پر اظہار افسوس کیا گیا اوردعائے مغفرت کی گئی۔
حلقہ ارباب ذوق کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی اس لنک پر ملاحظہ کی جاسکتی ہے
حلقہ ارباب ذوق کا اجلاس،پروین شاکر، ادا جعفری، فہمیدہ ریاض کو خراج عقیدت پیش
شہزاد نیر نے اپنا کلام بھی سنایا اور بھرپور داد سمیٹی۔ آخر میں سیکرٹری حلقہ آفتاب جاوید نے صاحبِ صدارت شہزاد نیر، معزز مہمانوں اور حاضرین مجلس کا شکریہ اداکیا۔اجلاس میں 100کے قریب افراد نے شرکت کی اور حاضری رجسٹر پر85افراد نے دستخط کئے۔




