وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اجلاس ، سیلاب،آفات سے نمٹنے کیلئے انتظامات کاجائزہ
بروقت ،مؤثر اقدامات سے قیمتی انسانی جانوں، املاک ، انفراسٹرکچر کو بڑے نقصانات سے محفوظ بنایا جا سکتا:سہیل آفریدی

پشاور:(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت مون سون کنٹی جنسی پلان سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبہ بھر میں ممکنہ مون سون بارشوں، سیلابی صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے صوبائی و ضلعی سطح پر کیے گئے انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
سہیل آفریدی نے مون سون سیزن سے قبل تمام متعلقہ اداروں کو بھرپور پیشگی تیاریوں کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے قیمتی انسانی جانوں، عوامی املاک اور بنیادی انفراسٹرکچر کو بڑے نقصانات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے تمام ضروری فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا سستی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیاکہ صوبے کے تمام اضلاع میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز مکمل طور پر فعال کیے جائیں گے جبکہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی روسٹر نافذ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور مربوط ردعمل یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے حساس علاقوں کی ونریبلٹی میپنگ، سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز کی ٹریننگ اور ماک ایکسرسائزز پندرہ جون تک ہر صورت مکمل کرنے کی ہدایت جاری کی۔اجلاس کو بتایا گیا گلیشیئر جھیلوں، دریاؤں اور بارشوں کی روزانہ بنیادوں پر مانیٹرنگ جاری ہے جبکہ نالوں، برساتی چینلز، کلورٹس اور سیوریج لائنوں کی صفائی کیلئے صوبہ بھر میں خصوصی مہم جاری ہے۔ 4802 نالوں میں سے 4099 کی صفائی مکمل کی جا چکی ہے جبکہ 635 کلومیٹر سے زائد ڈرینج لائنز میں سے تقریباً 598 کلومیٹر کی صفائی مکمل ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ باقی ماندہ کام تیس مئی تک ہر صورت مکمل کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو فلڈ پروٹیکشن ورکس، ٹیلی میٹری سسٹم کی فعالیت اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مون سون سے قبل تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران 794 میں سے 524 تجاوزات ختم کی جا چکی ہیں جبکہ باقی کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ریسکیو 1122 حکام نے بتایا مون سون کنٹی جنسی پلان مکمل کر لیا گیا ہے اور مختلف اضلاع میں واٹر ریسکیو پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ریسکیو آلات، کشتیوں، واٹر پمپس اور دیگر ضروری سامان کی دستیابی اور فعالیت کی تصدیق پندرہ جون تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ادویات، آئی وی فلوئیڈز، اینٹی اسنیک وینم، او آر ایس اور دیگر ہنگامی طبی سامان کی وافر دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت بھی جاری کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیموں، نان فوڈ آئٹمز، ادویات اور دیگر امدادی سامان کے ایمرجنسی سٹاک کی پیشگی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ پندرہ جون سے قبل تمام مطلوبہ نان فوڈ آئٹمز کی فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ فیملی ٹینٹس، کچن سیٹس، ہائیجین کٹس، کمبل اور دیگر امدادی اشیاء کی دستیابی اور طلب کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے اضلاع کی ضروریات اور ونریبلٹی انڈیکس کے مطابق فنڈز کی ترجیحی تقسیم کی ہدایت بھی جاری کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے تمام 36 اضلاع میں کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور 1220 میں سے 1214 کمیٹیاں نوٹیفائی کی جا چکی ہیں۔
اجلاس میں سکولوں اور سی بی ڈی آر ایم مراکز میں ریلیف کیمپس کی نشاندہی اور تیاری 25مئی تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔محکمہ تعلیم نے 185 کیمپ سکولوں کیلئے ایجوکیشن کنٹینیوٹی پلان تیار کر لیا۔سہیل آفریدی نے فیلڈ سٹاف کی ایویکوایشن اور فرسٹ ریسپانس ٹریننگ 30 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام کلیدی افسران اور فیلڈ اسٹاف کی رابطہ فہرستیں فوری اپڈیٹ کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ نے ایکسکیویٹرز، لوڈرز، ٹریکٹرز اور دیگر ہنگامی مشینری کی مکمل تیاری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں عوامی آگاہی مہم کے تحت حفاظتی پیغامات، انخلا ہدایات اور ہیلپ لائنز جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے پیسکو اور محکمہ جنگلات کو بجلی کے کھمبوں، ٹرانسفارمرز اور خطرناک درختوں کے فوری معائنے کی ہدایت جاری کی۔ وزیراعلیٰ نے سیلابی علاقوں میں نہانے اور فشنگ پر دفعہ 144 نافذ کرنے کیلئے اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو آپریشن میں تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔محکمہ سیاحت نےبتایا سوات، کاغان، گلیات، چترال اور کمراٹ سمیت اہم سیاحتی مقامات پر مانیٹرنگ مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ 156 ٹورازم پولیس اہلکار اہم سیاحتی مقامات پر تعینات کر دیے گئے ہیں۔



